Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بھارت اوراسکے پڑوسی ممالک(6) بھارت اور سری لنکا….. ڈاکٹرساجد خاکوانی

Posted on
شیئر کریں:

سری لنکا کے ساتھ بھارت کی سمندری حدود ملتی ہیں،دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہاجا سکتاہے کہ سری لنکا کا ملک ہندوستان کا سمندری یابحری ہمسایہ ملک ہے۔سری لنکاکی طرف بھارت کی آخری ریاست ”تامل ناڈو“ہے۔تامل ناڈو اور سری لنکا کے درمیان ایک چھوٹی سی ”آبنائے پالک“ہے جس کی چوڑائی بمشکل 33سے 50میل ہے۔اس طرح بھارتی تامل ناڈواور سری لنکا بس آنے سامنے ہی واقع ہیں۔اس آبنائے کی ایک اورخاص بات کہ اس میں پانی کی گہرائی تین سے چارفٹ تک ہے،چنانچہ اس میں کوئی بڑے جہاز نہیں چل سکتے۔یہ سب امور تامل ناڈو کے سری لنکاسے بہت زیادہ قربت پر دلالت کرتے ہیں۔ان سب سے بھی زیادہ قربتیں وہاں کی آبادیوں کے درمیان واقع ہوئی ہیں کیونکہ تامل قبائل کی بہت بڑی اکثریت سری لنکاکے علاقوں میں بھی قیام پزیر ہے،اور جب کبھی سری لنکن تاملوں پر کوئی مشکل افتادآن پڑتی ہے تو اس کی بے چینی بھارتی تامل ناڈوریاست کے باسیوں میں بھی واضع طورپر محسوس کی جاتی ہے۔اوراس افتاد کے لازمی اثرات یہ ہوتے ہیں کہ سری لنکن تامل قانونی یاغیرقانونی طریقے سے یاپھرمہاجرین کے روپ میں بھارتی تامل ناڈو ریاست میں بھرمارکرنے لگتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی جب کبھی تامل نے سری لنکن حکومت کے خلاف ہتھیاراٹھائے تو اس میں بھارتی تامل ناڈوکی مدد ہمیشہ شامل حال رہی خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو۔سرحدی پٹی کا تعین تو بری زمین پر بعض اوقات بہت دشوارہتاہے تب پانی میں تو ممکن ہی نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سرحدی لکیر کھینچ دی جائے،چنانچہ سرحدی خلاف ورزیوں پر آئے دن شہری،ملاح،مچھیرے اور دیگر،مقامی لوگ گشت پر موجودفوجی کشتیوں کی گولیوں کانشا نہ بنتے رہتے ہیں۔ان تمام حالات کے باعث اوربھارتی تاملوں کی حمایت کا بہانہ کافی ہوتا ہے کہ ہندوستان کی حکومت سری لنکاپر اپنا نزلہ گرانا شروع کر دیتی ہے۔
.
بھارت اور سری لنکا کے پوشیدہ اختلافات 1977ء میں کھل کر سامنے آگئے تھے۔1977کے پارلیمانی انتخابات میں صدر جے آر جی وردان نے واضع کامیابی حاصل کر نے کے بعد دو ایسے کام کیے جو بھارت کوپسند نہ آئے۔انہوں نے ریاست کا نیادستور مرتب کیا اور آزاد معاشی پالیسی کی بنیاد رکھی۔یہ پہلا جنوبی ایشیائی ملک تھا جس نے آزاد معیشیت کو بطور معاشی پالیسی کے اپنایا۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کوئی بھارت کا ہمسایہ ہو اور برہمن اس کی آزادی کو تسلیم کر لے؟؟سری لنکاکی یہ آزادانہ معیشیت کی پالیسی بھارت کو ہضم نہ ہو سکی اور ایک کشمکش کاآغاز ہو گیا۔بھارت کو اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ اگر سری لنکاکو بروقت سبق نہ سکھایا گیاتو خطے کے دیگر ممالک بھی آزاد معاشی اختیارکر کے بھارت کے چنگل سے آزاد ہو سکتے ہیں۔اور پھر ساری آزادیوں کی تو بنیاد ہی معاشی پالیسی ہوتی ہے۔آج جس ملک نے معاشی آزادی حاصل کی ہے کل کو وہ دفاعی اور خارجہ امور میں اپنی آزادانہ پالیسیاں اختیارکر سکتاہے،اور یہ بات بھلا دہلی سرکار کو کیسے برداشت ہو سکتی ہے۔کہنے کو بھارت پوری دنیامیں سیکولر،لبرل،جمہوریت پسند اور پارلیمانی ملک ہے لیکن ہاتھی کے دانت دکھانے کے اوراور چبانے کے اور ہوا کرتے ہیں۔
.
