Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کراچی، ربیع الاول کی مناسبت سے کھوار زبان میں‌طرحی وغیرطرحی مشاعرہ

Posted on
شیئر کریں:

کراچی(قاری شمس الدین سے) کراچی میں مقیم چترال اور شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اہل کہوار کے لیے ربیع الاول کی مناسبت سے شاندار طرحی و غیر طرحی کہوارمشاعرہ جامعہ انوار العلوم شاد باغ ملیر میں منعقد ہوا جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چترالی کمیونٹی کے معززین شعراء اور دینی مدارس و کالجزو یونیورسٹیوں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی پہلی نشست کی صدارت ڈاکٹر فتح الدین نے کی جس میں معروف ادیب و شاعر مولانا نقیب اللہ رازیؔ کے کلام سے مصرعہ طرح ”تہ ذاتہ گیتی ختم نبوت بیرو آقا“ پر سینئر اور نوجوان شعراء نے اپنا م نعتیہ کلام پیش کیا۔دوسری نشست غیر طرحی مشاعرے کی تھی جس میں معروف شعراء مولانا نظام الدین شاکرؔ،اقبال الدین ہمدردؔ، محمد بیگ طریقیؔ، لطیف الرحمن لطفؔ،شریف حسین مخمورؔ، افضل اللہ افضلؔ، حسین ولی شاہ، منورحسین شاکرؔ ودیگر نے مختلف سیاسی سماجی ثقافتی اور اصلاحی موضوعات ہر سنجیدہ اور مزاحیہ کلام پیش کیا۔مشاعرے کے آخر میں خطاب کرتے ہوئے معروف کالم نگار مولانا محمد شفیع چترالی نے کہا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ محبت ہر مسلمان کا اثاثہ بھی ہے اور آپ کی ذات والا صفات ہر مسلمان نوجوان کے لیے بہترین رول ماڈل بھی ہے۔آپؐ سے محبت وہ نقطہ اتحاد ہے جس پر امت کے مختلف طبقات کو جمع کیا جاسکتا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو فرقہ وارانہ وابستگی سے بالاتر ہوکر سیرت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سیرت کے پیغام کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم چترال اور شمالی علاقوں کے باسی فطرت کے زیادہ قریب رہنے کی وجہ سے بہترین شعری صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ فن شاعری کو باقاعدہ طریقے سے سیکھا جائے اور عروض و قوافی کے اصولوں کے مطابق شعر کہنے کی کی کوشش کی جائی۔جامعہ انوار العلوم کے مہتمم مفتی شفیق الرحمن گلگتی نے ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی اور چترال اور گلگت کے کھوار بولنے والے افراد کا بڑی تعداد پروگرام میں آمد پرشکریہ ادا کیا۔ شعراء اور مہمانوں میں اعزازی شیلڈ تقسیم کیے گئے۔
karachi khowar mushaira 1

karachi khowar mushaira 4


شیئر کریں: