Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ترش و شیرین….مولانا فضل الرحمن اور درست تاریخی تناظر….. نثار احمد

Posted on
شیئر کریں:

مولانا فضل الرحمان پاکستان کے زیرک، جہاں دیدہ، دور اندیش اور اُجلے کردار کے حامل ایک سدا بہار سیاست دان ہیں۔ جب 1980 کے اکتوبر میں مولانا کے والد مفتی محمود کراچی میں اس دنیا سے راہی ء عدم ہوئے تو جے یو آئی کی شوری نے زمام ِقیادت اس وقت کے ستائس سالہ سیاہ ریش عالم دین مولانا فضل الرحمٰن کو تھمائی۔ یہاں سے بحثیت جنرل سیکرٹری مولانا کی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ کمر کس کر کارزارِ سیاست میں اترنے والے اس نوجوان کے کریڈٹ کارڈ میں جے یو آئی کی ذیلی تنظیم جے ٹی آئی کے مرکزی صدر رہنے کے تجربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن مولانا فضل الرحمن اپنی بصیرت، فہمِ سیاست، قوت ِفیصلہ اور خدا داد دانشمندی سے نہ صرف اپنے اکابرین کی توقعات پہ پورا اترا بلکہ جے یو آئی کو بھی ایک ملک گیر سیاسی مذہبی پارٹی بنا کر چھوڑا۔
.
مولانا کے ہاتھ می جماعت کی قیادت اس وقت آئی تھی جب ملک سے جمہوری عمل عنقا ہو چکا تھا۔ گلی گلی نگر نگر آمریت کا طوطی بول رہا تھا۔ آمریت نے پنجے بھی گاڑے ہوئے ہوں اور اوپر سےلبادہ بھی اسے اسلام کا اوڑھایا گیا ہو، پھر کسی اور کے لئے اُسے چیلنج کرنا مشکل ہو نہ ہو،ایک مذہبی لیڈر کے لئے ضرور مشکل ہوتا ہے۔ لیکن مولانا ایسی مشکلات کو کہاں خاطر میں لاتے ہیں۔ سو تذبذب میں پڑے بغیر کسی بھی قسم کی مصلحت کا چوغا اُتار پھینک کر آمریت کے خلاف جمہوریت کی جنگ ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے اگلے مورچوں پر جا کر لڑتے رہے۔ ایم ار ڈی جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف ایک سیاسی مزاحمتی تحریک تھی۔ جس میں پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یوآئی سمیت دیگر چھوٹی جماعتیں شامل تھیں۔ تب کے مرد ِ مؤمن مرد حق کو ایم آر ڈی کی شکل میں اپنے خلاف چلنے والی تحریک کیوں کر ہضم ہو سکتی تھی۔ سو مولانا فضل الرحمان ، مولانا عبد الغفور حیدری سمیت دوسرے سیاسی زعماء کو نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں جِھیلنے جیل جانا پڑا بلکہ تب کے باوردی امیر المومنین کے حکم پر ان کی پُشتوں پر کوڑے بھی برسائے گئے ۔ واقفان احوال کے مطابق یہ دور سیاسی کارکنوں کے لئے ابتلاء و آزمائش کے لحاظ سے انتہائی کھٹن تھا۔
.
مولانا کی سیاسی زندگی کے پہلے انتخابات بھی1985 کو اسی پُرآشوب سیاسی دور میں ہوئے جن کا مولانا نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کر دیا۔ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی 1988کےطیارہ حادثے میں جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے جن میں مولانا نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ کامیاب ہو کر پہلی دفعہ اسمبلی بھی پہنچے۔ بہانوے 92 سیٹیں لینے والی پیپلز پارٹی کی بے نظیر بھٹو نے ہم خیال جماعتوں کو لے کر مرکز میں حکومت تشکیل دی۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن بینچوں سے اپنی پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا۔ سن نوے 90 میں پھر عام انتخابات ہوئے ان انتخابات میں من پسند رزلٹ کے حصول کے لئے مخصوص حلقوں کی طرف سے تخلیق شُدہ اسلامی جمہوری اتحاد ( آئی جے آئی ) کی سراً و جہراً ثواب کی نیت سے دل کھول کر مدد کی گئی مولانا نے اپنے آپ کو اس اتحاد سے فاصلے پر رکھا۔ اکیلے پرواز کی وجہ سے مولانا ہارے(یا ہروائے گئے)۔
.
(نو جماعتی اتحاد آئی جے آئی کس نے بنائی، آئی جے آئی کے کس رہنما کو کتنی رقوم کی ادائیگی ہوئی؟ سب کچھ عدالتی فیصلے کی شکل میں تاریخ کا حصہ بن چکا ہے)۔ انتخابات کے بعد دو سو چھ عام نشستوں میں سے ایک سو پانچ 105 نشستیں لینے والی آئی جے آئی میں شامل سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کو حکومت بنانے کی دعوت دی گئی۔ اُس وقت کے “خان صاحب” آج کے نواز شریف وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس میں خیمہ زن ہوگئے۔ یوں جے یو آئی نے اس اسمبلی میں بھی اپوزیشن بینچوں پہ بیٹھنے پر ہی اکتفاء کیا۔ سن تیرانوے 93 میں ایک دفعہ پھر ملک بھر میں عام انتخابات کا میدان سجا۔ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میں چھیاسی 86 نشستیں لے کر دوبارا اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ بینظیر بھٹو نے ازاد ارکان کی مدد سے مرکزی حکومت تشکیل دی۔ اس بار مولانا فضل الرحمان اسمبلی تو پہنچے لیکن بیٹھے اپوزیشن بینچوں پر ہی. البتہ اس ٹینیور میں پہلی دفعہ مولانا خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے۔
.
واضح رہے کہ دفاع ،خارجہ، تعلیم، پیداوار ، کشمیر، پیشہ ورانہ تعلیم، مذہبی تعلیم سمیت دیگر امور کے لیے پارلیمنٹ کی تقریباً تین درجن پارلیمانی کمیٹیاں قائم ہیں ۔ ان کمیٹیوں میں حکومتی اراکین ِ اسمبلی بھی ہوتے ہیں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی۔ جیسے چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی بھی اپوزیشن میں رہتے ہوئے آج کل کسی کمیٹی کے ممبر ہیں۔ عام طور پر کمیٹی کے سینئر اور تجربہ کار ممبر کو کمیٹی کا سربراہ بنایا جاتاہے۔ کمیٹی میں شامل ہونے یا کمیٹی کے چیئرمین بننے کا تعلق حکومت سے نہیں, بلکہ پارلیمنٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔
.
سن چھیانوے 96 کے آواخر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ایک دفعہ پھر قبل از وقت توڑی گئی۔سن ستانوے 97 کے فروری میں انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔ مسلم لیگ نے ایک سو چونتیس 134 نشستیں لے کر گویا جھاڑو پھیر دی۔ پیپلز پارٹی کے حصے میں اٹھارہ 18 جب کہ جے یو آئی کے حصے میں صرف دو سیٹیں آئیں۔ مولانا فضل الرحمان سمیت نامی گرامی سیاست دانوں کے برج الٹ گئے۔ سلسلہ چلتا رہا ۔انیس سو ننانوے کے اکتوبر میں نواز شریف کی بھاری اکثریت کی حامل اس تگڑی حکومت کا تختہ بھی الٹا گیا۔ نواز شریف پہلے جیل، پھر معاہدہ کرکے باہر چلے گئے۔ دو ہزار دو میں پرویز مشرف ریفرنڈم کے ذریعے نہ صرف باوردی صدر بنے بلکہ صدر بننے کے بعد بے ضرر اسمبلیوں کے وجود کے لئے عام انتخابات کروانے کا بھی اعلان کر دیا۔ سرکاری سرپرستی میں جنم پاکر پَھلنے پھولنے والی مسلم لیگ ق بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی فارورڈ بلاک کے تعاون سے قاف لیگ نے حکومت تشکیل دی۔ جمالی، شجاعت اور شوکت عزیز یکے بعد دیگرے وزیراعظم بنے۔
.
ان انتخابات میں خاص بات یہ سامنے آئی کہ مذہبی اتحاد ایم ایم اے تیسری بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرا۔ ایم ایم اے کے سکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر چُنا گیا۔ تا انکہ دو ہزار سات میں اس حکومت کی مدت بھی پور ہو گئی۔ ق لیگ کے اس پانچ سالہ ٹینیور میں سن دو ہزار سات 2007انتہائی معرکہء آرا رہا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت بھی اسی سال کے اواخر میں ہوئی اور لال مسجد کا دل خراش سانحہ بھی اسی سال جولائی میں رونما ہوا۔ مشرف نے کمان کی چَھڑی جنرل کیانی کے حوالے کر کے وردی بھی اسی سال اُتاری اور عدالت کے ساتھ محاذ آرائی بھی پرویز مشرف نے اسی سال شروع کی۔ پاکستان میں خود کش حملے بھی اِسی سال پے درپے ہونے لگے اور تحریک طالبان پاکستان کا ظہور بھی اسی سال ہوا۔
.
تب ریاست کے مقابلے میں ہتھیار اٹھانے والے طالبان اور طالبانیت کے خلاف اگر کسی نے بلند آہنگ کے ساتھ آواز اُٹھائی تو وہ مولانا فضل الرحمان ہی تھے۔ مولانا نے اپنی مومنانہ فراست سے نہ صرف اپنے زیر ِاثر کٹر مذہبی طبقے کو عسکریت کی طرف جانے سے روکا بلکہ عسکریت کو دلیل کی بنیاد پر مسترد کر کے عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ سیانے ٹھیک کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ورنہ مولانا کو راستے سے ہٹانے کا بندوبست کب کا ہو چکا تھا۔
.
اُنہی دنوں کی بات ہے ۔جمعے کی نماز کے بعد ہم دارالعلوم کراچی کے کینٹین کے سامنے والے چمن میں بیٹھ کر آم کھا رہے تھے۔ میں نے شریکِ محفل ایک سواتی دوست عبد الصمد سواتی سے سوات میں نمودار ہو کر بونیر تک بال و پَر پھیلانے والی تحریک طالبان پاکستان کی بابت پوچھا۔ آم چوستے ہوئے اس دوست نے یہی جواب دیا کہ طالبان اگر حق پر ہوتے تو نہ وہ مولانا کو غلط کہتے اور نہ ہی مولانا اُنہیں غلط کہتا۔عبدالصمد سواتی جیسے ہزاروں لوگ مولانا کی وجہ سے ہی طالبان کے قافلے میں شامل ہونے سے گومگو کی کیفیت میں رہے ک۔بہرحال تحریک طالبان نامی فتنے کے خلاف بروقت آواز اٹھاکر مذہبی طبقے کو عسکریت بُرد ہونے سے بچانا مولانا کا ایسا کارنامہ ہے جسے کوئی مخالف بھی نہیں جھٹلا سکتا۔
.
دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں مولانا اگرچہ اپنے آبائی حلقے سے ہار گئے لیکن بنوں سے جیت کر اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی اور جے یو آئی پر مشتمل قومی حکومت وجود میں آئی۔ آصف علی زرداری نے وزارت عظمیٰ کا تاج سید یوسف رضا گیلانی کے سر سجا کر خود قصر ِ صدارت میں متمکن ہو گئے۔ قومی حکومت کی بیل منڈھے تو چڑھی لیکن چڑھ کر ٹِک نہیں سکی۔ حکومت کی تشکیل کے بعد ایک سال کے اندر اندر نون لیگ الگ ہوئی۔ ڈھائی پونے تین سال کا عرصہ گزر گیا تو جے یو آئی بھی حکومت سے اپنی راہیں جُدا کر کے اپوزیشن بینچوں پر چلی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جے یو آئی مرکزی سطح پر کسی حکومت کا حصہ بنی تھی۔
.
اللہ اللہ کرکے زرداری والا پانچ سالہ دور بھگتنے کے بعد قوم کو دو ہزار تیرہ میں پھر انتخابات کا گھونٹ پینا پڑا۔ اس بار مرکز اور پنجاب میں میں مسلم لیگ نون، سندھ میں پی پی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔ مولانا ایک دفعہ پھر اپنے حلقے سے کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچنے کے بعد نواز شریف کی دعوت پر حکومت کا حصہ بنے۔ دو ہزار تیرا سے لے کر اٹھارہ تک کا یہ عرصہ ہی ایسا عرصہ ہے جس میں مولانا پورے پانچ سال تک جم کر حکومتی بینچوں پر رہے۔ سابقہ زرداری دور کے پونے تین سال بھی ملا دیے جائیں تو مولانا کی کل حکومتی عمر آٹھ سالہ بنتی ہے۔ مجھ جیسے سیاسی تاریخ کے طالب علموں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ٹی وی اینکرز اور ان کے سامنے براجمان تجزیہ کار کس بنیاد پہ مولانا فضل الرحمن کے اوپر ہر حکومت کا حصہ بننے والے مشہورِ زمانہ الزام کی جگالی کرتے ہوئے تھکتے نہیں۔
.
مولانا کی سیاست اور اندازِ سیاست پر تنقید ہوتی رہی ہے، اور ہونی بھی چاہیے۔ ان کی سیاست کے بہت سارے پہلو قابلِ اشکال بھی رہے ہیں، تاہم مولانا کے موجودہ جرأت مندانہ اور بے لچک اسٹانس سے اتنی بات ضرور بےباق ہوئی کہ مولانا کا دامن کسی بھی نوع کی مالی بدعنوانی سے پاک صاف ہے۔ مجھ جیسے وہ دوست بھی، جو دھرنا سیاست کو ملک کے لئے نقصان دہ سمجھ رہے ہیں دیانتاً اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ مولانا کی شخصیت پروپگنڈا تلے دھندلائی گئی ہے۔ مولانا کی حبّ الوطنی کو شک کی نظر سے دیکھنا، مولانا کو دو تین وزارتوں کی مار قرار دینا اور پہلی دفعہ حکومت و اسمبلی سے باہر رہنے والی بات گھماتے رہنا محض پروپگنڈا نہیں،تو کیا ہے؟؟؟


شیئر کریں: