Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا میں پولیو کے 2 مزید کیسزسامنے آگئے، صوبےمیں پولیوکیسز کی تعداد 50 ہوگئی

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)خیبرپختونخوامیں پولیو کے دو مزید نئے کیسز سامنے آ گئے، چھ ماہ اور اٹھارہ ماہ کے بچے میں مرض کی تصدیق ہوگئی، دونوں بچوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں طبی امداد کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔، پولیو کے نئے کیسز وزیر صحت بشام انعام اللہ خان کے حلقے میں سامنے آئے ہیں۔ حالیہ دونوں کیسز سامنے آنے کے بعد صرف خیبرپختونخوا میں رواں سال پولیو کیسز کی کل تعداد 50 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 66 تک جاپہنچی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ رواں سال سامنے آنے والے پولیس کیسز میں 6 کا تعلق سندھ سے جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں 5، 5 کیسز سامنے آٓئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاصی پریشان کن بات ہے کہ بنوں کے بعد لکی مروت میں پولیو کیسز سامنے ا?رہے ہیں ضلع میں انسداد پولیو مہم کے دوران ویکسین پلانے سے انکار کے واقعات کی وجہ سے ہزاروں بچے ویکسینیشن سے محروم رہ گئے۔اس ضمن میں جب صوبائی وزیر صحت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو متعدد مرتبہ کوششوں کے باوجو وہ دستیاب نہیں ہوئے۔ وزیراعظم نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس طلب کرلیا تاہم وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا نے پولیو کیسز کی تعداد میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بنوں اور لکی مروت ایک دوسرے سے وابستہ علاقے ہیں چنانچہ جب بھی بنوں میں پولیو کیسز بڑھتے ہیں لکی مروت میں بھی پولیو کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے لکی مروت پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ یہاں سے مزید کیسز سامنے نہیں آئیں اور پولیو مہم کے دوران بھی اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بچہ محروم نہ رہ جائے۔ بابر بن عطا نے یہ بھی بتایا کہ والدین کس طرح پولیس مہم کو سبوتاڑ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے لوگوں نے گھروں میں مارکر رکھے ہوتے ہیں اور پولیو مہم کے پہلے ہی دن وہ اپنے بچوں کی انگلیوں پر نشان لگا دیتے ہیں تا کہ انہیں ویکسین نہ پلائی جائے۔خیال رہے کہ پولیو عمر بھر کے لیے معذور کردینے والے انفیکشن زدہ بیماری کی انتہائی شکل ہے جو 5 سال سے کم عمر بچوں کو نشانہ بناتی ہے۔ اس وقت دنیا میں صرف افغانستان اور پاکستان دو ایسے ممالک بچے ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی موجود ہے۔ یہ خبر 23 ستمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔
……………………………………………………………………………………………
.
پختونخوا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار 600 تک جا پہنچی
پشاور(سی ایم لنکس) خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا، صوبے میں متاثرہ رجسٹرڈ افراد کی تعداد 4 ہزار سے بڑھ گئی، غیر رجسٹرڈ افراد تعداد کئی گناہ زیادہ ہے، علاج نہ کرانے پر متاثرہ والدین کے بچوں میں بھی ایچ آئی وی وائرس پایا گیا۔ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے جسم میں قوت مدافعت اتنی کم ہو جاتی ہے کہ انسانی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں مردوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ خواتین کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد ہے، مناسب علاج نہ کرانے پر متاثرہ والدین کے بچوں میں بھی یہ وائرس موجود پایا گیا۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ریکارڈ کے مطابق کباڑ کے کام سے منسلک اورانجکشن کے زریعے نشہ کرنے والوں کی تعدا زیادہ ہے جبکہ خواتین زچگی کے دوران ناقص آلات اور خون کی منتقلی کے باعث متاثرین کی تعداد زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایچ آئی وی سے متاثر رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کی تعداد 25 ہے۔
…………………………………………………………………………………………………
.
ڈریپ نے ’زینٹک‘ دوا کی فروخت پر پابندی لگا دی
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)ملک بھر میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ’زینٹک‘ دوا کی فروخت پر فوری طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینیٹی ڈائن ایچ سی ایل کے حامل ادویات کی ملک بھر میں فروخت پر فوری طور پر عارضی پابندی عائد کردی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارے ایف ڈی اے کی جانب سے حالیہ تحقیق میں رینیٹی ڈائن میں مضر صحت اجزا سامنے آئیں ہیں اور ملک بھر میں یہ دوا’زینٹک‘ کے نام سے فروخت کی جاتی ہے لہذا ڈریپ کی جانب سے زینٹک کی فروخت پر فوری طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈریپ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر مریضوں کی صحت کا پھرپور خیال رکھتا ہے۔واضح رہے کہ رینیٹی ڈائن ایچ سی ایل میں نائیٹرو سامائین کی آمیزش سامنے آئی ہے جو کیسنر کا سبب بنتی ہے۔امریکی ادارے ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ Ranitidine (رینٹڈین) نامی دوا میں ممکنہ طور پر کینسر کی وجہ بننے والے کیمیکل پایا گیا ہے۔
………………………………………………………………………………………………..
.

خیبرپختونخوا: چار وزراء کے محکموں میں تبدیلی کا فیصلہ
پشاور(سی ایم لنکس) خیبرپختونخوا کابینہ میں ممکنہ ردوبدل اور توسیع کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ محمود خان کو خود فیصلہ کرنے اختیار دے دیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ جو بھی تبدیلی کرنی ہے وہ میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کی جائے۔ذرائع نے بتایا کہ چار وزرا کے محکموں میں ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کسی کو فارغ نہیں کیا جائے گا۔وزیر اعظم کابینہ اراکین کے ٹوئٹس سے تنگ آ گئے بتایا جارہا ہے کہ وزیر صحت ہشام انعام، وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد اور وزیر مواصلات اکبر ایوب کے محکمے تبدیل ہوں گے جبکہ مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش کو بھی متبادل محکمہ دیاجا سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کو ہائر ایجوکیشن، وزیر خزانہ تیمور سلیم کو تعلیم کے اضافی محکمے حوالہ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔کابینہ میں قبائلی اراکین صوبائی اسمبلی اور خواتین کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔وزیراعلی محمود خان نے پی ٹی آئی کے قریبی ساتھیوں سے اس حوالے سے مشاورت شروع کردی ہے جبکہ ردوبدل اور توسیع کا اعلان وزیراعظم کی امریکہ سے واپسی پر متوقع ہے
………………..


شیئر کریں: