Chitral Times

Aug 13, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اللہ کی محبت ………تحریر:رمیشہ جلیل، یونیورسٹی آف پشاور

Posted on
شیئر کریں:

ساری دنیا کے غموں سے تھک ہار کر،وہ سکون کی تلاش میں، سمندر کے کنارے آپہنچی۔عبایا اور حجاب زیب تن کئے ہوئے،چہرے پر ڈھیر ساری معصومیت کے ساتھ ساتھ،اداسیاں،محرومیاں، تکالیف،اپنوں کے چھوڑ جانے کا غم لے کر وہ ایک پتھر پہ بیٹھ کراپنے سوچوں کے سمندر میں گم ہوگئی۔آنکھوں میں بھرے اشک باہر نکلنے کو بے تاب،کسی ستارے کی طرح چمک رہے تھے۔اسی اثنا میں ایک نورانی چہرے والا درویش، جو کافی دیر سے اس اداسی کے پتلے کو دیکھے جارہاتھا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے سوچوں کے سمندر میں گم تھی، اس کی طرف چلنے لگا۔اپنے پاس کسی کے آنے کی آہٹ کو محسوس کرکے ان اداس آنکھوں نے اس درویش کی جانب دیکھا۔ درویش اسے دیکھ کر مسکرائے اور سلام کیا۔اس نے بھی ہلکا پھلکا جواب دیا۔ درویش اس کے قریب ایک پتھرپر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، لگتا ہے تھک گئی ہو؟ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کے بولی،جی بابا۔ درویش بولے، تھک تو گئی ہو مگر ایسا کچھ نہ کرنا،جس سے رب کو ناراض کردو۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں دیکھا تو وہ بولے: بیٹا کوئی غلط قدم نہ اٹھانا۔ درویش کی بات سن کر وہ تھوڑے مایوسی سے بولے، ایک اللہ ہی تو مجھ سے راضی ہے بابا،اسے ناراض کرکے میں نے کہاں جانا ہے۔درویش اپنے اسی مخصوص مسکراہٹ کو ہونٹوں پر سجائے ہوئے بولے، جب اللہ کی رضا اور محبت ساتھ ہو تو، پھر کس بات کا غم،اللہ کی محبت اوررضازندگی گزارنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔درویش کی بات سن کروہ اپنا رخ انکی جانب موڑ کر بولی،بابا اگر اللہ کی محبت زندگی گزارنے کے لئے کافی ہے تو اللہ نے انسان کی محبت کیوں بنائی ہے؟درویش بولے،بیٹا اگر انسان کی محبت نا ہو تی تو اللہ اپنے بندوں کو کیسے آزماتا؟انسان کی محبت ہی وہ آزمائش ہے جس کے ذریعے بندہ یا تو اللہ کے قریب ہو جاتا ہے یا اس سے دور ہو جاتا ہے اور اللہ کے نیک بندوں پر تو ایسی آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔یہ سن کر وہ تڑپ کے بو لی نیک بندوں پر ہی کیوں بابا؟وہ تو اللہ سے محبت کرتے ہیں،اللہ کی ہر بات مانتے ہیں،پھر ساری مشکلات،پریشانیاں انہی کے نصیب میں کیوں ہو تی ہیں، انھے تو ساری خوشیا ں ملنی چاہئیے؟۔درویش بولے بیٹا اللہ اپنے نیک بندوں پر آزمائیش لاتا ہے لیکن ان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا اور بیٹا جس انسان کے دل میں اللہ کی محبت ہو انھے ان مشکلوں سے کوئی فرق نہی پڑتا،اللہ کی محبت انکی سب سے بڑی طاقت بن جا تی ہے جو ہر مشکل حالات میں لڑنے مدد دیتی ہے۔کچھ دیر دونوں کے بیچ خاموشی رہی پھر وہ لڑکی بو لی،بابا آپ سے ایک بات پوچھو؟وہ بولے جی بیٹا پوچھو،بابا اللہ پر یقین کیسے مضبو ط ہوتا ہے؟میں نے دیکھا ہے جن لو گو کا اللہ پر یقین مضبوط ہے وہ بہت پر سکون رہتے ہیں، اگر انھیں اللہ سے کچھ چا ہیے ہوتا ہے تو وہ اللہ سے ایک بار مانگتے ہیں اور وہ انکی خواہش پوری کر دیتا ہے۔ درویش بولے بیٹا اللہ پر یقین ہی اللہ سے محبت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے،اس سیڑھی پہ چڑھ گئی تو اللہ کی محبت میں بلند یاں ہی ملیں گی،جن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کا اللہ پر توکل بھی مضبوط ہوتا ہے اور یہ توکل تو پل پل ٹوٹنے سے ہی مضبوط ہوتا ہے۔بس انسان کو صبر کا دامن نہیں چھوڑناچاہیے۔درویش کی بات سن کر اس سارے گفتگو کے دوران وہ پہلی بار مسکرائی جیسے کافی عرصے بعد سکون مل گیا ہو،اس کے چہرے پر جہاں تھوڑی دیر پہلے تکلیف اور مایوسی تھی،اب اطمنان نظر آ رہا تھا۔وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور درویش کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے چلی گئی۔


شیئر کریں: