Chitral Times

Oct 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • استاد محترم کو میرا سلام کہنا…….ترش و شیرین، نثار احمد

    October 8, 2019 at 10:35 pm

    ہر سال پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں یوم استاد منایا جاتا ہے۔اسے منانے کا مقصد مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں استاد کے کردار کو اجاگر کرنا،اور اس کی عظمت کا اعتراف کرنا ہوتا ہے۔
    .
    شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام سینٹنیل سکول چترال میں یومِ استاد کی مناسبت سے امسال بھی ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال نوید احمد جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈی ای او احسان الحق، اے سی فیاض اور اے ڈی او فاروق اعظم نمایاں تھے۔ پروگرام میں ضلع بھر کے چیدہ چیدہ اساتذہ کو اکیڈمی کی طرف سے بسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    .
    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسامہ وڑائچ اکیڈمی نے ایسے لائق تعریف اور مفید پروگرام منعقد کر کے علم دوستی کا ثبوت دیا ہو، بلکہ اس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً اکیڈمی کم وسائل اور ٹف چیلنجز کے باوجود مختلف قسم کے شاندار و جاندار پروگرامات کا تحفہ اہلِ چترال کو عنایت کرتا رہا ہے۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جناب فدا ء الرحمان صاحب کام، کام بس کام کا عَلَم ہوا میں لہرائے، علم کی خوشبو بکھیرتے ہوئے نہ صرف اکیڈمی کو وُسعت و طاقت دینے کے عزم پر کاربند ہیں بلکہ آئے دن تعلیم کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے بھی گاڑتے چلے جا رہے ہیں۔ اس اکیڈمی سے ہاتھ بھر بھر کر اپنی علمی پیاس بجھانے والے طالب علم نہ صرف سالانہ امتحانات میں امتیازی نمبر لے کر سرخ رو ہو رہے ہیں بلکہ مختلف میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ اپنا تعلیمی سلسلہ بھی آگے بڑھانے میں جُتے ہوئے ہیں۔اللہ کرے کہ اکیڈمی کی طرف سے علم کی فراہمی کا یہ مبارک سلسلہ ایسے ہی منظم انداز میں چلتا رہے۔
    .
    آج اگر ہم ٹیکنالوجی اور ترقی میں اقوامِ عالم سے پیچھے ہیں تو صرف اور صرف تعلیم کی وجہ سے ہیں۔ ہماری پسماندگی اور انحطاط و تنزل کی واحد وجہ جہالت ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف حصول ِ تعلیم پر بھرپور توجہ ہے۔تقریب میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر فداء الرحمن صاحب کے منہ سے یہ سن کر اچھا لگا کہ سابق ڈی سی شہید اسامہ وڑائچ کی طرح موجودہ ڈپٹی کمشنر چترال بھی دامے،درمے،قدمے اور سخنے ہر پہلو سے اکیڈمی کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے علم دوست اور ادب پرور لوگوں کو دنیا تادیر یاد رکھتی ہے۔
    .
    بہرکیف امدم برسرِ مطلب تعلیمی عمل میں استاد کا کردار انتہائی لابدی، ضروری اور کلیدی ہوتا ہے۔ اس بات سے اختلاف کوئی بھی باشعور شخص نہیں کر سکتا کہ استاد کے بغیر تعلیمی سفر آگے بڑھ سکتا ، اور نہ ہی جاری رہ سکتا ہے۔ استاد ایجوکیشنل پراسس کا ایسا مرکزی حصہ ہوتا ہے جس کے بغیر تعلیمی عمل کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتاہے۔ استاد ہی لوگوں کی زندگیاں سنوارنے کا مبارک فریضہ سر انجام دیتا ہے۔ لوہے کو تپا تپا کر اپنے پسند کی صورت گری کرنا اور پتھر کو تراش خراش کر کسی بہترین صورت میں ڈھالنا شاید اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا اپنے میٹھے بول، شیرین بیانی اور متاثرکن انداز ِ تدریس کے ذریعے بچوں کے رویّوں کو مثبت سمت کی جانب موڑنا۔ ظاہر ہے کہ یہ کام صبر آزما ہونے کے ساتھ ساتھ دقت طلب بھی ہے اور خلوص طلب بھی۔ استاد آگر اپنائیت، خلوص اور محبت کی دولت سے مالا مال نہ ہو تو پھر اس کے شاگردوں کو اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ استاد ایک لیڈر ہوتا ہے اور کسی بھی لیڈر کو لیڈ کرتے وقت اپنے تمام فالورز کو حکمت و دانش کے ساتھ اپنے پیچھے چلانا ہوتا ہے۔
    آج اگر ہمارے تعلیمی اداروں سے معاشرے کو باصلاحیت، ہنرمند اور ٹیلنٹڈ افراد کی سپلائی حسبِ ضرورت نہیں ہو پارہی تو پھر بحیثیت استاد ہمیں اپنے اندر خامیوں کو تلاش کرنے اور اُنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سر جوڑے بیٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر کوتاہی کہاں ہو رہی ہے؟ ہمیں اپنی زمہ داریوں کا بھرپور احساس کرکے اپنے فرض ِمنصبی کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے خوب جتن کرنے کی ضرورت ہے۔
    .
    با ایں ہمہ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں استاد کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جاتا، جہاں استاد کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس سے کارگردگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے, جہاں استاد کو اپنے ہی محکمے کے دفتر میں دھکے کھانے پڑتے ہیں، جہاں معاشرے کے کتع بتع بھی وکیل بن کر استاد کو ہروقت کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں، جہاں استاد کو اس کے مقدس پیشے کے بجائے اس کی تنخواہ کے سیاق و تناظر میں دیکھا اور جانچا جاتا ہے، ایسے معاشرے میں استاد کے کندھوں پر دوہری زمہ داری عائد ہوتی ہے اُسے نہ صرف پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوتا ہے بلکہ اپنے کردار کی پختگی اور اپنے پیشے کے ساتھ حد درجہ وابستگی کے زریعے معترضین کے اعتراضات کا اطمینان بخش جواب دینا ہوتا ہے۔
    .
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
    جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
    ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

  • error: Content is protected !!