Chitral Times

Jul 6, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محکمہ ایجوکیشن میں‌حالیہ بھرتیوں‌کے بعد ای ٹرانسفر پالیسی پر باضابطہ عمل درآمد ہوگا.وزیراعلیٰ

Posted on
شیئر کریں:

پشاو(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے کہا ہے کہ صوبے کے شعبہ تعلیم میں کی گئی تمام تر اصلاحات ، اقدامات اور سرگرمیوں کو ضم شدہ قبائلی اضلاع تک من و عن توسیع دی جارہی ہے، قبائلی عوام مطمئن رہیں ، اب وہ خیبرپختونخوا کا حصہ ہیں، تمام تر ترقیاتی و فلاحی اقدامات سے برابر مستفید ہونگے بلکہ نئے اضلاع کی تیزتر ترقی کو فوقیت دی جارہی ہے ۔ انہوں نے صوبے کے شعبہ تعلیم میں اساتذہ کی جاری بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کے بعد ای ٹرانسفر پالیسی کے مو ثر انداز میں نفاذ کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے آئے روز تبادلوں سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے اس لئے یہ سلسلہ رکنا چاہئے ۔ انہوں نے ووچر سکیم کی افادیت اور مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیم کو مزید توسیع دینے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے پبلک سروس کمیشن اور ایٹا کو مضبوط کرنے اور تعلیمی بورڈز میں قابل عمل اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ہدایت کی کہ تعلیمی بورڈز میں اصلاحات کیلئے ماہرین کی تجاویز بھی لی جائیں۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم میں خدمات کی فراہمی پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔سینیئرصوبائی وزیر محمد عاطف خان ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاءاللہ بنگش ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل خان وزیر ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی گزشتہ ایک سال کے دوران کئے گئے اقدامات اور اہم سرگرمیوں پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔اجلاس کو تعلیم کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے کارکردگی پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں گریڈ 5 اور گریڈ8 کی اسسمنٹ کے سلسلے میں مقررہ اہداف سے بڑھ کر کارکردگی یقینی بنائی جائے گی ۔ سرکاری سکولوں میں2017-18 کے دوران اساتذہ کی حاضری یعنی دستیابی کی شرح 90 فیصد تھی جو اب 91 فیصد ہے ۔ اسی طرح 2017-18 میں طلباءکی حاضری کی شرح 78 فیصد تھی جو 2018-19 میں 80فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ 2017-18 میں نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی ٹیبلٹ بیس انڈکشن کی کوئی بیس لائن نہیں تھی ۔2018-19 کے دوران 12384 اساتذہ کو تربیت دی گئی جبکہ آئندہ نئے بھرتی ہونے والے تمام اساتذہ کی تربیت یقینی بنانا ہدف میں شامل ہے ۔ سی پی ڈی پروگرام کے تحت2017-18 کے دوران پرائمری سکولوں کے 28,000 اساتذہ کی تربیت کی گئی جبکہ 2018-19 کے دوران 53,000 اساتذہ کو ماہانہ بنیادوںپر تربیت کی فراہمی یقینی بنائی گئی جو مقرر شدہ ہدف سے زیادہ ہے ۔ موجودہ پانچ سالوں کے دوران 1,20,000 اساتذہ کی تربیت ہدف ہے ۔ صوبے کے 800 سکولوں میں ارلی چائلڈ ایجوکیشن ماڈل کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے ۔ علاوہ ازیں گریڈ 1 سے 10 تک کی درسی کتب پر نظر ثانی کی جا چکی ہے ۔ 2017-18 میں ایک ASDEO کے تحت نگرانی کیلئے 55 سکول تھے جبکہ 2018-19 کے دوران سکول لیڈر شپ ماڈل متعارف کرایا گیا جس کے لئے 3000 آسامیاں تخلیق کی گئیں ۔ اس ماڈل کے تحت ایک ASDEO کو 7 سکول دیئے گئے ہیں۔ 2018-19 کے دوران 45 نئے پرائمری سکول تعمیر کئے گئے ، 22 پرائمری سکولوں کی مڈل تک اپ گریڈیشن کی گئی ، 26 مڈل سکولوں کی ہائی سکول تک اپ گریڈیشن کی گئی ، 21 ہائی سکولوں کی ہائیر سکینڈری سکول تک اپ گریڈیشن کی گئی ، پی ٹی سی کے ذریعے 5421 کلاس رومز تعمیر کئے گئے ۔ علاوہ ازیں سکولوں میں بنیادی سہولیات کی 82 فیصد فراہمی یقینی بنائی گئی ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 17,000 نئے اساتذہ بھرتی کئے گئے ، پرائمری کی سطح پر 17,000 نئے آسامیاں تخلیق کی گئیں ، 10,000 سے زیادہ اساتذہ کو ترقی دی گئی ، مینجمنٹ کیڈر کیلئے رولز منظور کئے گئے جبکہ اساتذہ کی تعیناتیوں اور تبادلوں کیلئے ای ٹرانسفر پالیسی تشکیل دی گئی ۔ وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ مارچ تک اساتذہ کی بھرتیوں کا جاری عمل مکمل ہوجائے گا ، اس کے بعد ای ٹرانسفر پالیسی پر باضابطہ عمل درآمد شروع ہوجائے گا ۔ پالیسی کے تحت سال میں ایک بار یعنی اکیڈمک سال کے شروع میں تبادلے کئے جائیں گے اور پھر سال بھر تبادلے نہیں ہونگے اس عمل سے شعبہ تعلیم میں احساس ذمہ داری اور جوابدہی کا عنصر پیدا ہوگا ۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی تیار کردہ ای ٹرانسفر پالیسی کے پیچیدگیوں سے بالا تر قابل عمل طریقے کے ساتھ نفاذ کی ضرورت ہے جب تک بھرتیوں کا جاری سلسلہ مکمل نہیں ہوجاتا تبادلوں پر پابندی ہونی چاہئے اور اسکے بعد ای ٹرانسفر پالیسی کے ذریعے ہی تبادلے یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس کو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے آئندہ کے اہداف اور ترجیحات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اداروں کی سمت درست کرنے پر کام کر رہی ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں پہلی بار اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتیوں کا کلچر متعارف کرایا ۔ حالانکہ ماضی میں آٹھویں اور دسویں پاس اساتذہ بھی بھرتی کئے گئے جو بچوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کے مترادف تھا ۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلئے آسامیوں کی تخلیق پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے شعبہ تعلیم میں نچلی سطح پر دفاتر میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر کوکوئی ملازم غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا جائے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے ، موجودہ نظام میں کرپشن اور دیگر غیرقانونی کاموں کی گنجائش موجو د نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ تعلیم کی گذشتہ ایک سال کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اصلاحات سے نالاں بعض عناصر پروپیگنڈے اور افواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں اسلئے عوامی آگاہی کیلئے ان افواہوں اور پروپیگنڈوں کا رد کرنے کی ضرورت ہے عوام کو حقیقی صورت حال اور زمینی حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
<><><><><>
.
Chief Minister KP Mahmood presiding over a meeting at Chief Minister Secretariat Peshawar
سوات ایگریکلچر ریسرچ ادارے کو ایک کیمپس کی شکل دی جارہی ہے….وزیراعلیٰ‌
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)‌ وزیراعلیٰ خیبرپختونخو امحمود خان نے سوات ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو دوسری جگہ منتقل کرنے، سوات ایگرکلچر ریسرچ ادارے کے خاتمے کی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال سوات کہیں پر بھی منتقل نہیں کیا جائیگابلکہ موجودہ جگہ پر ہی قائم رہے گا۔ اس کی منتقلی کے حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہےجبکہ سوات ایگریکلچر ریسرچ ادارے کو ایک کیمپس کی شکل دی جارہی ہے جس کو بعد میں لال پور کے مقام پر 700 کنال سرکاری اراضی پر منتقل کیا جائیگااو راس کو باقاعد ہ ایک ایگریکلچر یونیورسٹی کا درجہ بھی دیا جائیگا۔وزیراعلیٰ نے سوات ڈینٹل کالج کو مجوزہ ٹائم لائن کے اندر اندر مکمل کرنے اور ڈینٹل کالج کیلئے پی ایم ڈی سی سے رجسٹریشن کے عمل کو بھی ساتھ ساتھ مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پورے صوبے میں میگا پراجیکٹس ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے۔ وزیراعلی نے سینٹرل جیل پشاور کے نئی عمارت کی تعمیر پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس کا افتتاح جلد از جلد ممکن بنانے پر زور دیا ہے جبکہ سوات میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کے لئے چالیس سے ساٹھ کنال اراضی دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ ہسپتال کے قیام کے حوالے سے سمری دو دن کے اندر اندر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو پیش کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو بھاو لے کتوں کی روک تھام کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے اور رپورٹ جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میںڈینٹل کالج سوات کے قیام پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں سوات سے منتخب ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین فضل حکیم خان ، کالام سے منتخب ایم پی اے ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، سیکرٹری فنانس ، سیکرٹری ہیلتھ ، ڈی سی سوات، سی ای او سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال ، پی ڈی ڈینٹل کالج سوات و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کو ڈینٹل کالج سوات کے قیام کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈینٹل کالج میں اگلے سیشن کے لئے کلاسز کا اجراءموجودہ میڈیکل کالج کی عمارت میں کیا جائےگا، جبکہ ڈینٹل کالج کی اپنی بلڈنگ کی تکمیل کے بعد کالج کو مذکورہ عمارت میں شفٹ کیا جائے گا۔ اجلاس کو سیدو میڈیکل کالج میں اکیڈمک بلاک کے قیام کے لئے پی سی ون کی نظر ثانی، میڈیکل کالج کے لئے آلات کی خریداری ، موجودہ بلڈنگ کی تزئین و آرائش کے لئے منصوبہ بندی ، سیدو میڈیکل کالج اور بی ایچ اوز میں ادویات ،ویکسین اور سٹاف کے مسئلے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو ضلع سوات میں انجنیئرنگ یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے درکار اراضی فراہم کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ وویمن یونیورسٹی کے قیام کے بارے بھی اجلاس کو بتایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سوات کیڈٹ کالج کیلئے مختص 400کنال اراضی کو وویمن یونیورسٹی کو دینے کے لئے ہوم ورک یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈینٹل کالج سوات میں سٹاف کی بھر تیوں کے لئے ایس این ای کو سمر ی کی شکل میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ کالج کی تعمیر اور آلات کے لئے ورک پلان تین دن کے اندرمرتب کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈینٹل کالج سوات پر کام کی رفتارپر پیش رفت کے حوالے سے نگرانی عمل میں لائی جائےگی۔انہوںنے سوات ایگرکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کولال پور کے مقام پر منتقل اور بعدازاں یونیورسٹی کا درجہ دینے کیلئے ڈپٹی کمشنر سوات کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ لال پور میں سات سو کنال سرکاری اراضی کو اسی مقصد کیلئے بروئے کار لانے کےلئے ہوم ورک یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے فارسٹ کالونی کالام میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کیمپس بنانے کے حوالے سے ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے سیدو میڈیکل کالج کے لئے ٹیکنیکل سٹاف کی فراہمی ایک مہینہ میں ممکن بنانے کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ ڈینٹل کالج سوات کے لئے آلات کی خریداری اور سٹاف کےلئے ایس این ای کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں صحت کے شعبے کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ہسپتالوں میں بنیادی ضروری ادویات اور دیگر سہولیات کی فراہمی ہر صورت ممکن بنائی جائے گی۔
.
….
