Chitral Times

Nov 14, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سر سلطان محمد شاہ: زندگیوں کو تعلیم سے منور کرنے والی ہستی…..از حنا تیجانی

    November 2, 2019 at 9:44 am

    (سرسلطان محمد شاہ کی یوم پیدائش کے موقع پرخصوصی تحریر)
    .
    سنہ 1911ء میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں سر سلطان محمد شاہ نے کہا:”اپنے لوگوں کو طاقتور بنانے،ان کو اثرورسوخ کے جائز مقام تک پہنچانے اور انھیں مفید بنانے کے لیے، ہمیں لازماً تعلیم کا ایک کارآمد اور وسیع نظام تشکیل دینا ہوگا۔ اگر ہمارے لوگ سائنس اور سائنسی تعلیم کو درست نظرئیے کے ساتھ حاصل کرتے ہیں، تو ہماری کمیونٹی کا صنعتی اور اقتصادی مستقبل شک و شبہ سے بالا تر ہو گا۔“
    .
    تعلیم کی اہمیت اور معاشرے کے لیے اْس تعلیم کے کردار پر پختہ یقین رکھنے والے شخص کی حیثیت سے سر سلطان محمد شاہ تعلیم کو محض تدریس وتربیت کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک ایسی قوت سمجھتے تھے جو انسانی شان و شوکت میں تبدیلی لاسکتی ہو۔ انتہائی قابل احترام سیاسی شخصیت، مذہبی رہنمااور دنیا بھر میں انسانی مقاصد کے پر زور حمایتی کے طور پر وہ انتہائی مضبوط مقام رکھتے تھے کہ تعلیم کے میدان میں پیش رفت کو آگے بڑھا سکیں۔ اْن کی کوششوں کے پائیدار اثرات کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
    .
    مؤرخہ ۲نومبر،۷۸۸۱ء کوپاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والے سر سلطان محمد شاہ برصغیر کی تقسیم سے قبل بھارت کے ایک اہم مسلمان رہنما تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ بھارتی مسلمانوں کو درپیش مسائل کی وجہ اْن کی تعلیم سے غفلت ہے۔ وہ اِس بات کی پر زور حمایت کرتے تھے کہ تعلیم ایسا ذریعہ ہے جس کی مدد سے بھارت کے مسلمان اپنی سیاسی موجود گی مضبوط بناسکتے ہیں اور دنیا کے نقشے پر،خود کو،بڑی حد تک ایک اہم اور خوشحال کمیونٹی میں ڈھال سکتے ہے۔سر سلطان محمد شاہ نے اپنی نوجوانی سے ہی انتھک کام کیا تاکہ دوردراز اور نظر انداز کیے گئے علاقوں سمیت،پورے بھارت اور مشرقی افریقہ میں اسکولوں کے قیام کے ذریعے تعلیم تک رسائی میں اضافہ کر سکیں۔ بھارت کے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اْن کی کوششوں کے اعتراف میں انھیں وائسرائے لارڈ کرزن کی جانب سے امپیریل لیجسلیٹو کونسل(Imperial Legislative Council) کا رکن مقرر کیا گیا۔اس وقت ان کی عمر محض۵۲برس تھی اور اس طرح وہ اس کونسل کے ساتھ سب سے کم عمر ترین رکن کے طور پر منسلک تھے۔
    .
    بھارت میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام اْن کے جذبے اور لگن کی بدولت ممکن ہواجس نے اسے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے تعلیم کااہم مرکز بنا دیا۔ یونیورسٹی کے قیام کے لیے قائم کی گئی فنڈز کلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انھوں نے تین ملین روپے سے زیادہ جمع کیے اور خود اپنی امارت میں سے بھی بڑے پیمانے پر عطیات دئیے۔یونیورسٹی کے قیام کے بعد اْنھیں اُس کا پہلا چانسلر بھی مقررکیا گیا اور اِس حیثیت سے وہ ادارے کی ترقی اور پیش رفت کے لیے فعال کردار ادا کرتے رہے۔
    .
    سر سلطان محمد شاہ کی جانب سے تعلیم کے لیے اسلامی مراکز کے قیام کا مقصد اسلامی ثقافت، تاریخ اور اقدار کو فروغ دینا بھی تھا۔اْن کی بصیرت کے مطابق علی گڑھ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی ایک جدید تعلیمی ادارہ تھی جو اْس وقت کی ممتاز یونیورسٹیوں کے معیار کے مطابق کام کر رہی تھی اور اسلامی ورثے کو برقرار رکھنے میں وہی کردار ادا کر رہی تھی جو مغربی یونیورسٹیوں اپنی ثقافتوں کی روایات کے تحفظ میں ادا کیا تھا۔
    .
    اِس کے علاوہ، انھوں نے اپنی اِس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں اسلامی روح بھی شامل ہوتی ہے جس کی بدولت طلباء، اسلامی اقدار کے بارے میں بھی سمجھ بوجھ حاصل کر سکتے ہیں۔اْن کے نزدیک اخلاقیات کے بغیر تعلیم نامکمل ہے۔ انھوں نے کہا: ”بھارت کے مسلمانوں میں موجود دوراندیش افراد نے ایک ایسی یونیورسٹی کی خواہش کی تھی جہاں تدریس کے معیار نہایت ہی اعلیٰ قسم کے ہوں گے اور جہاں سائنسی تربیت کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم بھی دی جائے گی-یہ اگرچہ بالواسطہ لیکن غلط اور صحیح کی دائمی پہچان کرائے گی اور یہی تعلیم کی روح ہے۔“۲ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو اگر اسلامی اقدار پر کاربند رہنا نہیں سکھایا گیا تو مسلم کمیونٹی پائیدار ترقی اور خوشحالی حاصل نہیں کر سکے گی۔
    .
    ایک ایسے دور میں جب لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، سرسلطان محمد شاہ نے بار بار لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا اور کہا کہ خواتین کی تعلیم نہ صرف اہم ہے بلکہ مسلم معاشرے کی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔انھوں نے کہا،”ہم اپنے بچوں کی ماؤں سے کسی طرح ترقی کی توقع نہیں کر سکتے ہیں جب ہم نے انھیں جدید انسان کے سماجی میل جول میں شریک ہی نھیں کیا ہے؟قوم کی تمام خواتین کے زیاں سے مسلم معاشرہ زہر خورانی کا شکار ہو جائے گا۔“۳
    تعلیم کے حوالے سے سر سلطان محمد شاہ کے عزم اور کوششوں کی شہادتوں کو تلاش کرنا مشکل کام نھیں۔سنہ ۰۴۹۱ء کے عشرے میں، سر سلطان محمد شاہ نے، جو شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے ۸۴ویں امام بھی تھے، ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پراپنے پیروکاروں سے ملنے والے تمام تحائف برصغیر اور مشرقی افریقہ میں تعلیم اور صحت کے لیے عطیہ کر دئیے۔یہ رقم اسکولوں، ہوسٹلوں، طبی مراکز اور زچہ خانوں کی تعمیر پر صرف کی گئی۔
    .
    ایسا ہی ایک اقدام پاکستان کی شمالی علاقوں میں ڈائمنڈ جوبلی اسکولوں کا قیام تھا۔ شمالی پاکستان کے دوردراز اور دشوار علاقوں میں، جہا ں معیاری تعلیم کا پہنچنا مشکل کام تھا، اس اقدام نے کمیونٹیز کو اس قابل بنایا کہ وہ بھی آگے آئیں اور اس طرح ترقی کی ایک ایسی لہر شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔سر سلطان محمد شاہ کی جانب سے، تعلیم کی اہمیت کے بارے میں دیا گیایہ پیغام نوجوان نسلوں تک بھی منتقل ہوا ہے۔شمالی پاکستان کی وادیئ ہنزہ میں تقریباً ہر بچہ – خواہ لڑکاہو یا لڑکی – اسے تعلیم دی جاتی ہے اور اس بات کونہ صرف بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے بلکہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مجموعی شرح خواندگی 55 فیصد ہے، وادیئ ہنزہ میں شرح خواندگی 95فیصد ہے۔یہ سب سر سلطان محمد شاہ کے ڈائمنڈ جوبلی اسکولوں کی صورت میں شروع
    کی گئی تحریک کا نتیجہ ہے جو غیرمعمولی بات ہے۔
    .
    سر سلطان محمد شاہ، سنہ ۷۵۹۱ء میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے اپنی آخری ایام ورسوا،سوئزرلینڈ(Versoix, Switzerland) میں واقع ولا برکات (Villa Barakat) میں گزارے اور مصر کے شہر اَسوان میں مدفون ہوئے۔ سر سلطان محمد شاہ کی وراثت کو اْن کے پوتے اور جانشین پرنس کریم آغا خان نے آگے بڑھا یا۔پرنس کریم آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کے بانی بھی ہیں۔ آغا خان ڈیویلپمنٹ ایک ترقیاتی ایجنسیوں کا ایک عالمی نیٹ ورک ہے جس کے مقاصد میں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی ترقی شامل ہیں۔ آغا خان کی موجودہ قیادت کے تحت یہ نیٹ ورک اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک چلاتا ہے جن میں ۶۵۱ اسکول صرف پاکستان میں ہیں۔ ان کے علاوہ بھارت، کینیا اور موزمبیق میں واقع تعلیم ادارے، آغا خان یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا بھی اس نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

  • error: Content is protected !!