Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سرُود …..خاموشی بے سبب نہیں ہوتی…….. شہزادی کوثر

    October 24, 2019 at 7:22 pm

    انسان پیسے کے پیچھے بھاگ کر کتنا ہوس پرست ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کا دکھ درد کسی کی بے بسی و مجبوری سے انجان بن کراپنی آرزؤں کی تکمیل چاہتا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز سچ اور جھوٹ کی حدوں سے بھی بے خبرہو کر انسانیت کے درجے سے گرتا ہے۔ مگر اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اُس نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ اسکے سامنے زندگی سسکتی رہتی ہے۔ کسی کی دنیالٹتی ہے مگر اسے ہوش بھی نہیں رہتا۔ اسکے دل و دماغ میں ایک ہی چیز گُھسی ہوتی ہے۔ کہ مجھے پیسہ ملے زندگی آسائش میں گزرے بڑا گھر، گاڑی دولت اور عیاشی۔۔۔ ایسے انسان کے سامنے احساسات وجذبات اور اخلاق و کردار کی ذرّہ برابر بھی وُقعت نہیں۔ دیکھا جائے تو معاشرے کا ہر تیسرا فرد اسی سوچ کے تحت زندگی گزارتا ہے۔ یہ شاید مجبوری ہے یا وقت کی ضرورت۔ بے حسی کی انتہا ہے یا کا میاب زندگی کی دلیل، جو کچھ بھی ہے ایک عفریت ہے آسیب ہے جس نے انسان کو اپنے شکنجے میں بُری طرح جکڑا ہوا ہے۔ ہماری روایات اور اقدار کہاں چلی گئی ہیں۔ جن کے بل پر ہمارے پرکھوں نے سینہ تان کر زندگی گزاری۔ غربت اور مفلوک الحالی میں بھی اپنی غیرت کی لاج رکھ لی۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوئے ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ دکھ بانٹنے سے کم نہیں ہوتا مگر اس کی دھار کاٹتی نہیں ہے۔ انسا ن دوسرے کے ہونے کے احساس سے ہی اپنے اندر نظر نہ آنے والی ہمت محسوس کرتا ہے۔ اسکے اندر غم کو سہنے کا حوصلہ آجاتا ہے۔ اسے ایسی طاقت ملتی ہے جس سے وہ غموں کی تپتی دھوپ میں بھی بہادری کی چٹان بن جاتا ہے۔ دکھ میں مبتلا انسان کی ذات سے نکلنے والے احساسات ذاتی نہیں رہتے۔ وہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ارد گرد غموں کو جذب کرنے والے لوگ موجود ہوں تو غم ہلکا ہو جاتا ہے۔ ورنہ تکلیف دہ منظر دل و دماغ پر ثبت ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن آج کل ایسے لوگوں کا فقدان ہے۔ کسی کا سہارا بننا تو دور کی بات چند لمحے بیٹھ کر کسی کی بات سننے کا بھی وقت نہیں ہے۔ اسطرح انسانوں کے درمیان ایسی خلیج پیدا ہوتی ہے۔ جسے نہ آواز عبور کر سکتی ہے اور نہ آنکھ۔ رفتہ رفتہ صدیوں کی مسافت درمیان میں آجاتی ہے۔ اور انسان کا دوسرے انسانوں سے رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور وہ خود کو زندگی کی قید میں گرفتار محسوس کرکے دستِ اجل کا منتظر رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کو زندگی کی طرف لانے کا فرض بھی انسانوں کا ہی ہوتا ہے۔ جو عقیدت سے گرمایا ہوا ہاتھ بڑھ کر زندگی کی خوشیاں لوٹا سکتا ہے۔ کسی کے اداس چہرے پر خوشگوار مسرت کا ذریعہ بننا بھی اہم فریضہ ہے۔
    .
    خوشی ایسی دولت ہے جو با نٹنے سے اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ اپنے لئے خوشیاں ڈھونڈنا کوئی کمال نہیں دوسروں کو ایسی لذّتوں سے فیض یاب کرنا کمال ہے۔ انسان کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے اچھی باتوں اور مثبت نقطء نظر کے علاوہ پُر خلوص مسکراہٹ میں لپٹا ہوا احترام بھی ہوتا ہے۔ جو اپنے اندر مسیحائی کا احساس رکھتا ہے۔ لیکن انہیں استعمال کرنے کا فن وہ بھول چکا ہے۔ کیونکہ اس کی نگاہ سطحی صورت سے آگے بڑھ کر داخلی حقیقت تک نہیں پہنچ پاتی۔ ضروری نہیں کہ ہر فرد ہمارے سامنے اپنی بے بسی کا رونا روئے تب ہی ہم اس کی مدد کرنے کا سوچیں گے۔ کچھ لوگ بڑے خود دار اور سفید پوش ہوتے ہیں وہ اپنی مجبوریوں کا غم سینے میں دفنائے وقت کی بھٹی میں تنہا ہی سلگتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اَن کہی باتوں پر بھی یقین ضروری ہے۔ کیونکہ انسان کی خاموشی میں اس کے الفاظ سے زیادہ سچائی ہوتی ہے۔
    لیکن وہ اسکا اظہار نہیں کرسکتا۔
    .
    خاموشی بے سبب نہیں ہوتی
    درد آواز چھین لیتا ہے
    .
    غموں کے بوجھ سے جب پسلیاں ٹوٹنے لگتی ہیں تو شکوہ شکایت کے سوا انسان کے پاس کوئی اور چارۂ کار نہیں رہتا۔ لیکن سفید پوشی کا بھرم رکھنے والے صرف آنسوؤں کے دریچے سے جھانکتے ہیں ان کی خاموشی میں ہزار داستانیں چھپی ہوتی ہیں۔ انسانیت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ان کہی داستانوں کو سُن لیں جو اپنے کرب کا مفہوم بیاں کرنے کے لئے الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔
    .
    حضرت علی ؓ کا قول ہے۔
    ”جو تمہاری خاموشی سے تمہاری تکلیف کا اندازہ نہ کرسکے اُس کے سامنے زبان سے اظہار کرنا صرف لفظوں کو ضائع کرنا ہے۔“

  • error: Content is protected !!