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Mahmood at the mou signing with careem at Peshawar
صوبائی حکومت ایمرجنسی سروسز کو ڈیجیٹائز کر رہی ہے۔…..وزیراعلیٰ‌
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں ایمرجنسی سروسز کو ڈیجیٹائز کر رہی ہے۔ اب عوام موبائل ایپ کے ذریعے ریسکیو 1122 ایمر جنسی سروسز سے بھر پور استفادہ لے سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ موبائل ایپ سے عوام ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس ، فائیربریگیڈ اور دیگر خدمات کے لئے آن لائن رابطہ کرسکیں گے ۔ اس ایپ کی بدولت انسانی جانیں بچانے میں بھر پور مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت اورنجی کمپنی کریم ٹیکسی سروسز کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے موقع پر کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوام کوخدمات کی فراہمی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ لے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ٹیکنالوجی کو عام کرنے اور اس کے استعمال کو آسان بنانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے نہ صرف عام آدمی کی زندگی بہتر ہو گی بلکہ سہولیات کی فراہمی میں بھی معاونت ملے گی۔ آج کی یہ مفاہمتی یادداشت یقینا ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک اہم اور تیز تر قدم ہے ۔ محمود خان نے کہا کہ ایمر جنسی سروسز کی موبائل ایپ کے ذریعے فراہمی پورے ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا اورمنفرد اقدام ہے ۔ صوبائی حکومت خدمات کی فراہمی کو ڈیجیٹائز پر تیزی سے کام کر رہی ہے جو نہ صرف وقت کی بچت ممکن کرے گی بلکہ شہریوں کو سستی اور آسان خدمات کی رسائی ان کے دہلیز پر ہی ممکن بنائے گی۔ اس مفاہمتی یادداشت کے مطابق تمام ریسکیو 1122 کے ایمبولینسز اورفائیر بریگیڈز کو اس موبائل ایپ کے ذریعے آن بورڈ لیا جائیگا جبکہ آن لائن ایپلیکیشن کے ذریعے ایک علیحدہ ایمر جنسی سروسز کسٹمر کار ٹائپ موبائل ایپ میں نقش ہو گی ۔ مزید یہ کہ یہ نجی ٹیکسی سروسز کمپنی تمام ایمبولینسز ،فائیر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے دیگر اہلکاروں کو موبائل ایپلیکیشن کے استعمال اور صارفین کو جواب دینے کے حوالے سے مکمل تربیت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موبائل ایپ کے ذریعے ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کا عمل بنیادی طور پر پشاوراور ملحقہ علاقوں میںشروع کیا جارہا ہے جسے بعدازاں پورے صوبے تک توسیع دی جائیگی۔ خیبرپختونخوا ہمیشہ سے کاروباری کمیونٹی کے ساتھ رواداری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سے بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو محکمہ ریلیف و بحالی کی طرف سے جاری مختلف اقدامات پر بھی بریفینگ دی گئی ۔ ان اقدامات میں ریسکیو1122 سٹیشنز کا لوئرکوہستان ، ملاکنڈ ، شانگلہ اور لکی مروت میں قیام شامل ہے ۔مذکورہ اضلاع میں ریسکیو1122 سٹیشنوں کے قیام کا تخمینہ لاگت 1282 ملین روپے ہے ۔ اسی طرح دوریسکیو1122 سٹیشنز قبائلی اضلاع اور ایک سابقہ فرنٹیئر ریجن میں قائم کیا جارہا ہے۔یہ سکیمیں 3670 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کی جائیں گی جن میں 2500 ملین روپے پہلے سے جاری کئے گئے ہیںجبکہ ضلع خیبر جمرود میں بھی ریسکیو1122 سٹیشن کے قیام پر کام جاری ہے ۔وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ جنگلات والے علاقوں میں آگ لگنے کے حادثات سے نمٹنے کیلئے جدید گاڑیوں اور آلات کی خریداری کا عمل بہت جلد مکمل کیا جائے گا ۔ آگ بجھانے والی جدیدگاڑیوں اور آلات سے جنگلوں میں آگ لگنے جیسے حادثات سے بروقت نمٹا جاسکے گا۔ مزید بتایا گیا کہ سیاحتی مقامات جیسے کالام اور ناران میں ایمرجنسی سٹیشنز قائم کئے گئے ہیںجو جدید ایمرجنسی ایمبولینسز ، سنو باﺅلرز ، کنٹینر، دفاتر ، آگ بجھانے کے آلات وغیرہ پر مشتمل ہے ۔


شیئر کریں: