Chitral Times

Nov 14, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • آرزوئے سحر……..مت پھینک کہ ہونٹ سلے ہیں تیرے…….. تحریر: انشال راؤ

    November 9, 2019 at 9:20 pm

    صحافت ایک مقدس پیشہ ہے صحافی حضرات جانوں کے نذرانے دیکر اصل حقائق عوام تک پہنچاتے ہیں، صحافت معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان کے ساتھ ساتھ ملک کا چوتھا ستون ہے، صحافت کی چمک دمک ہر خاص و عام کو نظر آتی ہے لیکن درحقیقت یہ ایک وادی پرخار بھی ہے جہاں جان کے ساتھ ساتھ ایمان پر بھی شدید حملے ہوتے رہتے ہیں، ابتک بیسیوں صحافی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوے جام شہادت نوش کرچکے ہیں، یوں تو بہت سے لوگ صحافت کے پیشے سے منسلک ہوجاتے ہیں لیکن اس کی نزاکتوں و تقاضوں کو بہت کم ہی سمجھتے ہیں اور اس مقدس و باوقار شعبے کی لاج رکھتے ہیں، جہاں دنیا نے ترقی کی ہے تو وہیں صحافت کا دائرہ بھی بہت وسیع ہوگیا ہے، پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا ہر آدمی کی رسائی میں ہے تو ساتھ ہی سوشل میڈیا بھی اپنے عروج پہ ہے جن کے زریعے معلومات کا سیلاب امڈ آیا ہے ایسے میں بہت سے سماج دشمن و سازشی عناصر اپنی غلاظت اس مقدس سیلاب میں انڈیل دیتے ہیں جو آہستہ آہستہ ایک گندے پانی کے جوہڑ کی شکل اختیار کرگیا ہے اور جب کسی نے اس گندے و گدلے پانی میں پتھر مارا تو اس میں حرکت پیدا ہوئی جو لہروں کی شکل میں دور دور تک جانے لگی تو بہت سے مینڈکوں و بلیتروں کو تکلیف ہوئی تو انہوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ صحافت پہ قدغن لگائی جارہی ہے، آزادئ اظہار کا حق حاصل نہیں، صحافتی آزادی میسر نہیں وغیرہ وغیرہ.
    .
    دلچسپ بات یہ کہ ماضی کی صحافیوں کی قربانیوں کو بطور ڈھال پیش کرکے اخلاق باختہ پکڑے جانے کے باوجود ڈھٹائی سے غازئ ملت بن کے دکھاتے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ماضی میں مختلف آمروں و نام نہاد جمہوریوں کے ہاتھوں صحافت و صحافیوں نے بہت سی سختیاں جھیلیں، جیلیں بھگتیں، مقدمات کا سامنا کیا، بیروزگار ہوے، تشدد برداشت کیا، اخبارات و دفتروں کو جلایا بھی گیا، بہت سے صحافی شہید کیے گئے مگر اس کے باوجود “یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے” کے مصداق اپنے فرض پہ ڈٹے رہے لیکن اس کے بالکل برعکس آج کچھ حضرات زبردستی کے غازی و مجاہد بنے پھر رہے ہیں جو گذشتہ ادوار میں سیاستدانوں، سرمایہ داروں، مافیاوں کے ساتھ بغل گیر رہے ان کے زریعے قوم کے پیسوں پہ عیاشی کرتے رہے بدلے میں ان کے مفادات کو پھیلانے میں مصروف عمل رہے لیکن جب چند لٹیرے سیاہ سیوں و سرمایہ داروں پہ ہاتھ ڈلا تو نام نہاد صحافیوں کی عیاشیوں پہ بھی لات پڑ گئی جس طرح “چیل شور زیادہ مچاتی ہے” اسی طرح ان حضرات نے بھی رٹا رٹایا جملہ “صحافت پہ قدغن” کا راگ الاپنا شروع کردیا.
    .
    خیر ایک صفت تو ہے ان میں جس کا ذکر نہ کرنا بھی خیانت ہوگی اور وہ یہ کہ وفاداری و فرمانبرداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے مالکان پہ کڑا وقت آیا تو انکا پورا پورا ساتھ دے رہے ہیں یہ ہوتی ہے نمک حلالی یہ ہوتی ہے وفاداری، اچھا یہ بیانیہ صرف چند صحافی حضرات کا ہی نہیں بلکہ کچھ سیاستدان بھی انکے ساتھ ایک پیج پر ہیں اور سب کے نشانے پہ ملکی سلامتی کے ادارے ہی ہوتے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہی کی مثال لے لیں کہ موصوف صبح، دوپہر، شام ورد کرتے ہیں کہ آزادئ اظہار حاصل نہیں جبکہ یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ ہر ٹاک شو میں ان کا کوئی نہ کوئی نمائندہ اپنا موقف آزادانہ دے رہا ہوتا ہے اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی نہیں جبکہ یہ وہی مولانا فضل الرحمان ہیں جن کو آج اسلام آباد کی جدائی نے اسلام بھی یاد کروادیا ہے جسے پہلے کبھی اسلام یاد نہیں آیا.
    .
    نائن الیون کے بعد سے نواز دور تک علما کی زبانوں پر جس طرح تالے لگائے گئے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں مگر اس پورے اٹھارہ سالہ عرصے میں کوئی ایک بھی لمحہ ایسا نہ آیا جو موصوف کو یہ احساس ہوا ہو کہ اظہار رائے پہ پابندی ہے یہی وہ میڈیا تھا جو دن رات علما و مدارس کو دفن کرنے پہ تلے تھے تب مولانا صاحب کو کبھی شکایت نہ ہوئی کیونکہ اس وقت مولانا صاحب اسلام آباد سے جڑے بیٹھے تھے، لال مسجد تو سب کو یاد ہوگی اور مولانا صاحب کا موقف پھر APC لندن شرکت کے لیے روانگی بھی یاد ہوگی پھر مگرمچھ کے آنسو اور اسی لال مسجد سے ہمدردی و کسی بیرونی ہاتھ کے مفاد کے لیے بطور کارڈ استعمال کرنا بھی بھولے نہیں ہونگے کیونکہ اس وقت لال مسجد کارڈ مشرف حکومت کے خاتمے کے لیے استعمال ہوا تھا جیسا کہ رمزفیلڈ نے صدر بش کو میمو لکھا تھا کہ امریکہ کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک میں بھی حکومت کی تبدیلی انتہائی ضروری ہے پھر ویسا ہی ہوا، کسی بھی سیاستدان یا صحافی کی زبان دیکھ لیں جو جی میں آئے بول دیتے ہیں نہ ریاست کو معاف نہ ملکی سلامتی کے اداروں کو معاف نہ ہی عدلیہ کو چھوڑتے ہیں، اس کے علاوہ کسی بھی واقعے یا مسئلے کو اس کی اصل حقیقت سے ہٹ کر بیان کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے اور کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود یہ کہیں کہ “آزادئ اظہار نہیں” تو یہ ڈھٹائی اور پروپیگنڈہ نہیں تو اور کیا ہے؟
    .
    آج اگر کوئی صحافی یا اینکر یا کوئی اور اٹھ کر یہ کہے کہ پابندیاں ہیں ظلم ہے مگر یہ کبھی نہیں کہتے کہ کیا ظلم ہے اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں کے پاس بھی یہی ایک دو باتیں ہیں جن کو بنیاد بناکر ریاست و فوج کو دنیا میں بدنام کیا جاتا ہے، اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو جتنی آزادی پاکستان میں ہے کسی ملک میں نہیں، پڑوسی ملک میں چند دانشوروں و سماجی کارکنوں نے RSS کی کاروائیوں کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے ہوے صرف ایک لیٹر لکھا تھا تو غداری کا مقدمہ بن گیا، امریکہ میں کسی کی مجال نہیں جو CIA پہ حرف بھی کہہ دے، لیکن پاکستان میں ISI اور فوج کے خلاف چوبیس گھنٹے زہر افشانی کے ساتھ ساتھ نعریبازی ہوتی ہے پھر بھی ان کو آزادی نہیں اور اگر زبانی جواب دے دیا جائے تو سیاسی مداخلت ہوجاتی ہے، اس پوری صورتحال میں چیل گروپ (چیل ایک پرندہ) پر ایک ہی بات ان پہ صادر آتی ہے کہ “مت پھینک کہ ہونٹ سلے ہیں تیرے”۔

  • error: Content is protected !!