Chitral Times

Oct 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سیف سٹی پراجیکٹ، پشاور شہر کو ہر لحاظ سے محفوظ ترین شہربنائیں گے،و زیراعلیٰ

    October 5, 2019 at 11:00 pm

    سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل سے پورے شہر کی نگرانی ممکن ہو گی ، محمود خان
    منصوبہ پشاور شہر میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر کرنے میں سنگ میل ثابت ہو گا، وزیراعلیٰ
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور کا قیام مجوزہ پلان کے تحت مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ محکمہ داخلہ اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے روابط میں تیزی لانے اور باہمی تعاون یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اُنہوںنے کہا ہے کہ پشاور شہر کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کیلئے یہ منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ منصوبے کی بروقت تکمیل میں فنڈز اور دوسری پیچیدگیاں حائل نہیں ہونے دیں گے ۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور کے حوالے سے گزشتہ اجلاس میں احکامات جاری کرتے ہوئے منصوبے کے حوالے سے حتمی پلان پیش کرنے اور اس پر جلد ازجلد عملی کام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ کے فالو اپ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد سلیم خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، چیف آپریٹنگ آفیسر لاہور اکبر ناصر، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا محمد نعیم خان، سیکرٹری ہوم ، سی سی پی او پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کو سیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے مجوزہ پلان پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ پلان کے تحت ایک مرکزی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم جو کہ شرقی پولیس سٹیشن پشاور کے ساتھ قائم کیا جائے گاجبکہ اس سسٹم سے پشاور شہر کے داخلی و خارجی مقامات ، جلسے جلوسوں ، سرکاری عمارات ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مذہبی مقامات، سڑک کراسنگ ، اہم تنصیبات ، حساس مقامات اور ٹریفک جام جیسے مسائل کی نگرانی ممکن بنائی جائے گی ۔ مزید بتایا گیا کہ مرکزی کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ابتدائی طور پر اہم سرکاری تنصیبات جیسے کہ سرکاری دفاتر ، سکیورٹی دفاتر، سول سیکرٹریٹ ، کورٹس ، ریلوے سٹیشن ، بس سٹیشنز، ائرپورٹ، گرڈ سٹیشنز، ٹیلی فون ایکسچنیجز، ہو ٹلز، ٹی وی سٹیشن، وی وی آئی پی سکیورٹی مقامات، عبادت گاہوں، اہم تعلیمی اداروں ،مزارات، عوامی مارکیٹوں، جلوسوں اور دیگر عوامی مقامات کی نگرانی کیلئے لاگو کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا کہ پلان کے تحت کل940اہم مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر کل 3500 کیمرے نصب کئے جائیں گے جن میں 2300 فکسڈ کیمرے ، 700 پی ٹی زیڈ کیمرے جبکہ 500 ایسے کیمرے نصب کئے جائیں گے جس سے انسانی چہروں کی پہچان ممکن ہو سکے گی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کیلئے پی سی ون کی تیاری، متعلقہ فورم سے اس کی منظوری ، دلچسپی رکھنے والے فرمز کیلئے پری بڈنگ کانفرنس اور پری کوالیکفکیشن دستاویزات کو آئندہ چھ ہفتوں میں مکمل کیا جائے گاجبکہ اس مرحلے کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل اگلے دوسال میں ممکن بنائی جائے گی ۔ سیف سٹی پراجیکٹ مجموعی طور پر چار جدید سائنسی شعبوں پر مشتمل ہو گا جس میں ایمر جنسی ریسپانس سسٹم ، انٹیگریٹڈ انٹیلیجنس کاو ¿نٹر سرویلنس سسٹم ،انٹیلیجنس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم اور الیکٹرانک ایوی ڈنس مینجمنٹ سسٹم جیسے اہم فیچرزشامل ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق مربوط ایمرجنسی ریسپانس سسٹم کے تحت شہریوں کیلئے ایمر جنسی کال سنٹرقائم کیا جائے گا جو ایمر جنسی کالز پر فوری ریسپانس دینے اور متعلقہ اداروں جیسے ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، پولیس سٹیشن اور ضلعی انتظامیہ وغیرہ کے ساتھ بروقت رابطہ کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مربوط انٹیلجنٹ کاو ¿نٹر سرویلنس سسٹم کے تحت شہر بھر میں IPNVکیمرے نصب کئے جائیں گے۔ ان کیمروں کے ذریعے حاصل کی گئی شہادتیں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عدالتوں میں بطور ثبوت قابل قبول ہوں گی۔ انٹیلجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم میں نصب کئے گئے کیمروں کے ذریعے شہر میں ٹریفک کی کل وقتی نگرانی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سسٹم کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی گاڑیوں وغیرہ کی براہ راست نگرانی کی جائے گی اور فوری ریسپانس کے طور پر ای چالان بھی جاری کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ منصوبہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے میں بھی مدد فراہم کرے گاجبکہ بعدازاں منصوبے کو دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بھی توسیع دی جائے گی ۔ انہوںنے مزید کہاکہ سیف سٹی پراجیکٹ کے قیام سے پشاور شہر میںنگرانی کا ایک ایسا مرکزی اور مربوط نظام قائم ہو گا جس سے پورے شہر میں وقوع پذیر ہونے والے اہم واقعات کی نگرانی ایک چھت کے نیچے ممکن ہو سکے گی۔
    <><><><><><>


    خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم کی فراہمی شروع دن سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے..وزیراعلیٰ
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے کہا ہے کہ خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری تعلیم کی فراہمی شروع دن سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ، کیڈٹ کالج برائے خواتین مردان کا قیام اس کی زندہ مثال ہے جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد کیڈٹ کالج ہے۔ انہوں نے کالج میں جاری تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کر تے ہوئے ہدایت کی کہ کالج کے مقاصد کا حصول یقینی بنایا جائے، ایک با شعور اور کامیاب معاشرے کی تشکیل میں معیاری تعلیم سے آراستہ خواتین کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں گرلز کیڈٹ کالج مردان کے بورڈ آف گورنرز کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرر ہے تھے۔ سینئر صوبائی وزیر عاطف خان ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم ، کمشنر مردان، کمانڈنٹ پنجاب رجمینٹل سنٹرمردان ، کالج کے پرنسپل اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر کاروائی کی توثیق کی گئی ۔ اجلاس کو کالج میں جاری تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں ، سالانہ امتحان میں شاندار نتائج ، قومی سطح پر کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں بہترین کارکردگی ، تازہ ترین پیش رفت ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر کالج کی شہرت اور اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس میں کالج کے بجٹ برائے مالی سال 2019-20کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کالج کی ضروریات کے پیش نظر گاڑیوں کی فراہمی اور گرانٹ ان ایڈ کے لئے باضابطہ سمری بھیجنے کی ہدایت کی ۔اجلاس نے کالج کے سٹاف کی تنخواہ اور الاو ¿نس پر نظر ثانی کی بھی منظوری دی۔ علاوہ ازیںکالج کی ہاو ¿س مسٹریس کے لئے 3000 روپے ماہانہ الاو ¿نس ، تدریسی سٹاف کے لئے 2500 روپے ماہانہ ایم فل الاو ¿نس اورمختلف تدریسی سٹاف کی تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن خورشید خان کی کالج کے بورڈ آف گورنرز کے غیر سرکاری ممبر کے طور پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بورڈ آف گورنرز کے غیر سرکاری اراکین میں مرد ماہر تعلیم کی جگہ خاتون ماہر خاتون کو شامل کیا جائے۔ اسی طرح کالج کے سٹاف کی بیٹیوں کے لئے دو فیصد سیٹوں کی ریزرویشن کی بھی منظوری دی گئی۔کالج کے موجودہ کیمپس میں بجلی کے مسائل کے پیش نظر سولر سسٹم کی تنصیب کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کے مذکورہ کالج 2017میں قائم کیا گیا جو ابھی عارضی عمارت میں کام کر رہا ہے ۔ کالج کے لئے 2.5ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے مستقل عمارت کی تعمیر شروع ہے جس میں ہاسٹل سمیت تمام درکار سہولیات شامل ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے عمارت کی تعمیر پر کام تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے سلسلے میں پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیڈٹ کالج ہے جس کو اچھے طریقے سے چلایا جائے تاکہ کالج کے قیام کے مقاصد کا حصول یقینی ہو سکے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ خواتین کیلئے جدید اور معیاری تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کے کیڈٹ کالج مردان اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھے گااور خواتین کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    <><><><><><>

  • error: Content is protected !!