Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ایران،ترکی اور روس کے مابین سہ تکونی اتحاد ……. محمد آمین

    October 27, 2019 at 11:36 pm

    ایران،ترکی اور روس دینا کے چند ایسے ممالک میں شمار ھوتے ھیں جنہوں نے کرہ عرض میں اعظیم سلطنتون کے مالک تھے قدیم فارس،خلافت عثمانیہ ترک اور زر روس دینا کے بڑے سلطنتین( empires) تھے جنہون نے دینا کو لا زوال ثاقفتی ورثے تحفے میں دیے۔دور حاضر میں بھی یہ تینوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی امور میں نہایت اہم کردار ادا کر رھے ھیں۔جب 1992 ء میں سابق سویت یونین ٹکڑوں میں بٹ گئے تو بہت سے مباصرین اور دانشوارں نے رائے قائیم کئے کہ اج کے بعد روس کا بین الاقوامی اثر و رسوخ ختم ھو گیا ھوگا اور بین الاقوامی تعلقات کا محور یک طرفہ ( (Unilateralھوگا اور اس طرح دینابین الاقوامی امور واحد سپر پاور امریکہ کے پاس چلا گیا۔جس کا آمیزا ابھی تک ساری دینا بھگت رھی ھے کیونکہ آمریکہ کی ئنی ورلڈ آرڈر پالیسی کی توازن کے لئے کوئی متابدل طاقت موجود نیہں رہا۔
    .
    ایران،ترکی اور روس کے درمیان اچھے تعلقات علاقے میں امن و آمان،سکیوریٹی اور اقتصادی ترقی کو بہتر اور خوشگوار حالات کی طرف تعین کرنے میں مددگار ثابت ھونگے۔جہان ریاست ھائے متحد امریکہ اہنے اتحادی قوتوں کے ساتھ علاقے میں کشیدگی اور بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رھی ھے جس کا بنیادی مقصد علاقے کے قدرتی وسائل پہ قبضہ اور سیاسی تسلط جمانا ھےجن میں سر فہرست توانائی کے زخائر اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کی تحفظ اور ان کو سیکورٹی مہیا کرنا ھے۔امریکہ کبھی بھی نیہں چاہتا ھے کہ خلیجی ریاستوں،مشرق وسطی اور کیسپین (Caspian) میں اس کی مداخلت اور اثر روسوخ کم ہو اور ان علاقوں میں اپنی مفادات کی بقاء کے لئے کسی حد تک بھی جانے کو تیار ھے۔
    .
    اس میں کوئی شک نیہں کہ علاقے کے ان تینوں ممالک اس چیز سے باخوبی اگاہ ھیں کہ امریکہ کی موجودگی سے علاقے میں تناؤ اور عدم استحکام پیدا ھوسکتی ھے۔لہذا اس حقیقت کے پیش نظر یہ ممالک اپنے پرانے اختلافات اور غلط فہمیوں کو دور کرکے ایک ایسے اتحاد کی تشکیل میں مصروف عمل ھیں جو امریکہ کی (Imperialist) پالیسی کوروکنے میں مددگارثابت ھوسکتی ھے۔اگر چہ شام کے موجودہ حالات بہتر تعلقات کے راہ میں حائل رکاوٹیں ھیں لیکن آستانہ کانفرنس کے بعد وہ شام میں حالات کو بہتری کی طرف لانے کی کوشش کر رھے ھیں اور حال ہی میں آنقرہ میں تینون ممالک کے سربراہان نے اس بات کا اعادہ کیے کہ شام کے معاملے کو تینوں ممالک باھمی گفت و شنید سے حال کرینگے جس میں ترکی میں مقیبم شامی مہاجرین کی باعزت واپسی اور safe zones کے قیام بھی شامل ھیں۔
    .
    جب سے ترکی میں 2002 ء میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (AKP ( اقتدار سنبھالا ترکی طیب اردگان کی قیادت میں اپنے ہمسائیوں کے ساتھ (zero problems) پالیسی اپنایا ھے جس کا بنیادی مقصد اپنے تمام پڑوسون خصوصا ایران اور روس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑے پیمانے پر وسعت دینا شامل ھے۔بین الاقوامی تناظر کے پس منظر یہ ممالک سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے علاوہ ایسے بلاک کی تشکیل میں مصروف عمل ھیں جوپہلے ھی چین،یران اور روس کے مابین قائم ھوچکی ھے اور ترکی کی بھی اس میں شمولیت یقینی ہوگی جس سے علاقے میں معاشی اور اقتصادی ترقی کے بہت سے امیدیں وابستہ ھیں۔
    اگر سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تکونی تعلقات (triangular relationship) میں سیاسی مفادات میں یکسانیت نظر اتی ھے جس کی مثال قطر اور صحافی خوشجی کے قتل کے معاملے میں ایران اور ترکی میں باہمی تعاون اور خیرسگالی کے جذبات تھے۔
    .
    روس اور ترکی کے درمیان حالیہ دہائیوں میں تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہواھے انقرہ نے گہرے اقتصادی اور توانائی کے تعلقات کو سیاسی اور سکیورٹی سے معتلق تعاون کو فروغ دینے کے لیے استعمال کررھی ھے اور ماسکو ان تعلقات کی بنیاد پر یہ کوشش کر رہی ھے کہ ترکی اس قابل ہو جائے کہ وہ بین الاقوامی امور میں امریکہ اور یورپی یونین سے اذادانہ طور پر اپنی خارجہ پالیسی کو چلائے جسکا نتیجہ یہ دیکھنے کو ایا کہ کئی موقعوں پر ترکی نے ان ممالک کے جارحانہ فیصلوں کو للکارا۔2008 ء کے بعد روس یورپی یونین کے بعد ترکی کاسب سے بڑا تجارتی پارٹنر بناھے۔
    .
    اگرچہ ایران اور ترکی کے درمیان تعلقات میں اب بھی پیچ و تاؤ موجود ھے لیکن ریجن میں موجودہ سیاسی ،عسکری اور اقتصادی مفادات نے تہران اور انقرا کے ماضی کے تلخیون کو دور کرکے ان کو ایک میز پر لائے ھیں روس کی طرح ایران بھی ترکی کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر ھے۔ترکی ایران کی پرامن جوہری پالیسی کی حمایت اور امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کی مخالفت کرتی ھے۔ایران ترکی کی منڈیون کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لئے استعمال کررھی ھے ۔
    .
    اس طرح ایران اور روس کے تعلقات بھی بڑے گہرے ھیں جس کی اہم مثال شام میں فوجی اور سیاسی اتحاد ھے۔روس ایران کو اپنے ہتیھاروں کے لیے ایک پر کشش منڈی اور امریکہ کی (expansionist ( پالیسوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے اہم قوت تصور کرتی ھے مزید بران روس نے چین کے ساتھ ملکر آقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل میں ایران کے معتلق کئی قراداوں کی مخالفت کی۔دونون ممالک 2008ء ،میں ایک معاہدے پر دستخط کرچکے ھیں جس کے مطابق ایران میں تیل اور گیس کی پیداوار کو ترقی دی جائے گی اور دونون ریاستین کیسپین میں اکھٹے گیس کی دریافت میں تعاون کر رہے ہیں۔
    .
    ان تینون ممالک کے درمیان پالیسی کورڈینش (Policy coordination ( میں اہم پیش رفت اس وقت پیش ایا جب 8 جون 2010ء کو تینون ممالک کے رہنما استنبول میں ملے جس کا مقصد امریکہ اور یورپین ممالک کی طرف سے ایران کے جوہری پراگرام کے حوالے سے ان پر پر پابندیون کی مخالفت تھی۔اس قسم کے اتحاد (CICA) یعنی Conference on interaction & confidence building کے اجلاس میں بھی سامنے ایا جس میں ایران،ترکی اور روس نے ایکدوسرے کے ساتھ مکمل تعاؤن اور اتحاد پر متفق ھوگئے۔
    .
    اب دیکھنا یہ پڑے گا کہ ایا یہ سہ تکونی اتحاد علاقے میں پائیدار امن اور ترقی کے لئے کتنے معاون ثابت ھوگا۔اس میں کوئی شک نیہں ھے کہ چین جو دنیا کی تیزی سے بڑھتی اقتصادی طاقت ھے اور وہ بھی امریکہ کی تجارتی من مانیون کو ماننے کے لیے تیار نیہں ھے اور وہ بھی اس اتحاد کا اہم جز ثابت ھوگا جس کا بولتا ثبوت چین کا امریکی پابندیوں کے باوجود ایران میں تقریبا 250 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کا اعلان ھے اور وہ دن دور نیہں ھوگا جب اس پورے ریجن میں ڈالر کی بجائے یان ( Yen) یا کوئی دوسرا کرنسی تجارت میں استعمال ھوگی۔ اور یہ triangular solidarity ایک Multilateral organization میں تبدیل ھوگا۔جس سے نہ صرف اس ریجن بلکہ پوری دینا میں استحکام کی فضاء پیدا ہوگا۔

  • error: Content is protected !!