Chitral Times

Oct 22, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیراعلیٰ کی سکولوں،مساجد ودیگر مقامات کی سولرائزیشن میں سست روی پر برہمی کا اظہار

    October 4, 2019 at 7:19 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے دس سالہ منصوبہ بندی کے تحت ترقیاتی سکیموں پر کام کی پیش رفت میں سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ محکمہ صحت اور تعلیم میں ڈاکٹرز اور اساتذہ کی آسامیوں کی تخلیق اور اُن پر بھرتیوں کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے دیرپا ترقی کے لئے ہمیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اب پرانا نظام نہیں چلے گا جس طرح خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی ہو رہی ہے اب قبائلی اضلاع میں بھی کام کی رفتار اور سروس ڈیلیوری کی کھڑی نگرانی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی کے منصوبوں یعنی سکولوں ، بی ایچ اوز ، مساجداور دیگر پبلک مقامات کی سولرائزیشن منصوبوں میں سست روی پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ محکموں کو سکیموں کی تکمیل جلد از جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں تیز رفتار عمل درآمد پلان کے تحت مختلف ترقیاتی سکیموں کی تکمیل کیلئے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے زیرنگرانی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ کمیٹی میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی تیزتر تکمیل کیلئے مربوط حکمت عملی وضع کرے گی جبکہ وزیراعلیٰ نے مذکورہ کمیٹی کو لائحہ عمل بنانے اور اگلے ہفتے کے اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو قبائلی اضلاع کے ترقیاتی سکیموں کیلئے فنڈز کی بروقت اور شفاف طریقے سے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع کے ضلعی انتظامیہ کو یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے ان کو تمام معاونت فراہم کی جائے گی۔ قبائلی اضلاع میں جو ترقیاتی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے دس سالہ منصوبہ بندی کے تحت سالانہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیرا طلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ قبائلی اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر، چیف سیکرٹری سلیم خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ ، سیکرٹری قانون ، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، سیکرٹری ہیلتھ ، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ایریگیشن، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور قبائلی اضلاع کے تمام ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی ۔ اجلاس کو قبائلی اضلاع کیلئے دس سالہ منصوبہ بندی ، سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 ءکے اجزا کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کل سالانہ ترقیاتی فنڈ 103.038 بلین روپے ہے جس میں 24 بلین مقامی فنڈ، 20.038 بلین بیرونی امداد فنڈجبکہ 59 بلین ٹرائبل ڈیکیڈ سٹریٹیجی فنڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ٹرائبل ڈیکیڈ سٹریٹیجی فنڈ میں 48 بلین روپے وفاق کا حصص ہے جبکہ 11 بلین صوبے کا اپنا حصہ ہے۔ مذکورہ ترقیاتی پروگرام میں کل 1018سکیمیں ہیں جن میں 884 جاری سکیمیں ہے جبکہ 134 نئی سکیمیں شامل کی گئی ہے۔ان سکیموں پر کل تخمینہ لاگت 124.4218 بلین روپے ہے جن میں جاری سکیموں کیلئے 99.777 بلین روپے مختض کئے گئے ہیں جبکہ نئے سکیموں کیلئے کل 24.642 بلین روپے مختص کئے گئے ہے۔ اجلاس کو اے ڈی پی 2019-20 کے چیدہ چیدہ خصوصیات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں پہلی دفعہ شعبہ جاتی درجہ بندی اے ڈی پی متعارف کی گئی ہے جس میں 85 فیصد فنڈزجاری منصوبوں کیلئے مختص کی گئی ہے جبکہ کل 274 سکیموں کو رواں سال تکمیل کیلئے ہدف بنایا گیا ہے۔پہلی دفعہ تمام صوبائی محکمے مکمل طور پر قبائلی اضلاع کے ترقیاتی سکیموں میں ملوث کئے گئے ہیں جن میں محکمہ تعلیم ، صحت ، کمیونیکیشن، آبپاشی، زراعت وغیرہ جن کو ترجیحی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ اسی طرح ضلع جنوبی اور شمالی وزیرستان کیلئے 2 بلین روپے کا سپیشل پیکیج بھی متعارف کیا گیا ہے۔ اجلاس کو قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2019-20 میں سیکٹر وائز فنڈز مختص کرنے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اسی طرح اے ڈی پی سکیم کے تحت سیکٹروائز فنڈز کی فراہمی اور اخراجات کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔ اجلاس کو ان سکیموں کے بارے میں بھی بتایا گیا جو سکیمیں تکمیل کے مراحل میں ہے جو کہ کل 274 سکیمیں ہے جن میں 269 جاری ہے جبکہ پانچ نئے سکیمیں ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں سکیموں کی تکمیل جلد از جلد ممکن بنائی جائے گی جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو تمام قبائلی اضلاع میں کھلی کچہریوں کا انعقاد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے جبکہ عوام کو درپیش مسائل کو موقع پر حل کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع کے تمام محکموں خصوصاً محکمہ تعلیم اور صحت میں خالی آسامیوں پر جلد از جلد بھرتیوں کا عمل یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو سہولیات اور خدمات کی فراہمی میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    <><><><
    دریں اثنا وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ سوات سمیت صوبے کے تمام پسماندہ اضلاع کی ترقی و خوشحالی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کی طرح ضلع سوات بھی دہشتگردی کا شکار رہا ہے جبکہ سوات میں انفراسٹرکچر اور دیگر مواصلاتی نظام کو جلد بہتر کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سوات گولیری میں بہت جلد ایک عوامی جلسے سے خطاب بھی کرینگے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلی نے وزیراعلی ہاو ¿س پشاور میں سوات سے آئے ہوئے مختلف وفود سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔ انہوں نے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل سنے اور حل طلب مسائل کے حل کے لئے موقع پر احکامات بھی جاری کی۔ وفود سے ملاقات کے دوران وزیراعلی نے یقین دلایا ہے کہ پورے صوبے کے عوام کے حقیقی مسائل حل کرینگے، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف عوامی جماعت ہے۔ہمیں عوام نے منتخب کیا ہے اور عوام کی خدمت اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ عوام کے مسائل کے حل کے لئے تمام ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت اور تعلیم پر حصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہیں کیونکہ عوام کو بہترین طبی صحت سہولیات اور بنیادی تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کی جارہی ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جاسکے۔انہوںنے کہا ہے کہ محکمہ صحت میں انٹامالوجسٹ کی بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے گاتاکہ مستقبل میں ڈینگی بخارکے مسئلے سے بروقت نمٹا جا سکے ۔

  • error: Content is protected !!