Chitral Times

Nov 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌کی 489میگاواٹ کے حامل پن بجلی کے منصوبوں‌پرعمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے شعبہ توانائی میں 489 میگا واٹ کے حامل پن بجلی کے نئے منصوبوں پر جلد کام شروع کرنے کیلئے تمام تقاضے تیزرفتاری سے پورے کرنے اور منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ٹائم لائن کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔صوبائی حکومت شعبہ توانائی میں نئی حکمت عملی کے تحت جدت کی طرف گامزن ہے، صنعتی صارفین کو ویلنگ ماڈل کے تحت بجلی کی فراہمی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا آغاز بہترین مثالیں ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت 161.2 میگا واٹ کی مجموعی استعداد کے سات مختلف منصوبے مکمل کر چکی ہے جن سے آمدنی کا تخمینہ سالانہ 4404.521 ملین روپے ہے، زیرتعمیر پانچ منصوبے بھی2022 ءتک مکمل کر لئے جائیں گے جن کی مجموعی استعداد 216 میگا واٹ ہے جن کی تکمیل سے 11137 ملین روپے سالانہ آمدنی متوقع ہے۔چھوٹے پن بجلی گھروں کے قیام کے منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 332 منصوبوں میں سے 280 مکمل ہیں جن کو متعلقہ آبادی کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہے۔ ان منصو بوں سے 90 ہزار خاندان مستفید ہونگے۔ دوسرے مرحلے کے تحت مزید 672 چھوٹے پن بجلی گھر قائم کئے جارہے ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ یہ منصوبے موجودہ دورحکومت میں مکمل کرلئے جائیں جن سے 55 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور تقریباً دو لاکھ خاندان مستفید ہونگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں محکمہ توانائی و بجلی خیبرپختونخوا کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماءجہانگیر ترین، وزیرخزانہ تیمورسلیم جھگڑا ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں محکمہ توانائی خیبرپختونخوا کی ایک سالہ کارکردگی، مکمل شدہ منصوبوں ، زیرتعمیر اور نئے منصوبوں خصوصی طور پر وفاقی حکومت سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پیڈو کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے ، صوبائی حکومت کے ویلنگ ماڈل کی تکمیل ، صوبائی منصوبوں کو نیشنل جنریشن پلان میں شامل کرنے ، صوبے کے منصوبوں کی سی پیک فریم ورک میں شمولیت ، پیسکو، اے ای ڈی بی ، سی سی پی اے ۔جی اور این ٹی ڈی سی میں صوبے کی نمائندگی اور کوہاٹ ڈویژن کو گیس کی فراہمی جیسے اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا اور اس سلسلے میں رواں ہفتے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جس میں متعلقہ وفاقی حکام شرکت کرینگے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت ضلع چترال ، سوات اور دیر میں تین ہزار میگاواٹ کی مجموعی استعداد کے حامل سترہ پن بجلی کے منصوبے قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لئے ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کی ضرورت سے اتفاق کیا گیافیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ مسائل کو بھی رواں ہفتے اجلاس میں بطور ایجنڈا شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیڈو کے مکمل کردہ منصوبوں میں ملاکنڈ تھری ،ریشون ، شیشی، پیہور،مچئی ، رانولیہ او ر درا ل خوڑشامل ہےں جن کی مجموعی استعداد 161.2 میگاواٹ ہے۔ علاوہ ازیں زیر تعمیر منصوبوں میں جبوڑی پن بجلی گھر ، کروڑہ ، کوٹو، مٹلتان اور لاوی ہائیڈرو پراجیکٹ شامل ہیں جن کی مجموعی استعداد 216میگاواٹ ہے ،یہ منصوبے 2022تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ اجلاس کو محکمہ توانائی کی مستقبل کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈونرز کی معاونت سے پبلک سیکٹر ز میں چارنئے منصوبے پلان کئے گئے ہیں جن میں بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، بری کوٹ ، پاٹرک شرینگل اور گبرال کالام شامل ہےں ۔ ان منصوبوں پر رواں مالی سال کے دوران تعمیری کام شروع کر دیا جائیگا ، جو 2025میں مکمل ہوں گے۔منصوبوںکی لاگت 1233 ملین ڈالر ہے جبکہ سالانہ متوقع آمدنی 17860ملین روپے ہے ۔ سی پیک کیلئے ترجیحی منصوبوںکے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے پانچ منصوبے پہلے سے سی پیک میں شامل کئے جاچکے ہیں جن کی مجموعی استعداد 961 میگاواٹ ہے جبکہ 1243 میگا واٹ کے حامل چھ منصوبے سی پیک میں شامل کرنے کیلئے پیش کئے گئے ہیں۔ نئے ضم شدہ ضلع کرم میں 10.5 میگاواٹ کے چپڑی چرخیل منصوبے پر کام 2020 ءمیں شروع کر دیا جائے گا جو چار سالوں میں مکمل ہوگا، منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 4.5 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ نئے اضلاع میں پن بجلی کی استعداد کی فیزیبلیٹی سٹڈی بھی کی جارہی ہے جس کی لاگت 150 ملین روپے ہے۔۔ صوبے میں بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران 2056 ایف ائی آرز درج کی گئی ہیں، 560 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے 1128.8 ملین روپے کے بقایا جات وصول کئے گئے ہیں۔
<><><><><><>>
دریں‌اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے ای گورننس اصلاحات سے نہ صرف عوامی مسائل فوری طور پر حل کئے جا سکیں گے بلکہ اس اقدام سے حکمرانی کے مجموعی عمل میں بھی بہتری اور جدت لائی جا سکے گی ۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں ڈپٹی کمشنر آفس، ضلعی کچہریوں اور تحصیل آفس کے اچانک دورے کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر اہلکاروں کو معطل کرنے اور خراب کارکردگی والے ریونیو آفیسر ز کو فوری تبدیل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس موقع پر انہوںنے سرکاری عملے کی حاضریوں کو یقینی بنانے کیلئے مذکورہ دفاتر میں بائیو میٹرک سسٹم نصب کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ متعلقہ محکمے عوامی روابط بڑھا کر اُن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پشاور نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ88 فیصد لینڈریکارڈ کمپیوٹرائزکیا جا چکا ہے اور بہت جلد اس عمل کو مکمل کر لیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے عوامی مسائل بھی سنے اور موقع پر ہی اُن کے حل کیلئے احکامات جاری کئے ۔ وزیراعلیٰ نے نوجوان سے ڈومیسائل کی فراہمی کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی اصلاحات کا مقصد شہریوں کو خدمات کے حصول میں آسانی فراہم کرنا ہے۔


شیئر کریں: