Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنامنہ اور مسور کی دال………… تحریر: محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

جب کوئی شخص اپنی حیثیت اور رتبے سے اونچی بات کرے یا اپنی قوت خرید سے باہرکسی قیمتی چیز کا تقاضا کرے تو اس کے لئے ”یہ منہ اور مسور کی دال“ والی کہاوت بولی جاتی ہے۔اکثر لوگوں کو اس کہاوت پر اعتراض تھا کہ مسور کی دال کونسی مہنگی چیز ہے۔ اس کی جگہ”یہ منہ اور ماش کی دال“ ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ ماش کی دال ہر دور میں مقبول رہی ہے۔ مغل شہنشاہ بابر بھی اسے بڑے شوق سے کھاتے تھے۔لیکن اپنے بارے میں کہاوت کو سچ ثابت کرنے کے لئے مسور نے بھی اپنی اہمیت جتانی شروع کردی۔چالیس پچاس روپے میں بکنے والی وہی مسور کی دال آج120روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔آج کسی دیہاڑی دار مزدور، محنت کش، کسان اور تنخواہ دار شخص کے گھر میں مسور کی دال پکے تو اسے عیاشی قرار دیا جاتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ سینچری کا ہدف عبور کرنے کے باوجود بھی مسور کی دال اپنی ہم عصردیگر دالوں کی نسبت ارزاں ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ماش کی دال نے ڈبل سینچری مکمل کرلی ہے اور اب ٹرپل سینچری کی طرف گامزن ہے۔ مونگ کی دال بھی 180،لوبیا170اور طوطی دال بھی 180روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت میں اچانک بیس روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے۔ مگر سرکار کی طرف سے جو نرخنامہ جاری کیاگیا ہے اس میں دالوں اور گھی و آئل کی دس پندرہ سال پرانی قیمتیں درج ہیں۔نجانے سرکاری ادارے ہاتھی کے کان میں رہتے ہیں یا کسی دوسری دنیا کے باسی ہیں۔انہیں زمینی حقائق کا علم ہی نہیں ہوتا۔ جب سرکار ہی عوام کے مسائل سے سروکار نہ رکھے تو سرکاری اہلکاروں سے کیا گلہ کرنا۔ گذشتہ روز کسی دل جلے صحافی نے وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں بازار میں ٹماٹر کس بھاو بکتے ہیں تو مشیر خزانہ نے بڑی معصومیت سے جواب دیا کہ یہی کوئی سترہ اٹھارہ روپے کلو بکتے ہوں گے۔ حالانکہ اسی روز کے اخبارات میں خبر چھپی تھی کہ کراچی اور لاہور میں ٹماٹر 220اور پشاور میں 180روپے کلو فروخت ہورہے ہیں۔یادش بخیر کسی نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے آلو کے بھاو پوچھے تو جواب ملا کہ آلو تو منڈی میں پانچ روپے کلو دستیاب ہیں۔ حالانکہ اس وقت آلووں کی قیمت 80روپے کلو چل رہی تھی۔بڑے لوگوں کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں جو ”عام لوگوں“ کی سمجھ اور حقائق سے بالاتر ہوتی ہیں۔فرانس کی شہزادی کا مشہور قول ہے کہ لوگ روٹی مہنگا ہونے پر شاہی محل کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ شہزادی نے کہا کہ روٹی مہنگی ہوگئی تو کیا ہوا؟ یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے۔ہماری حکومت مہنگائی کی صورتحال سے غافل نہیں ہے۔ وفاقی حکومت نے عوام کو روزمرہ ضرورت کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں یوٹیلٹی سٹور کو چھ ارب روپے جاری کرنے کئے گئے ہیں۔حکومت اقدامات ہی کرسکتی ہے ان کے ثمرات عوام تک پہنچانا تو سرکاری محکموں کی ذمہ داری ہے وہ اگر اپنے فرائض منصبی کی بجاآوری میں کوتاہی برتیں گے تو اس میں حکومت کا کیا قصور ہے۔ ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ نے بھی پرائس کنٹرول سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس بلاکر سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا جائے۔مارکیٹ ایکٹ کو تمام اضلاع میں نافذ کیا جائے۔ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کرکے اس کی خود نگرانی کرے اور ہر مہینے کمیٹی کا اجلاس بلایاجائے اور ہر تیسرے مہینے صوبائی حکومت کو رپورٹ دی جائے۔ پھر بھی اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں تو حکومت کا کیا دوش ہے؟ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ صرف ٹماٹر یا پیاز کی قیمت بڑھتی تو حکومت اس کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیتی۔ یہاں ہر چیز ہیرے موتیوں کے دام بکتی ہے۔دالیں، گھی، آئل، سبزی، پھل، مصالحہ جات، آٹااور کھانے پینے کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں سو فیصد سے دو سو فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی قیمت کیا بڑھی ہے کہ غریب کے منہ سے نوالہ ہی چھن گیا۔ پہلے زمانے میں ہرسال بجٹ میں کچھ اشیاء پر ٹیکس لگائے جاتے تھے جس سے قیمتوں میں چند روپے، آنے اور پیسے کا اضافہ ہوتا تھا۔ اب مہینے میں دو مرتبہ تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ردوبدل کے نام پر ہوشرباء اضافہ کیا جاتا ہے۔ جب یہ تینوں سہولتیں مہنگی ہوجائیں تو تمام مصنوعات کے ریٹ خود بخود بڑھ جاتے ہیں ارباب اقتدار و اختیار نے پالیسیاں ہی ایسی بنائی ہیں کہ بااثر طبقہ امیرتر ہوتا جائے اور غریب پھوٹی کوڑی کا محتاج رہے۔اگر و ہ احتجاج بھی کرے گا۔ توقہر درویش برجان درویش کے مصداق ہوگا یا پھر ریاستی طاقت سے اسے کچلا جائے گا۔ متوسط، غریب اور تنخواہ دار طبقے کو صبر کا دامن مضبوطی سے تھام کر انتظار کرنا چاہئے۔مہنگائی کم کرنے کے اقدامات کے ثمرات کسی نہ کسی دن ان تک پہنچ ہی جائیں گے۔


شیئر کریں: