Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لینگ لینڈ سکول کے پرنسپل اوربورڈ ممبرکوگرفتارکرکے انکوائری شروع کی جائے..مولانا چترالی

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال سے ممبرقومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئرسول جج چترال کی عدالت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ انھوں نے گزشتہ ایک ہفتے سے بند لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کو کھولنے کے احکاما ت صادرکیا ہے۔
.
اُنہوں نے کہا کہ سکول کو کھولنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی سکول اینڈ کالج کے اندر ہونے والے بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کے خلاف انکوائیری کی جائے اور شفاف انکوائیری کے لئے سکول کالج کے پرنسپل مس کیری اورسکول کے بورڈ ممبر شہزادہ سراج الملک کو گرفتار کئے جائیں۔
.
اُنہوں نے کہا کہ سراج الملک اینڈ کمپنی سول سوسائیٹی کی آڑ میں سکول کے 54چکوروم زمین ہتھیانا چاہتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ مس کیری اعزازی طور پر پرنسپل کی سیٹ پر کام کر رہی ہے جبکہ حالت یہ ہے کہ مس کیری کی قیام طعام کی مد میں 59لاکھ 75ہزار 121روپے بینک الفلاح کے اکاؤنٹ سے نکال کر شہزادہ سراج الملک کی ملکیتی ہوٹل کو ادا کئے گئے ہیں۔اور ساتھ پرنسپل ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے سنگل دستخط سے نکال لیا ہے۔ جبکہ ان کے ماہانہ تنخواہ اوراخراجات الگ ہیں.
.
انھوں نے کہا کہ سکول و کالج کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران بھی ایک ہی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ BOGکا چیئر مین سیٹنگ ڈپٹی کمشنر اور ممبران میں طلباء کے والدیں شامل ہونے چاہئے۔اُنہوں نے کہا کہ مس کیری کی طرف سے اساتذہ کے ساتھ انتقامی کاروائی کے سخت نتائج بر امد ہونگے۔
.
انھوں نے انتہائی افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج پرنسپل نے سکول کے جونیئرسیکشن کے ایک استانی کو سکول کے اندر داخل ہونے سے روک دیا ہے جوکہ ایک چترالی بیٹی کے ساتھ انتہائی نارواسلوک ہے۔
.
مولانا چترالی نے کہا کہ میں بہت جلد مشاورت کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں اُس وقت کے وزیر اعلٰی، چیف سکریٹری،کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف رٹ پٹیشن داخل کرونگا۔کہ اُنہوں نے اتنے بڑے ادارے کو چند لوگوں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑے ہوئے ہیں۔
.
مولانا چترالی نے مذید کہا کہ پرنسپل مس کیری نے دو انگریز ٹورسٹس کو چترالی طلباوطالبات کو تربیت دینے کے بہانے چترال بلایا ہے اور ان پر ہزاروں روپے خرچ کئے جارہے ہیں اورکس طرح کی تربیت ہمارے بچوں کو دے رہے ہیں وہ بھی چند دنوں کے اندر منظرعام پر لایا جائیگا۔ مولانا نے کہا کہ چترال کے عوام اب تک خاموش تھے اب اگہی پیداکرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔


شیئر کریں: