Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • خوراک کا کوئی بحران نہیں،چند دنوں‌میں گندم کی مصنوعی بحران ختم ہوجائیگا..یوسفزئی

    October 28, 2019 at 10:08 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مسئلہ کشمیر کو پیچھے دھکیلنے کے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو انڈیا اور مودی بھی چاہتا تھا۔ حکومت نے اپوزیشن کو جلسہ دینے کی اجازت دی ہوئی ہے لیکن امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دیں گے صو بے سے غلیل اور ڈنڈا بردار جلوس کو نکلنے نہیں دیں گے صوبے میں خوراک کا کوئی بحران نہیں ہے روزانہ فلور ملوں کودو ہزار ٹن کی بجائے تین ہزار گندم فراہم کر رہے ہیں ایک دو دن میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ جلوسوں کو مانیٹر کرنے کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں سیل قائم کردیا گیا ہے جوروزانہ کی بنیاد پر منسٹریل کمیٹی کو رپورٹ فراہم کرے گی منسٹریل کمیٹی صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر نظر رکھے گی جس کی سربراہی صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کر رہے ہیں جلوس میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں سے پرامن رہنے کی التجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کی بجائے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لاتی تو بہتر ہوتا۔اپو زیشن لانگ مارچ میں 15 لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت میں ایک لاکھ لوگ بھی جمع نہیں کرسکتی اپوزیشن سے کیے ہوئے معاہدے پر صوبائی حکومت عملدرآمد کرے گی صوبے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے پولیس ڈیوٹی دے گی۔ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی نے کہا کہ صوبے میں خوراک کا کوئی بحران نہیں۔ صوبے میں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے جس کی وجہ سے صوبہ سے باہر آٹا لے جانے پر پابندی عائد ہو گئی ہے۔ صوبے کے پاس گندم کا ذخیرہ موجود ہے فلور ملز کو روزانہ دو ہزار ٹن کی بجائے تین ہزار ٹن گندم دیا جائیگا جس سے ایک دو دن میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہو جائے گا اور قیمتیں بھی معمول پر آجائیں گی۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے خیبر پختونخوا کو خورا ک کااپنا حصہ پورا مل رہا ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ گوداموں اور دکانداروں پر آٹے کی قیمت کے حوالے سے نظر رکھیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیں جن کی وجہ سے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

  • error: Content is protected !!