Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیر اعظم عمران خان کا دورہ جی بی، عوامی رد عمل اورسیاسی طنز….. سید تنویر حسین

    November 3, 2019 at 5:24 pm


    ”کفر ٹوٹا خداخدا کر کے“
    وزیر اعظم عمران خان کا منصب سنبھالنے کے تقریباً ایک سال بعد آخر کار وہ دن آہی گیا جس کا گلگت بلتستان کے عوام کو شدت سے انتظار تھا۔ہر سال یکم نومبر کو جشن آزادی گلگت بلتستان شایان شان طریقے سے منایا جا تا ہے لیکن پچھلے کئی سالوں کی نسبت اس سال یکم نومبر یہاں کے عوام کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس دن آزادی کی خوشی کے ساتھ ساتھ تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کا وزیر اعظم اس موقع پر گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان موجود تھا۔گزشتہ ایک سال سے خطے کے عوام وزیر اعظم عمران خان کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے کیونکہ اقتدار میں آنے سے پہلے انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے آئینی حقوق سمیت دیگر مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا اور عوام پر امید تھے کہ اپنے دورے کے موقع پر اپنے کئے گئے وعدوں کو تکمیل تک پہنچائینگے۔اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی قیادت کی جانب سے بھی بار بار اخبارات اور عوامی رابطہ مہم کے دوران عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ وزیر اعظم اپنے دورے کے موقع پر گلگت بلتستان کے لئے اہم اعلانات کرینگے اس کے دورے کے بعد علاقے میں ترقی کا عمل شروع ہوجائیگا علاوہ ازیں وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین گنڈا پور بھی بار ہا یہ کہہ چکے تھے کہ عمران خان دورے کے موقع پر گلگت بلتستان کے عوام کو بہت کچھ دینے والے ہیں۔ مہنگائی،بے روزگاری کے ستائے اور آئینی حقوق سے محروم جی بی کے باسیوں کا خیال تھا کہ اب ان کی مشکلات میں کمی سمیت قومی دھارے میں شامل ہونے کا وقت قریب آیا۔یہی خوشخبری اپنی کانوں سے سننے کے لئے لوگوں نے جوش و جذبے کے ساتھ مختلف اضلاع سے صوبائی دارلخلافہ کا رُ خ کیا اور پنڈال میں وزیراعظم سے خوش خبری سننے کے لئے بے تاب تھے تا ہم حالات اس کے بلکل بر عکس ثابت ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے روایتی انداز میں تقریر کا آغاز کیا اور اپنے حریفوں کو نشانہ بناتے رہے۔وزیر اعظم گلگت میں موجود تھے لیکن باتیں اسلام آباد اور کشمیر کی کر رہے تھے تقریر مکمل ہوتے ہی پنڈال اور باہر موجود عوام میں ایک مایوسی کی لہر دوڑ نا شروع ہوئی۔سیاسی،عوامی سمیت دیگر حلقوں نے جانب سے اس کے فوراً بعد ہی رد عمل آنا شروع ہو گیا۔زیادہ حلقوں نے سوشل اور پرنٹ میڈیا میں اس دورے کو انتہائی نا کام قرار دیا تاہم تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں اور کارکنان اس دورے کو یہ کہہ کر خوش آئند قرار دینے لگے ہیں کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیر اعظم نے یوم آزادی کے موقع پر گلگت بلتستان تشریف لائیں۔کچھ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے صوبائی قائدین اور زیادہ کارکنان بھی وزیر اعظم کے دورے سے شدید مایوس ہو چکے ہیں۔روزنامہ بادشمال سوشل میڈیا ٹیم کے ایک سروے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ تاریخ میں عمران خان وہ واحد وزیر اعظم بن چکے جس نے اپنے اولین دورے کے موقع پر گلگت بلتستان کے لئے کچھ نہیں کیا کسی نے عمران کو تاریخ کا سب سے کنجوس وزیر اعظم کا لقب دیا تو کسی نے دورے کو ٹائم پاس قرار دیا۔سوشل میڈیا صارفین مختلف انداز میں اپنے رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صوبائی صدر جعفر شاہ نے وزیر اعظم کے دورے سے قبل متعدد بار یہ کہہ چکے تھے کہ عمران خان دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر اہم اعلانات کرینگے اور عوام کو مطمئن کرکے جائیں گے۔ایک بیان میں اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کا دورہ گلگت بلتستان انتہائی کامیاب ہوگا اور عوام کو وزیر اعظم خوشخبری دیکر جائیں گے۔ عمران خان گلگت بلتستان کے عوام سے دلی محبت رکھتے ہیں۔اس علاوہ ممبر قانون سازاسمبلی راجہ جہانزیب نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم اپنے دورے کے موقع پر نئے اضلاع کی منظوری دینگے اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب آئینی حقوق کا مسئلہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی دورے کے موقع پر وزیر اعظم آئینی حقوق کے حوالے سے بھی اہم اعلان کرینگے۔صوبائی قائدین کے ساتھ وفاقی وزراء نے اپنے دوروں کے موقع پر عوام کو یہ تسلیاں دیتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم دورے کے موقع پر تمام تر مسائل حل کرنے سمیت علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے اہم فارمولا دینگے۔لیکن دورے کے بعد اب حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں صوبائی اور وفاقی قائدین کی جانب سے کئے گئے دعوؤں میں سے کچھ بھی نہیں ہوا وزیر اعظم روایتی تقریر کر کے چلے گئے۔صوبائی قیادت کا یہ بھی خیال تھا کہ وزیر اعظم کے دورے کے بعد پارٹی مزید مضبوط ہو جائیگی اور الیکشن میں ان کے لئے آسانی پیدا ہوجائیگی تا ہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان کے دورے کے بعد صوبائی قیادت مزید مشکلات سے دو چار ہو چکی ہے عوامی حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل کے بعد اب آئندہ الیکشن میں عوام کو مطمئن کرنا انتہائی مشکل نظر آرہا ہے۔تحریک انصاف گلگت بلتستان نے وزیراعظم کی طرف سے گلگت بلتستان کے لئے مالیاتی پیکج اور آئینی حقوق کے ھوالے اعلانات کے نام پر لوگوں کا جمع کیا تھا لیکن وزیر اعظم کی جانب سے آئینی حقوق اور میگا منصوبوں کا اعلان نہ ہونے پر عوام مایوس ہو چکے ہیں اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کی کامیابی نا ممکن لگ رہی ہے۔
    .
    سیاسی مخالفین نے بھی اس موقع سے بھر پورفائدہ اٹھاتے ہوئے تیروں کا رخ صوبائی قیادت کی جانب کر دیا ہے۔مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے محض اپوزیشن قائدین کے خلاف تقریر کرنے کے لئے قوم کے کروڑوں روپے ضائع کئے۔اس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے دورے کو کھودا پہاڑ نکلا چوہا سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے یوم آزادی پر گلگت بلتستان کے عوام کو ایسے مبارک بادی دی جیسے کوئی بہت بڑا احسان کیا ہو۔ڈی چوک پر نوجوان نسل کو بد تمیزی کی ٹریننگ دینے والے سے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو کوئی امید نہیں ہے۔امجد حسین ایڈووکیٹ نے صوبائی صدرجعفر شاہ کو دلبرداشتہ نہ ہونے اور دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا بھی کہہ دیا۔مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے دورے کے بعد پی ٹی آئی والے منہ چھپائے پھر رہے ہیں۔وزیر اعظم کا دورہ مایوس کن رہا یہ دورہ پی ٹی آئی کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوا۔وزیر اعظم نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو کچھ نہیں دے سکتا انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دیامر بھا شا ڈیم کہاں بن رہا ہے انہیں گلگت بلتستان سے کوئی دلچسپی نہیں۔اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی انوکھے انداز میں طنز اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔تحریک انصاف کی صوبائی قیادت بڑے امتحان سے گزر رہی ہے ایک طرف انہیں سیاسی مخالفین کو جواب دینا ہے تو دوسری طرف مایوس عوام کو پھر سے اُمید دلانے اور الیکشن میں ووٹ بنک بنانا ان کے لئے اب خاصی مشکل ہو چکی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت آنے والے حالات کا کس طرح سامنا کرتی ہے اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس دورے کا فائدہ تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کس حد تک لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اگر تحریک انصاف کی وفاقی قیادت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ یہی رویہ رہا تو آئندہ الیکشن میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت وفاقی حکومت کے ذریعے یہاں کے عوام کے دیرینہ مسائل کرنے سمیت موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم کو مائل کرے بصورت دیگر الیکشن میں کامیابی انتہائی مشکل ہو گی۔

  • error: Content is protected !!