Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وفاقی وزیرتوانائی عمرآیوب خان نے گازین یارخون میں ہائیڈروپاورپراجیکٹ افتتاح کیا

    October 19, 2019 at 8:36 pm

    مستوج( نمائندہ چترال ٹائمز)وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان ہفتے کے روز اپر چترال کے دورافتادہ وادی یارخون میں واقع گاؤں گازین کے مقام پر 306کلوواٹ ہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کا افتتاح کیا جسے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے پاکستان غربت مکاؤ فنڈ (پی پی اے ایف) اور جرمن بنک کے ایف ڈبلیو کی مالی معاونت سے مکمل کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹیو افیسر قاضی عظمت عیسیٰ اور کے ایف ڈبلیو کے کنٹری ڈائرکٹر وولف گینگ مولرز اور اے کے آرایس پی کے جنرل منیجر مظفر الدین کی معیت میں فیتہ کاٹ کر اور افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کرکے بجلی گھر کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ بجلی گھر سے پانچ دیہات کے 335گھرانے مستفید ہوں گے اور سوختنی لکڑی کی جگہ سستی بجلی کی فراہمی سے مقامی لوگوں کی زندگی پر خوشگوار اثر پڑے گا جس کا علاقے کے عمائیدین بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان، تنظیم کے صدر محمد وزیر خان اور مقامی خاتون حمیدہ بی بی نے ذکر کیا۔ اپنی خطاب میں وفاقی وزیر عمرا یوب خان نے کہاکہ ملک میں قابل تجدید توانائی کے بے پناہ وسائل سے بھر پور استفادہ کرکے بجلی کی کمی کو پورا کرنا وزیرا عظم عمران خان کے وژن کا حصہ ہے اور چندسالوں کے اندر 30ہزار میگاواٹ بجلی اس سے حاصل کی جائے گی تاکہ ایک طرف عوام کو سستی بجلی مل سکے تودوسری ماحول کو بھی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کمیونٹی کی اجتماعی کام کی اہمیت بتاتے ہوئے کہاکہ دیہی تنظیمات کے ذریعے وہ کام سرانجام پاتے ہیں جوکہ نمایان ہوکر تبدیلی کا احساس سب کو دلاتے ہیں اور یہ کام خود ان ہی کے ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں۔ا نہوں نے کہاکہ اے کے آرایس پی چترال اور گلگت بلتستان میں جس قابل قدر کام میں مصروف ہے، اس سے آنے والی نسلوں کی تقدیریں بدل رہے ہیں کیونکہ دیہی تنظیمیں وہ کام سرانجام دیتے ہیں جوکہ حکومت کے لئے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آبائی ضلع ہری پور میں دس سال پہلے ایک روڈ پراجیکٹ کا مثا ل دیتے ہوئے کہاکہ ضلعی حکومت کی تخمینہ لاگت 5کروڑ روپے کے مقابلے میں دیہی تنظیموں نے صرف 46لاکھ روپے میں یہ منصوبہ مکمل کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہاکہ پاکستان میں نوجوانوں کی ترقی وزیر اعظم عمران خان کی وژن اور مشن کا حصہ ہے اور نوجوانوں کو برابر کا حق ملے گا اور محنت کش اور غریب کے بچے بھی کسی بھی طور پر پیچھے نہیں رہ جائیں گے اور جو انڈہ، مرغی، گائے پالنے کا ذریعہ معاش اختیار کررہے ہیں، وہ لائق تحسین ہیں اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس بھی ہے جوکہ حلال رزق اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں اور اس کام میں خواتین کا کردار سب سے اہم ہے جوکہ گھرکی تقدیر ہی بدل دیتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بروغل سے لے کر لواری ٹاپ تک معیاری سڑک کی تعمیر ان کا خواب ہے جوکہ اس حکومت کے دور میں شرمندہ تعبیر ہوکر رہے گا اوریہ کسی پر احسان نہیں ہوگا جوکہ عوام کا حق ہے۔ انہوں نے بریگیڈیر خوش محمد کے مطالبے پر ژوپو کے مقام پر ٹرک ایبل پل کی تعمیر اور سول ڈسپنسری کے قیام کے لئے بھی صوبائی حکومت سے منصوبے منظورکرانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ صوبے کے وزیر اعلیٰ محمود خان کو خصوصی طور پر یارخون ویلی کے دورے پر لے آئیں گے تاکہ یہاں پر ترقیاتی کام انجام پاسکیں اور پسماندگی دور ہوجہاں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ اس سے قبل کے ایف ڈبلیو کے کنٹری ڈائرکٹر وولف گینگ مولر نے کہاکہ یہ ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ جرمن عوام کی طرف سے پاکستان کے اس خوب صورت خطے کے عوام کے لئے ایک تخفہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس پراجیکٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمنی کے ان اچھے لوگوں کو ضرور یاد کریں جوکہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ ایسے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور علاقے کے مسائل بیان کئے جبکہ اے کے آرایس پی کے بورڈ ممبر رضیہ برہان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اے کے آر ایس پی کے رینیو ایبل انرجی ڈیپارٹمنٹ کے پروگرام منیجر درجات خان، اے کے آر ایس پی اپر چترال کے ایر پروگرام منیجر سید سجاد حسین شاہ اور دیگر سینئر اسٹاف فرید احمد، مہربان خان، انجینئر جہان زیب خان بھی موجود تھے۔ بعدازاں وفاقی وزیر دوسرے مہمانوں کے ساتھ چترال ایرپورٹ پر قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں اے کے آرایس پی کے ریجنل پروگرام منیجر سردار ایوب اور ایڈیشنل ڈی سی ذاکر حسین جدون نے ان کا استقبال کیا۔


     

  • error: Content is protected !!