جب تک سری لنکامیں آزادانہ معاشی پالیسی نہیں تھی بھارت اور سری لنکاکے تعلقات بہت شاندار تھے اوریہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے زمانے کی بات ہے۔سری لنکاکی آزادانہ معاشی پالیسی بنتے ہی بھارت نے سری لنکا کی متحارب آزادی پسند گروہوں کی حمایت شروع کر دی۔1983ء کے وسط تک بھارتی خفیہ ایجنسی‘”را“نے اس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی کی ہدایات پر سری لنکاکے باغی گروہوں کی مالی امداداورانکی عسکری تربیت کاآغاز کر دیا۔کسی خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی یہ بدترین مثال ہے۔جون1987کو جب سری لنکاکی افواج نے باغیوں کو ایک ”جافنا“نامی مقام پر محصور کر دیا تھا اور باغی چاروں طرف سے ریاستی افواج کے گھیرے میں پھنس چکے تھے عین اس وقت بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے فضا سے ان باغیوں پر کھانے کا سامان نچھاورکردیااور انہیں بیرونی کمک بہم پہنچادی۔سری لنکا کی حکومت چلاتی رہ گئی اور سری لنکاکی حکومت نے بیان بھی دیا بھارتی فضائیہ نے یہ مکروہ اقدام عین اس وقت کیا ہے جب باغی شکست کھاکر ہتھیارڈالنے کے قریب تھے۔ایک رپورٹ کے مطابق پچیس ٹن وزن کے برابرخوراک اورادویات کے ڈبے ٖفضائیہ کے براہ راست اقدام کے ذریعے ان باغیوں کوتازہ دم کرنے کے لیے پھینکے گئے تھے۔اس طرح کے اقدامات کا مقصد سری لنکاسے اپنے مطلب کے مفادات پورے کرانا تھا،جنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے سری لنکاکی حکومت سے مزاکرات کیے گئے،ان مزاکرات کی حقیقت سے ایک زمانہ آشنا ہے اوران مزاکرات کے بعد 29جولائی 1987ء کوایک بھارت سری لنکا امن معاہدہ وجود میں آیا جس پر بھارت کی طرف سے اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی اور سری لنکا کے صدر جے آر جی وردان نے دستخط کیے۔اس معاہدے میں سری لنکاکو ماننا پڑا کہ وہ صوبوں کومزید خودمختاری دے گا،مشرقی اور شمالی صوبوں کو ملا کر ایک صوبہ بنادے گا اور تامل زبان کو اپنی ریاست میں قانونی و آئینی تحفظ دے گا۔ان مقاصد کے حصول کے لیے بعد میں سری لنکاکی حکومت کوآئین میں ترمیم جیسا کڑواگھونٹ بھی پینا پڑا۔سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اپنے کسی پڑوسی ملک کے کہنے پر اس طرح کی تبدیلیاں بھی کرے گا؟؟یہ برہمن راج کا سیکولرڈنڈاہے جو بھارت کے اندر اور بھارت کے باہر،ہرجانب غربت اور جہالت کی ماری انسانیت پر انتہائی بے رحمی سے برس رہاہے۔
.
معاہدے کاسب سے تکلیف دہ پہلویہ تھا کہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست کو مجبورکیاگیا کہ بھارتی افواج کو اپنی آئینی حدود میں داخل ہونے کی اجازت دے۔چنانچہ ”بھارتی امن کار قوت(Indian Peace Keeping Force) کے نام سے ایک دہشت گرد،انسان دشمن اور فسادی فوج کو سری لنکامیں تعینات کر دیاگیا۔ایسی فوج کہ جس کے شر سے بھارت کاکوئی پڑوسی ملک محفوظ نہیں ہے اور ایسی فوج کہ جس نے بھارت کے اندربھی نہتے شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھاہے اور آئے دن جس فوج کی گولیوں سے کتنے ہی پرامن باسی شہرخاموشاں میں منتقل ہوچکے ہیں اور کتنے ہی نوجوانوں کا آج تک پتہ ہی نہ چل سکا انہیں آسمان کھاگیا یا زمین نگل گئی،یقیناََوہ گم شدہ افراد بھارتی فوج کے عقوبت خانوں میں یاتو زندگی کے کس انتہاکی کسمپرسی میں پورے کررہے ہوں گے یاپھر انہیں اگلے دنیاؤں میں سدھار دیا گیاہوگا۔یہ ہے بھارت اصل سیکولر چہرہ جس کی فوج”امن“قائم کرنے سری لنکامیں داخل کردی گئی۔سری لنکامیں بھارتی فوج کی بددیانتی ملاحظہ ہو کہ جب انہیں کہا گیا کہ متحارب گروہوں سے اسلحہ ضبط کرلو تو بھارتی فوج نے صاف انکار کر دیا،اور جواب دیا کہ جب تک معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمدنہیں ہو جاتا وہ ایسا کرنے سے قاصر رہیں گے۔اس سے امن معاہدے کی قلعی کھل جاتی ہے کہ یہ معاہدہ سری لنکن حکوت کس قدر دباؤ میں آکر کیاہوگا۔یہ توآنے والا مورخ ہی فیصلہ کرے گا بھارت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ معاہدے کرتاہے یا انہیں احکامات کی املاء دیتاہے،جس پر کہ وہ مجبورہوجاتے ہیں۔بھارتی فوج کم و بیش تین سال سری لنکامیں رہی،اس دوران عالمی اداروں برائے انسانی حقوق سمیت بھارتی اخبارات نے بھی اس سیکولر فوج پر انسانی حقوق کی بے پناہ خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے۔تآنکہ وہ فوج جو تامل قبائل کے مفادات کی خاطر پڑوس کے گھرمیں ناجائز کود گئی تھی،وہی تامل اقوام اس فوج کے زبردست دشمن ہو گئے اور سری لنکامیں بھارتی فوج کو تامل کی سخت ترین مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔بلآخرسری لنکاکی حکومت نے تنگ آکر خود ہی کہنا شروع کیاکہ ہماری سرزمین خالی کردو۔سامراج کبھی بھی پیارکی زبان نہیں سمجھتا۔راجیوگاندھی نے صاف انکارکردیا۔سری لنکاکے متحارب گروہ،جواب خود بھی بھارتی فوج کے دشمن ہوچکے تھے،حکومت نے ان گروہوں کوخفیہ طریقے سے ہتھیارفراہم کیے کہ ان قابض بھارتی فوجیوں کونکال دفع کرو۔ادھر1989ء میں راجیوگاندھی کو پارلیمانی انتخابات میں بدترین شکست کاسانا کرنا پڑا۔تب نئے بھارتی وزیراعظم وی پی سنگھ نے اپنی شکست خوردہ افواج کو واپس بلالیا اور 32مہینوں کے قیام کے بعد 24مارچ 1990ء کو قابض بھارتی فوج کے آخری دستے کے ناپاک قدم سری لنکاکی زمین سے نکل باہر ہوئے۔اس دوران 1200بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے اور پانچ ہزار کی تعداد میں سری لنکن شہریوں نے اپنی جان مادر وطن پر قربان کی۔اس ڈرامے کا تاریخ ساز اختتام اس وقت ہوا جب ایک تامل نوجوان لڑکی ”تھن مازی راجرتنام“نے 21مئی 1991کو ایک خودکار بم بن کر راجیوگاندھی کو قتل کر دیاتھا۔یہ ہے زندہ قوموں کا انتقام۔

.
کیا اتنی بڑی قربانی دینے کے بعد بھارتی قیادت کے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں؟؟ہرگزنہیں،یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پراورکانوں مہر لگ چکی ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردے آن چکے ہیں،یہ اپنے گزشتہ لوگوں کے انجام سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے،یہ اندھے،بہرے اور گونگے لوگ ہیں۔انہیں کے بارے میں آسمانی کتابوں نے حکم دیا ہے کہ کفر کے اماموں سے جنگ لڑو۔اب بھارت کے شرق و غرب سے تقریباََکل اقوام سربکف ہیں اور اس سیکولرفوج کے دن اب گنے جاچکے ہیں،انشاء اللہ تعالی۔
drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
27297