Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحت کے شعبے میں بنیادی اصلاحات ……….عنایت جلیل قاضی

شیئر کریں:

بچپن سے ہمیں بھی ڈاکٹر بننے کا بڑا شوق تھا۔اِسی شوق کی خاطر بچپن میں گھر چھوڑا۔جماعت نہم میں سایئنس مضامین لیکر میٹرک فرسٹ ڈویژن میں کرنے کے بعد کالج پہنچے،مگر تقدیر کو منظور نہیں تھا اور ہم ڈاکٹر نہ بن سکے، البتہ طبی نمائیندہ ضرور بن گئے۔ ہم نے اس پروفیش میں بھی خوب مزے کیئے۔کیوں کہ وہ دؤر اِس پروفیشن کا سنہرا دؤر تھا،طب کا پیشہ تجارت نہیں تھا، اِخلاقیات ذندہ تھے۔ ہم مختلف ملٹنشنل آرگانیزیشن میں رہے،ترقی کرکے صوبائی منیجر بنے، اس پروفیشن کا سب سے بڑا عالمی ایوارڈ جیتا،کئی ممالک کی سیئر کی۔ سب سے بڑھ کر اپناصوبے کے ہر گھاٹ سے پانی پینے کا موقع ملا۔صوبے میں موجود ڈاکٹرز اور طبی سہولیات کو قریب سے د یکھنے کا موقع ملا۔1990 کی دھائی میں جب ہم میرانشاہ ایجنسی ہسپتال جاتے تھے تو ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ایم ا یس ڈاکٹر ہاشم کے زیر نگرانی ہسپتال ہر لحاظ سے چمکتا دمکتا تھا، اور ہم ہر جگہ اِس ہسپتال کی مثالیں دیتے پھرتے تھے۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ ڈاکٹرز کلکولیٹر لیکر کلینکس چلانے لگے، دوا کی معیار کی بجائے لین دین کی بات ہونے لگی،تو ہم نے بھی اس پروفیشن کو آنسووں کے ساتھ خیرآباد کہہ دیا۔
.
پی ٹی آئی کی پچھلی صوبائی حکومت نے ڈاکٹرز کیلئے ایک زبردست پیکچ کا اعلان کیا تھا، جس سے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز خوش، جبکہ بڑے شہروں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی تھی۔کیوں کہ ہسپتال بہتر ہونے سے اُن کی پرایؤٹ پریکٹس کو زوال آ سکتا ہے جو کسی بھی صورت اُن کو قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ صحت کے شعبے میں کوئی بھی اصلاحتی ایجنڈہ ماننے کو تیار نہیں۔ بہر حال ڈاکٹرز کیلئے مراعات کا اعلان خوش آیندہے، ساتھ ساتھ ہسپتالوں کو مریض دوست “Patient friendly” بنانے کیلئے بھی اقدامات کی اشد ضرورت ہے،ورنہ اس پیکیچ کا مریضوں کو کوئی فائدہ نہں ہوگا۔
.
صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے حوالے سے سب سے پہلی چیز تعمیرات سے ہے۔ سب سے پہلا کام BHUs کی تعداد بڑھانے کاہے تاکہ ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں پر بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ تعمیرات علاقے کی آب وہوا کے مطابق ہونی چاہئے۔ مثلا صوبے کے جنوب کی طرف گرمی ذیادہ پڑتی ہے، لہٰذ،اِن علاقوں میں ہسپتالوں کی تعمیر حرارت گریز ہونی چاہئے، جبکہ شمالی اضلاع میں ٹھنڈ ذیادہ ہوتی ہے تو ان علاقوں میں ہسپتالوں کی تعمیر ٹھنڈ گریز ہونی چاہئے۔ ہسپتالوں میں گُنجائش علاقے کی آبادی کو مد نظر رکھ کر ہو نی چاہئے۔تعمیرات کے سلسلے میں واش رومز کا بھی بہت بڑا مسلہ ہے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر واش رومز وارڈ سے کافی فاصلے پر بنا ئے جاتے ہیں اور کمزو ر، اپریشن ُشدہ مریضوں کو وہاں تک لے کر جانا اور واپس لانا اِنتہائی تکلیف دہ کام ہوتا ہے۔
.
تعمیرات کا دوسرا مرحلہ عمارات کی دیکھ بال اور مرمت سے ہے۔ سرکاری عمارتوں کی تعمیرات کا بنیادی کام ناقص ہوتاہے اور مرمت کاکام نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی مرمت انتہائی ضرووری ہے کیوں کہ بوسیدہ عمارت کی صفائی نا ممکن ہو جاتی ہے اور یہ آہستہ آہستہ جراثیم کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔وا ش روم کی نامناسب تعمیراور دیکھ بال نہ ہونے سے پانی رِسکنا شروع ہوجاتا ہے اور عمارت کو زنگ لگ جاتی ہے۔
.
اصلاحات کے حوالے سے دوسرا قدم اہسپتالوں کو جدید ٓالات سے آراستہ کرکے اُن کی دیکھ بال و مرمت کرنے کا ہے۔ صوبے کے اکثر ہسپتال جدید آلات سے محروم ہیں۔ جہاں کہیں آلات موجود ہیں تو استعداد والے اہلکار موجود نہیں۔ اگر ہم دیانتداری سے پورے صوبے کی ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یقینا حالات انتہائی نا گفتہ بہ ہیں۔ کروڑوں روپے کی مشنری دانستہ یا غیر دانستہ طور پر خراب کردی گئی ہیں۔اِس کے پیچھے بھی ہسپتالوں کے اندرونی اور بیرونی مافیا کا ہاتھ ہے تاکہ اُنکی پرائیوٹ مشینیں چلتی رہیں۔ اِن مشینوں کی مرمت اور مناسب دیکھ بال سے حکومت کروڑوں روپے کی بچت کرسکتی ہے۔ ہر ہسپتال کیلئے ایک الیکٹرو میڈیکل انجینئر کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جس کے نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی مشینیں ناکارہ ہوجاتی ہیں، اور حکومت نئی مشینری کی خریداری پر دوبارہ کروڑوں لگاتی ہے۔
.
ہسپتالوں کو مریض دوست بنانے کے حوالے سے تیسرا کام عملے کا انتخاب ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ہمارے ہاں سر کاری اداروں میں چار قسم کی ملازمیں پائی جاتی ہیں۔ پہلا طبقہ ان اہلکاروں کا ہے جن میں صلاحیت ہے نہ ایمانداری (No competency, No envolvement) ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سفارش اور نوٹ کے ذریعے اِن عھدوں پر قابض ہوجاتے ہیں۔یہی لوگ پھر امپلائز یونیئن میں گُھس کر اُن کو بطورڈھال استعمال کرکے اپنے آپکو بچالیتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کا دوسرا طبقہ وہ ہے جن میں اسعتداد کم لیکن ایمانداری ذیادہ ہوتی ہے (Low competency,High envolvement)۔یہ اچھے لوگ ہوتے ہیں اور ان کی استعداد بڑھا کر اُن کو بہترین کارندہ بنایا جا سکتا ہے۔تیسراطبقہ وہ ہے جن میں استعداد ذیادہ لیکن ایمانداری کم ہوتی ہے (High competency,Low envolvement)۔ یہ لوگ بھی اداروں اور عوام پر بوجھ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ بُنیادی طور پر بد دیانت ہوتے ہیں۔چوتھا طبقہ وہ ہے جن میں استعداد اور ایمانداری دونوں موجود ہوتی ہیں (High competency, High envolvement)۔ یہ لوگ کسی بھی ادارے کیلئے قیمتی اثاثے ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کی حوصلہ افزائی اور کیرئیر میں ترقی انتہائی ضروری ہے۔چونکہ ہمارے سرکاری اداروں میں سزا جزا کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے لہذا سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا جاتاہے۔ پھر غاصب نظام غاصب کو ہی سپورٹ کرکے ایماندار کو کھڈے لین لگا دیتا ہے۔ ہسپتالوں میں انسان دوست، سماجی ذہنیت اور اہلیت والے عملے کی بھرتی ضروری ہے(Right person for the right job)۔ پولیس کیلئے ٖ فٹ انسان ہسپتال میں کبھی معقول کارندہ نہیں بن سکتا۔ ہسپتالوں میں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں جن کی بروقت تعیناتی سے کئی مسائل حال ہوسکتے ہیں۔
.
ہسپتالوں کے حوالے سے چوتھی اہم چیز صفائی ہے۔ ہسپتال میں ٹنوں کے حساب سے کچرا پیدا ہوتا رہتا ہے لیکن اِس کو ٹھکانے لگانے کا انتظام صرف بڑے ہسپتالوں تک محدودہے،چھوٹے ہسپتالوں میں اِسکا کوئی معقول انتظام نہیں ہوتا۔ اس کیلئے جدید مشنری اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہسپتال اِن دونوں سہولیات سے محروم ہیں۔ہسپتال کی صفائی کا عملہ بازار کے کسی کونے میں پبلک لیٹرین سجائے بیٹھا ہوتا ہے یا کسی افسر کے گھر میں ذاتی ملازم کی حئیثت سے کام کر رہا ہوتا ہے۔دوسری اہم چیز طبی اؤزار کی صفائی ہے۔ اس حوالے سے بھی سرکاری ہسپتالوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ ہسپتال کے اندر نظام ہے نہ عملہ اور نہ فکر۔ یہی وجہ ہے کہ نان اسٹرالاز ئیڈ آلات کی وجہ سے ایک بیماری کے ساتھ آنے والا مریض دس امراض لیکر گھر لوٹ جا تاہے۔ اِن اوزاروں کی صفائی کے حوالے سے جامع SOPs بناکر اُن پر عمل درآمد کو یقینی بناناچاہئیے۔
.
ہسپتالوں کیلئے ُپانچویں چیز پاوریعنی بجلی اور گیس کی بلا تعطل سپلائی ہے۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ اگر ڈیرہ اسماعیل خان کے کسی ہسپتال میں ایک سرجری ہورہی ہے اور انتہائی نازک موقع پر بجلی چلی جاتی ہے تو وہ سرجن، جس کو ائیر کنڈیشن کی لت پڑی ہو،جن کے گھر گاڑی اور کلینک سب ایر کنڈیشنڈ ہو، وہ ایسی حالت میں دو منٹ بھی اپریشن تھیٹر میں نہیں گذار سکتا، اگر رہ بھی جائے تو کام نہیں کر سکتا یاچترال کی منفی پانچ ڈگری کی سردی میں کس طرح ایک سرجن آلات جراحی تھام کر اپریشن کر سکتا ہے؟۔ لہذا تمام ہسپتالوں کیلئے انرجی سکیم ہونی چاہئے۔ ہسپاتالوں کے لئے علیحدہ ٹراسفرمرز ہونی چاہئے جو لوڈ شیڈنگ سے مُبّرا ہو۔اسٹینڈ بائی جنیریٹر ہر ہسپتال کی ضروررت ہے جس کیلئے معقول بجٹ کا ہر وقت دستیاب ہونا ازحد ضروری ہے۔ ٹھنڈے علاقوں میں ہیٹنگ اور گرم علاقوں میں کولنگ کا اہتمام ہونا چاہیے، تب جاکے مریضوں کو فائدہ ہوگا۔
.
ہسپتالوں کی چھٹی ضرورت پانی ہے جو ہر ذی روح کیلئے بنیادی چیز ہے لیکن ہسپتالوں کے حوالے سے اس کی اہمیت سب سے بڑہ کر ہے، کیونکہ صاف پانی کے بغیر صحت کا تصور ہی ممکن نہیں۔ ہسپتالوں میں دو بڑے مقاصد کیلے پانی چاہئے۔ ایک پینے کیلئے صاف پانی جو ہر قسم کی آ لودگی، ملاوٹ اور جراثیم سے پاک ہو۔ اس کی مثال کچھ اس طرح دی جا سکتی ہے کہ ایک انسان اسہال کی بیماری لیکرہسپتال آتاہے جو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن الودہ پانی کی وجہ سے وہ یرقان کا شکار ہوجاتاہے۔ انداذہ کیجئے کہ ہسپتال آنا اُس کیلئے کتنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔حکومت ہسپتالوں میں صاف پانی مہیا کرے تاکہ مریض پانی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماروں سے محفوظ رہے۔ دوسری یہ کہ صفائی کیلے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو، تاکہ ہسپتال کی اسانی سے ُدھلائی کی جاسکے۔ کہتے ہیں کہ ایک ہسپتال کی پانی کی ضرورت ایک پورے قصبے سے ذیادہ ہوتی ہے۔ حکومت تمام ہسپتالوں میں اِس بنیادی ضرورت کو یقینی بنائیں۔
ہسپتالوں میں اصلاحات کے حوالے سے ساتویں اہم نکتہ عملے کیلئے مسلسل تعلیم و تربیت (CME) کا اہتمام ہے۔ ہفتے میں ایک دن اِس کیلئے مختص کرکے سنیئر ڈاکٹرز سے جونیئرز کیلئے لیکچر اور تربیت کا بندوبست کروانا چاہئے۔ سال میں ایک دفعہ تمام عملے کیلئے ایڈوانس ٹریننگ کا بندوبست ہونی چاہئے، جس میں پپلک ڈیلنگ اور استعداد بڑھانے کے کورسس شامل ہو۔ سرکاری محکموں میں کرپٹ سسٹم کے اندر لوگوں کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں،جس طرح پرایؤٹ اداروں میں عادات واطوار، اور رویوں کی تبدیلی کیلئے کورسس کروائی جاتی ہیں اسی طرز کے کورسس سرکاری ملازمیں کیلئے بھی ہونی چاہئے تاکہ منفی سوچوں کو مثبت میں تبدیل کیا جاسکے۔ ہسپتالوں میں عام اور برقی لائبریریز کاضرور اہتمام ہونی چاہیئے۔تاکہ Continous Medical Education سے ملازمین کے علم اور استعداد میں مسلسل اِضافہ ہوتارہے۔
.
اسی سلسلے میں اٹھویں اہم بات سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کی موجودگی ہے۔اس حوالے سے دیکھا جاے تو صورت حال کچھ ذیادہ بہتر نہیں ہے۔ پچھلے سال کالے یرقان کی ویکسین کا مسلۂ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے ملک میں چھء اقسام کی ادویات موجود ہیں۔ ملٹی نیشنل، نیشنل، تھرڈ پارٹی مینوفیکچر ڈ غیر معیاری ادویات، درآمد شدہ غیرمعیاری ادویات، سمگل شدہ ہندوستانی اورایرانی غیرمعیاری ادویات اور مشہور برانڈز کے ناموں پر جعلی ادویات۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۰۸ فیصد سے ذائد برانڈز کم معیار،یعنی مضر صحت ہیں۔ ہسپتالوں میں جو ادویات موجود ہیں اُن میں سے اکثر کی منوفکچررز کا پتہ ہی نہیں چلتا،اگر ہوتا بھی ہے تو وہ کوئی معروف ادارہ نہیں ہوتا۔ لہذا حکومت اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری ادویات کسی معروف کمپنی کی ہو،ورنہ غیر معیاری دوا مفت دینے سے نہ دینا بہتر ہے۔ہسپتالوں میں معیاری ادویات آبادی کے تناسب اور بیماریوں کی رجحان کے مطابق دستیاب ہونی چاہئے۔اس سلسلے میں ایک اور بُنیادی مسلہ ہسپتالوں کے اندر فارماسسٹ کا نہ ہونا ہے۔ فارماسسٹ ہی وہ بندہ ہوتا ہے جو ادویات کی جزیات کو سمجھ سکتا ہے،اِس اسامی پرایف اے پاس بابو کو بیٹھاناکسی بھی طور پر مُناسب نہیں ہے کیونکہ وہ right person for the right job نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نان پروفشنل عملے کے ہاتھوں لاکھوں روپے کی ادویات زائدلمیعاد ہوکر کچرے کا ڈھیر بن جاتی ہیں اور کسی کو پرواہ ہی نہیں ہوتی۔
.
آخری کام مانیٹرنگ کا ہے۔ گرچہ ادارے کافی ہیں لیکن سب گنگا میں ایک ساتھ نہانے والے ہیں۔ سننے میں آتا ہے کہ ہسپتالوں کے فنڈز سے مانیٹرنگ ٹیم کیلئے خصوصی حصہ مختص کیاجاتاہے جو مانیٹرنگ کے وقت اُن کے جیب میں ڈالکر اپنی مرضی کی رپورٹ بنوائی جاتی ہے۔اور سب اچھا ہے کی رپورٹ،تحائف کے ساتھ بڑوں تک پھنچا دیا جاتاہے اور مشترکہ ڈکار پر بات ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت حقیقت پر مبنی مانیٹرنگ اور ایویلویشن پالیسی بنواکر اس پر عملداری کو یقینی بنوائیں۔ محنتی، دیانتدار اور قابل عملے کی ستائش،ترغیب اور ترقی کے زریعے حوصلہ افزائی کی جائے،ٍ تب جاکر اصلاحات کا فائدہ مریضوں تک پھونچ سکتا ہے۔ان ساری باتوں پر عمل کرکے سرکاری ہسپتالوں کو مریض دوست(Patient friendly)بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کی تنخوا بڑہانے سے مریض کو کوئی فایدہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ بڑے ڈاکٹروں کیلئے یہ اضافی رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔یہ رقم اُن کی ایک دن کی آمدنی کا چوتھائی بھی نہیں ہے۔


شیئر کریں: