Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس، متعدد فیصلے ، 50ہزارانڈر گریجویٹس کو سکالرز شپ دینے کافیصلہ

    October 30, 2019 at 11:55 pm

    اسلام آباد(آئی آئی پی) وفاقی کابینہ نے بے نامی ٹرانزیکشن (ممانعت)ایکٹ2017 کے تحت ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے ممبران،داسو ہائیڈرو پراجیکٹ (اسٹیج ون) کے لئے زمین کے حصول کے لئے اراضی کی نظر ثانی شدہ قیمت کی ادائیگی اور دیگر تخمینوں،کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان کے بعض مخصوص علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے اور وزیر برائے اقتصادی امور کو نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی جنرل کمیٹی کے ممبرز کے طورپر شامل کرنے کی منظوری دیدی ہے، وزیراعظم کی ہدایات پر ہر ہر وزارت عام شہریوں کی زندگیوں کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے،پاور ڈویژن میں سردیوں میں بجلی کے نرخ کم کرنے کی ایک تجویز پر غور کیا جا رہا ہے،وزارت اطلاعات و نشریات نے غلط،بے نیاد اور جھوٹی خبروں کے تدارک کے لئے ای۔ نیوز لیٹر کے اجرا کی تجویز پیش کی،ہر ہفتہ ای نیوز لیٹر کا اجرا ہوگا جس میں فیک نیوز پر حقائق سامنے لائے جائیں گے، وزارت ہوابازی نے ملک بھر کے تمام ائیر پورٹ پر بچوں کے لئے ” پلے ایریاز” کے قیام کا فیصلہ کیا ہے،احساس پروگرام کے تحت 50ہزار انڈر گریجویٹس کو سکالرز شپ دی جائے گی،120یونیوسٹیاں اس سکیم سے مستفید ہوسکیں گی،فروری2020 تک اپنی معیشت کو بہتر،منی لانڈرنگ کو روکنے اورکالے دھن کو ریگولیٹ کرنے کے لئے انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن شیئرنگ کی جائے گی، وزیراعظم نے ہدایات دیں ہیں کہ متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر قبضہ واگذار کر اکے ہسپتالیں،سکول اور دیگر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے بنائیں جائیں۔منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی کی ہمیشرہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی۔کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان جیسے ملک کے بڑے شہروں میں کثیر منزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کابینہ نے کراچی، لاہور، پشاور اور ملتان کے بعض مخصوص علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے ہدایت کی کہ اس عمل کو ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے ہوابازی ڈویژن کو ہدایت کی کہ ملک کے ہوائی اڈوں کا انتظام بہتر طور پر چلانے کے لئے حکومتی پالیسی کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ جہاں ہوائی اڈوں کا انتظام بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنایا جائے وہاں ان سے آمدنی حاصل ہو اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم آئیں۔ کابینہ کو سکردو ائیرپورٹ کی اپ گریڈیشن اور تعمیر نوکے کام میں پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔کابینہ نے ہوائی کمپنیوں کے لائسنس کی تجدیدکا اختیار متعلقہ وزیرِ کو تفویض کرنے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد ہواباز کمپنیوں کو سہولت پہنچانا ہے اور لائسنس کی تجدید کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ کابینہ نے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کابینہ ڈویژن سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو منتقل کرنے کی تجویز پر فیصلہ موخر کر دیا۔کابینہ نے وزیر برائے اقتصادی امور کو نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی (کی جنرل کمیٹی کے ممبرز کے طورپر شامل کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے ڈائریکٹر جنرل سنٹرل دائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی خالی آسامی کو پر کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے پروفیسر ڈاکٹر سرزمین خان (خیبر پختونخواہ)، پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خان (پنجاب)، پروفیسر ڈاکٹر جئیمل دھانانی (سندھ)، برگیڈئیر محبوب احمد بٹ کو پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل میں میں تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ شخصیات وفاقی حکومت کی نمائندگی کریں گے۔اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز منیجمنٹ ایکٹ 2019کے مسودے کی منظوری کا ایجنڈا واپس لے لیا گیا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون سازی میں اس کو پیش کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ نے سوئی ناردرن گیس کمپنی لمٹیڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کی نو تشکیل کی بعد از وقوئی (ایکس پوسٹ فیکٹو) منظوری دی۔ بورڈ آف دائریکٹر ز ڈاکٹر شمشاد اختر، محمد رضی الدین مونم، ڈاکٹر فیصل بنگالی، ندا رضوان فرید، چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن، ایڈیشنل فنانس سیکرٹری (سی ایف)، جوائنٹ سیکرٹری (اے۔سی اے)، ڈاکٹر سہیل رضی پر مشتمل ہوگا۔کابینہ نے پاکستان ایل این جی لمٹیڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دیتے ہوئے راحت کونین (چئیرمین)، سہیل احمد متین (سندھ)، سید مقصود شیر (سندھ)، ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) پٹرولیم ڈویژن، سیکرٹری خزانہ (یا ان کا نمائندہ)، منیجنگ ڈائریکٹر پی ایل ایل ممبر ہونگے۔ کابینہ نے گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمٹیڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی تشکیل نو کی منظوری دیتے ہوئے عائلہ مجید کو(چئیرمین) جبکہ ڈاکٹر سجاد احمد، حسیب شکور پراچہ، سیکرٹری پٹرولیم، ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) پٹرولیم ڈویژن، چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ، جوائنٹ سیکرٹری (آئی اینڈ جے وی) پٹرولیم دویژن، سینئر جوائنٹ سیکرٹری (سی ایف ٹو) فنانس ڈویژن، منیجنگ ڈائریکٹر گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمٹیڈ ممبر ہونگے۔کابینہ نے پاکستان ایل این جی لمٹیڈکے سابق چیف ایگزیکیٹو /منیجنگ ڈائریکٹر عدنان گیلانی کا کنٹریکٹ منسوخ کرنے کی بعد ازوقوئی منظوری دی۔کابینہ نے چئیرمین متروکہ املاک کو ایم پی ون (منیجمنٹ پے سکیل ون(کے سکیل کے تحت تنخواہ و مراعات دینے کی منظوری دی۔وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متروکہ املاک کی زمینوں کو ہسپتالوں، سکولوں اور دیگر عوامی فلاح و بہبود کے مقاصد کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔کابینہ نے دلاور باجوری کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ ان کی عدم دستیابی کی صورت میں ملک احمد خان کو متبادل امیدوار کے طور پر تصور کرتے ہوئے تعینات کیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ بیرون ملک مقیم اہل اور قابل پاکستانی بین الاقوامی اداروں کی نوکریاں ترک کرکے ملک کی خدمت کے لئے پاکستان کے اداروں میں شمولیت اختیار کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ وہ نئے پاکستان کے خواب کی تکمیل میں عملی حصہ لے سکیں۔معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو “احساس انڈر گریجویٹ سکالرشپ سکیم”پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس سکیم کا اجرا نومبر کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت ملک بھر کے پچاس ہزار طالبعلموں کو وظیفے دیے جائیں گے۔یہ وظیفے ان طلبہ کو دیے جائیں گے جو نہ صرف اہل ہیں بلکہ حقدار ہیں اور جن کے خاندانوں کی ماہانہ آمدنی پینتالیس ہزار سے کم ہے۔ اس سکیم کے تحت تمام شعبوں میں وظیفے دیے جائیں گے تاہم جدید اور سائنسی علوم کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کا اطلاق تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں ہوگا۔ اس سکیم کے تحت پچاس فیصد کوٹہ خواتین کے لئے جبکہ دو فیصد کوٹہ معذور طلبہ کے لئے مخصوص ہوگا۔ ان وظیفوں میں ٹیوشن فیس اور رہائش، ٹرانسپورٹ، کتابوں اور دیگر ضروریات شامل ہوں گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سال2012سے 2018تک 29000طلبہ کو سکالرشپ دیے گئے جبکہ اس پروگرام کے تحت پچاس ہزار طلبہ کو وظائف دیے جائیں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لئے اس سکیم کے تحت احساس پروگرام کے بجٹ سے چھ ارب روپے کے وظائف دیے جائیں گے، کابینہ کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال حکومت اعلی تعلیم پر تقریبا پینتیس ارب روپے خرچ کررہی ہے۔ کابینہ نے گورنمنٹ آف پاکستان اور گورنمنٹ آف رشیئن فیڈریشن کے درمیان زیر التوا مالی معاملات طے کرنے کی منظوری دی۔ اس منظوری کے تحت روس میں پاکستان کے سفیر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ روسی حکومت سے ان مالی معاملات کو طے کرنے کے لئے باقاعدہ معاہدہ کریں۔ کابینہ نے داسو ہائیڈرو پراجیکٹ (اسٹیج ون) کے لئے زمین کے حصول کے لئے اراضی کی نظر ثانی شدہ قیمت کی ادائیگی اور دیگر تخمینوں کی منظوری دی۔ کابینہ کی جانب سے منظور کی جانے والی تجویز کے تحت اراضی کے حصول کے لئے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر ہزارہ ڈویژن کے تحت قائم کی گئی کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے۔ہر قسم کی اراضی کو مذاکرات کے تحت حاصل کیا جائے گا اور پہلے سے لگائے گئے تخمینوں پر نظر ثانی کرکے ان میں چالیس گناتک اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں زمین کی قیمت اور اراضی پر قائم شدہ عمارات کا تخمینہ شامل ہے۔ یہ منصوبہ پانچ سو دس ارب روپے کا منصوبہ ہے جو ورلڈ بنک کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ داسو ہائیڈرومنصوبہ ہائیڈرو پراجیکٹس کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کی پیداواری استعداد 4320میگا واٹس ہے۔ یہ منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل ہونا تھا۔ یہ منصوبہ دریائے سندھ پر ضلع کوہستان میں بنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 2160میگا واٹس کا کارخانہ لگایا جائے گا۔ اس منصوبے میں اراضی کا حصول، متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی، دفاتر کی تعمیر اور پراجیکٹ سے منسلک دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ منصوبے کا دوسرا مرحلہ دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کی تکمیل کے بعد شروع کیا جائے گا۔ اس منصوبے نے2019میں مکمل ہونا تھا تاہم زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے 2017سے یہ معاملہ زیر التوا ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے تیتیس کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ کابینہ نے بے نامی ٹرانزیکشن (ممانعت)ایکٹ2017کے تحت یڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی (Adjudicating Authority) کے ممبران کی منظوری دی۔ وزیرِ اعظم نے کابینہ کو مختلف وزارتوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کی غرض سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور پیش کی جانے والی تجاویزسے آگاہ کیا۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ غلط، بے بنیاداور جھوٹی خبروں کا تدارک کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ایسی خبروں کو بے نقاب کرنے کے لئے ایسی خبروں پر مشتمل ای۔ نیوز لیٹر کا اجرا کیا جائے گا۔ ہوابازی ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزارت کے تحت مختلف محکموں اور عمارات بشمول ہوائی اڈوں پر پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے اقدامات اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مرحلہ وار سولر انرجی کو فروغ دیا جائے گا۔ ائیر پورٹس پر بچوں کے لئے ” پلے ایریاز” کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کی جانب سے ترک شدہ ہوائی روٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ مزید تجاویز میں کریم سروسز استعمال کرنے والے مسافروں کے لئے کرایوں میں رعایت شامل ہے۔ ہوابازی ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ ہوا ئی اڈوں پر اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں موسم کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے موسمیاتی سٹوڈیو (Weather Studio) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بھارت سے ماحولیاتی آلودگی ہوا کے ذریعے پاکستان آتی ہے جس سے سموگ میں اضافہ ہوا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ سرکاری اداروں اور سرکاری ملازمین کے درمیان رابطوں کے لئے وٹس ایپ کی طرز پر اپیلیکیشن تیار کی جا رہی ہے تاکہ کار سرکار کے ضمن میں جہاں سہولت میسر آئے وہاں اس عمل کو محفوظ بنایا جائے۔ اسی طرح پیشہ وارانہ افراد کو نوکریوں کی تلاش میں سہولت بہم پہنچانے کے لئے ایک اپلیکیشن تشکیل دی جا رہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے قائم وزارت کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز میں اوورسیز وزارت کے زیر انتظام تمام اداروں میں معذوروں کے لئے تین فیصد کوٹہ رکھا جائے گا، اس کے علاوہ معذور افراد کو وہیل چئیرز کی فراہمی اور کسی معذوری کا شکار بچوں کی فیس میں رعایت دے جانے کی تجویز ہے۔ وزیر برائے توانائی نے کابینہ کو بتایا کہ سردیوں میں بجلی کے نرخ کم کرنے کی ایک تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار کی استعداد تقریبا اکتیس ہزار میگا واٹ ہے۔ سردیوں میں بجلی کا استعمال خاطر خواہ کم ہو جاتا ہے۔ اگر سردیوں کے موسم میں بجلی کے نرخ کم کر دیے جائیں تو اس سے جہاں صارفین مستفید ہوں گے اور وہ اپنی توانائی کی ضروریات بھرپور طریقے سے پورا کر سکیں گے وہاں ملک میں موجود پیداوار کو بھی برؤے کار لانے میں مدد ملے گی۔

  • error: Content is protected !!