Chitral Times

Nov 14, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جنریشن گیپ ، معاشرہ اور نوجوان…….میرسیماآمان

    September 27, 2019 at 9:58 pm

    جنریشن گیپ دراصل وہ ذہنی فاصلہ ہے۔ جو ہمارے اور ہمارے والدین کے درمیان پایا جاتا ہے۔جہاں دونوں ایک ہی چیز کو اپنی اپنی مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھ اور سوچ رہے ہوتے ہیں۔

    خلیل جبران نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ”’ ہم اپنی اولاد کو بے تحاشہ محبت تو دے سکتے ہیں مگر اُنھیں اپنے خیالات نہیں دے سکتے۔۔۔”’ اور یہی حقیقت ہے ہر شخص دوسرے سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔لیکن دیکھا جائے تو والدین اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ذرا بخل سے کام لیتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے والدین اور اولاد کے مابین دوری پیدا ہوجاتی ہے ۔ ہمارے ہاں والدین ہر وقت اولاد سے خفا رہتے ہیں۔وجہ یہی کہ وہ ہر حال میں اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں۔وہ انھیں کسی بھی قسم کی نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔وہ ہر حال میں اولاد کو ایک مثالی اور مکمل شخصیت بنا نا چاہتے ہیں۔۔اسی لیے انھیں اولاد کی بے پروائی اور غیر سنجیدگی پر تاسف رہتا ہے۔۔

    والدین کا اولاد کے لیے پریشان رہنا ایک فطری اور جائز بات ہے لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب والدین اولاد کو اپنی جائداد سمجھنے لگ جاتے ہیں ،جب اپنی ناکامیوں کا فرسٹریشن اولاد پر نکال لیتے ہیں اور ان کی پسند نا پسند جانے بغیر ان پر اپنی پسند تھوپنے لگ جاتے ہیں ۔۔

    مثال کے طور پر ہمارے ہاں یک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اگر خود ڈاکٹر نہیں بن سکے تو اولاد کو پریشرائز کرتے ہیں کہ تم نے ضرور بننا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بچے کی اپنی سوچ کیا ہے۔۔اسطرح والدین اور اولاد کے درمیان یا تو اعلانیہ بغاوت شروع ہوجاتی ہے یا پھر انکے درمیان ایک سرد جنگ شروع ہوتی ہے جسمیں بچے آپکی بات سنتے تو ہیں مگر کوئی ردعمل نظر نہیں آتا وہ اپنی خواہشات اپنے خیالات اپنے اندر رکھنے لگتے ہیں اور والدین اس کنڈیشین کو سمجھنے کے بجائے مزید شکوہ شکایات پر اُتر آتے ہیں۔۔

    دوسری طرف جب نوجوانوں سے انکے مسائل کا پوچھا جائے تو انکا سب سے بڑا شکوہ ہی یہ ہوتا ہے کہ ” انکو سمجھنے والا کوئی نہیں۔۔ انکے خواہشات کا احترام نہیں کیا جاتا،،انکے مسائل انکے خیالات اور رُجحانات کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔۔حتی کہ انکے صلاحیتوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا،،،اور واقعی یہ تلخ حقیقت ہے۔۔اس بات پر تو کوئی شک نہیں کہ والدین ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔وہ اولاد کو اُن تمام تلخیوں سے بچانا چاہتے ہیں جن سےوہ خود گزرے ہیں۔ لہذا وہ اپنے تجربات کے تناظر میں اولاد پر روک ٹوک کرتے ہیں لیکن یہاں پر ہمارے بزرگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ خود بھی کبھی جوان تھے اور وہ خود بھِی ایسے ہی جذبات رکھتے تھے دوسری بات یہ کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اولاد کو سرد گرم ہواوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔آپ اولاد کی تربیت کرسکتے ہیں صحیح اور غلط کا بتا سکتے ہیں مگر اسکی تقدیر نہیں بنا سکتے۔۔

    تیسری بات جو آجکل کے والدین کا ایک نفسیاتی مرض بن چکا ہے وہ ہے اپنی اولاد کو ایک ” کامل شخصیت ” کے روپ میں دیکھنا اور سمجھنا،،،یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ بحثیت مسلمان ہمارا تو یہ عقیدہ ہے رسول پاک ؓ کے علاوہ کوئی بھی شخص کامل ہو ہی نہیں سکتا۔۔اب یہ سوچنا سمجھنا اور خواہش رکھنا کہ ہمارا بچہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے یا ہوگا یہ تو ہمارے مسلمان ہونے کو مشکوک بنا دیتا ہے۔۔ہمارے ہاں آپ کسی کو بتا یئں کہ آپکے فلاں بچے میں یہ خرابی ہے تو دشمنی شروع ہوجاتی ہے حالا نکہ بتانے والا اصلاح کی نیت سے بتا تا ہے۔۔ والدین کا اولاد کے حق میں حد سے ذیادہ جذباتی ہوجانا انکو بگاڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔۔اجکل اس بات کا بہت ذیادہ مشاہدہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کی تمام ضروریات پوری ہورہی ہیں،،اعلی سکول کالج میں جاتے ہیں کہیں جگہوں پر تو والدین کا اعتماد بھی حد سے ذیادہ حاصل ہے۔۔ روک ٹوک بھی نہیں ہے بظاہر کوئی بھی مسئلہ والدیں کی طرف سے نہیں ہے لیکن یہ بچے پھر بھی خوش نہیں ہیں،،مُر جھائے ہوئے ہیں۔۔ ان سے بات کرو تو احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ والدین دے رہے ہیں اولاد کو ان سبکی خواہش ہے ہی نہیں۔۔ یہ اس ذہنی فاصلے کی وجہ سے ہے جسمیں ہم سفر کر رہے ہیں والدین اپنے حساب سے سب کچھ دے رہے ہیں مگر بچے کی ترجیحات مختلف ہیں اصل چیز ایک دوسرے کی ترجیحات کو سمجھنا ایک دوسرے کی خیالات اور خواہشات کا احترام ہے جو یقینا ہم سے نہیں ہو پا رہا ہے۔۔

    ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہم دوسرے کسی سیارے میں جائیں گے تو ایسی ذندگی گذاریں گے وغیرہ و غیرہ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ہمیں ”’ دوسرے سیارے ”’ کی ”’ ضرورت ”’ کیوں پیش آتی ہے ؟؟؟ کیونکہ یہاں ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو ہمیں ” اپنی ” نہیں لگتی۔۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہماری ہر سوچ سے اختلاف ہے یہاں ہماری کسی خواہش کا ہماری پسند نا پسند کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔۔ اسلیے ہم کسی دوسری دنیا میں جاکر اپنی دنیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔۔۔مزے کی بات یہ کہ یہ سوچ صرف آج کے نوجوان کی نہیں۔۔ہم ۔ہم سے پہلے اور آن سے بھی پہلے ہر جنریشن میں نوجوانوں کی یہی سوچ اور خواہش رہی ہے۔ہر دورمیں نوجوانوں کو اںکے سر زمین قید خانے لگے ہیں۔۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نسل در نسل اس گھٹن زدہ ماحول کو پروان چر ہاتے رہیں گے؟ جنریشن گیپ کے مسائل والدین اور اولاد دونوں کو درپیش ہیں مگر اسکا ذیادہ نقصان نوجوان اُٹھاتے ہیں کیونکہ یہ وقت نوجوانوں کا ہے یہ انکے کچھ کرنے اور کچھ پانے کا وقت ہے۔۔

    جنریشن گیپ کے مسائل کو کم کرنے کے لیے دونوں فریقین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جسطرح دنیا میں اربوں کھربوں لوگوں کی فنگر پرنٹس آپس میں میچ نہیں کرتے بالکل اسی طرح ہم سب کے خیالات بھی مختلف ہیں،،ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر دور کے تقا ضے مختلف ہیں ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کثرت اختلاف رائے دلوں میں نفرت پیدا کر دیتی ہے۔ہمیں بچوں کو اتنا سپیس دینا پڑے گا کہ وہ اپنے دلچسپی کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرسکیں ہم سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر سکیں۔۔وہ والدین جو اپنے ۳۰ سال کے جوان بیٹے کو ۳ سال کے بچے کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔جو اپنی اولاد کی صلاحیتوں پر اعتبار نہیں کرتے کیونکہ بچہ سمجھتے ہیں آنھیں یاد رہنا چاہیے کہ یہی وہ عمر ہے جسمیں اُسامہ بن ذید ٔ ، خا لد بن ولید ٔ ، حضرت معصب بن عمیر / طارق بن ذیاد ٔ ، محمد بن قاسم یا صلاح ایدین ایوبی جیسے نوجونوں نے تاریخ رقم کیں۔۔حیرت ہے آج ہم کسطرح ایک ” نو جوان ” کو بچہ سمجھنے کی غلطی میں مبتلا رہتے ہیں۔۔۔کیا ہم اپنے ہاتھوں سے انکو نکما اور کمزور نہیں بنا رہے ہیں۔۔۔؟؟

    یہ بہت ضروری ہے کہ آپ بچے کے خیالات سے آگاہ رہیں اچھے رُجحانات پر اسکی حوصلہ آفزائی کریں اور اور غلطیوں پر مناسب الفاظ میں سمجھائیں۔۔بچے کی ناکامی پر اسے لعنت ملامت کرنے کے بجائے اپ ناکامی کے وجوہات پر غور کریں۔۔آجکل ہمارے ہاں میٹرک یا انٹر میڈیٹ میں کم نمبرز حاصل کرنے پر ” خود کشی ” کرنا رواج بن گیا ہے وجہ یہ ہے کہ ہم نے نمبرز کو قابلیت کا معیار بنا یا ہوا ہے۔۔حا لا نکہ اگر بچہ فیل بھی ہو جائے تو اسکے پیچھے واحد وجہہ اسکی کند ذہنی نہیں ہو تی بلکہ مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔۔

    ابھی سال پہلے میں نے چترال کے ایک بڑے پرا ئیوٹ تعلیمی ادارے کی اردو کی کاپیاں چیک کی تھیں آپ یقین کریں اردو لکھائی کی اُس موت پر میں آج بھی ماتم کر رہی ہوں ، ٹھیک ہے اردو ہماری مادری ذبان نہیں ہماری لکھائی میں غلطیاں ہوسکتی ہیں مذکر مونث کی غلطی ہو سکتی ہے بولنے میں ہمارا لہجہ غلط ہو سکتا ہے لیکن اگر ہم دوسری یا تیسری جماعت کے بچوں کی الف بے کی غلطی نہیں سدھار سکتے تو مجھے یہ بتائیں کہ ہم کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں؟؟/ کس بات پر اتنے بڑے تعلیمی ادارے میں ہمیں ”’ اُساتذہ ”’ ہونے کا ٹائٹل ملا ہے؟؟؟چند دن پہلے جو ایٹا ٹیست کا رذلٹ آیا وہ ان تعلیمی اداروں کے منہ پر تمانچہ ہے جنھوں نے بچوں کو رٹا سسٹم پر لگایا دیا ہے ، بحرحال یہ ایک الگ موضوع ہے اگر ہم نوجوانوں کے مسائل پر سوچیں تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ آج کا نو جوان انتہائی گھٹن زدہ ماحول میں رہ رہا ہے۔ہم ایک متضاد معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں آج ایک طرف تبدیلی کے نعرے ہیں مگر ذہنی طور پر ہم آج بھی ” درزی کا بیٹا درزی ہی بنے گا ”’ کے قائل ہیں۔۔

    جہاں آج تک نوجوانوں کا ”’ حلیہ ”’ ہی ایک سوالیہ نشان ہے۔۔ ہم آج تک کسی کی ظاہری شخصیت کو اسکا ” کریکٹر سر ٹیفکٹ ” سمجھنے کی بیماری میں مبتلا قوم ہیں۔۔ایک ایسا معاشرہ جہاں آج بھی ہمیں یہی سکھایا جا رہا ہے کہ ” سفید کوٹ ” والے کو ” صاحب ” بولنا ہے اور گیٹ میں بیٹھے کلاس فور کو ” اوئے ” کہ کر مُخاطب کرنا ہے۔۔ایک ایسا معاشرہ جہاں ہمیں باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے کہ عزت اور احترام کا معیار ” ڈگری ۔۔اعلی عہدہ اور مالی حیثیت ہے ” ایسا معاشرہ جو ہمیں سکھاتا ہے کہ کس کو جھک کر سلام کرنا ہے کس مہمان کی آو بھگت کرنی ہے اور کن رشتہ داروں کے لیے گھر کے درواذے بند رکھنے ہیں۔۔۔ مجھے حیرت ہے کہ ”’ ایسا معاشرہ ”’ پھر نوجوانوں سے کس بات پر شکوہ کناں رہتا ہے؟؟ہم نوجوانوں کی بد اخلاقی ۔۔انکی سرد مہری انکی ناکامیوں ۔۔بزدلی یا نکمے پن پر اعتراض کیسے کرسکتے ہیں؟؟؟ مجھے حیرت سے بھی ذیادہ افسوس ہے کہ ہم خود کشی کرنے والوں پر اُنگلی کیسے اُٹھا سکتے ہیں؟؟؟؟ہم انھیں ملامت کیسے کرسکتے ہیں ؟/ہم جو ماں باپ کے نام پر اپنی اولاد کی کمزوریوں اور ناکامیوں کے اصل ذمہ دار ہیں۔۔ہم جو معاشرے کے نام پر ان جوانوں کے اصل قاتل ہیں۔۔ہم جو اُساتذہ کے نام پر انھیں تاریک راستوں میں ڈالنے والے اصل مجرم ہیں۔۔ہم نوجوانوں کی اخلاق پر کیسے اعتراض کرسکتے ہیں۔۔۔۔ اگر اعتراض کرنا ہی ہے تو ہمیں پہلے اپنی کو تاہیوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی ۔آج نوجوانوں کے لیے یہ کہنا بہت اسان ہے کہ یہ بے راہ روی کا شکار ہیں ۔دین سے دور ہیں مادہ پرست ہوگئے ہیں بے پرواہ ہیں ۔
    وغیرہ وغیرہ لیکن ہم بھول گئے کہ نوجونوں کو یہ شیپ ہم نے خود دیا ہے۔کیک کا امیزہ آپ جس سانچے میں ڈالتے ہیں کیک اُسی شیپ کا بنتا ہے ہمیں نوجوانوں کے اس شیپ پر اگر اعتراض ہے تو ہمیں یقینا سانچہ بدلنا ہوگا۔۔۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!