Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انصاف کے ساتھ نا انصافی ………علی شیر خان ریشن اپر چترال

Posted on
شیئر کریں:

علاقہ ریشن نئی نویلی ضلع اپر چترال کی پہلی بستی ہے اور آپر چترال کے لئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتی ہے مختلف ادوار سے سیاسی تحریکوں کا مرکز رہا ہے مختلف قد آور سیاسی شخصیات جن میں نصرت بھٹو، آفتاب آحمد خان شیر پاوٗ، سردار مہتاب آحمد خان، ارباب عالمگیر ، ریٹائر جنرل نصیر اللہ خان بابروغیرہ یہاں تشریف لا چُکے ہیں۔اور 2015 میں افواج پاکستان کے اس وقت کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے قدموں کی چاپ بھی یہاں کی مٹی پر پڑے ہیں۔ اور یہاں کے باشندے ہمیشہ اپنے مہمانوں کا نہایت گرم جوشی سے خیر مقدم کرتے آئے ہیں۔

.
2015 کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اس خوبصورت گاوٗن کی خوبصورتی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سیکڑوں رہائشی مکانات سیلاب بُرد ہوگئے اور سیکڑوں کو جزوی نقصاں پہنچا، باغات ، زرعی اراضی ، ابپاشی اور نظام آمدورفت وغیرہ کو بہت نقصاں پہنچا اور ساتھ ساتھ اپر چترال کو بجلی فراہم کرنے والا واحد پاور ہاوس بھی سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آ گئی اور اپر چترال کے باشندے 21 وین صدی میں ایک بار پھر لائلیٹن اور مٹی کے تیل کے محتاج ہو گئے۔

.
بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھانے کے باوجود اپر چترال کے عوام نے اپنے تمام تر نقصانات کو پس پشت ڈال کر اس وقت کی صوبائی اور مرکزی حکومت سے صرف ایک مطالبہ کرتے رہے کہ ہمارے پاور ہاوٗس کو بحال کیا جائے ۔ اس کے لئے جلسے جلوس کئے ، دھرنے دئے ، بھوک ہڑتال کئے لیکن چار سال تک اس سلسلے میں کوئی قابل یقین پیشرفت نہیں ہوئی۔

.
کُفر ٹوٹا خدا خدا کرکے آخر کار 2019 میں حکومت کو شاید یہاں کے عوام کی مشکلات کا احساس ہوا اور ماہ آگست 2019 کے اخر میں پاوٗر ہاوٗس کی بحالی کے سلسلے میں تھوڑی بہت پیش رفت نظر آ ئی اور یہاں کے عوام کویہ دیکھتے ہوئے کچھ تسلی ہو گئی کہ دیر آید درست آید کچھ تو ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ان حالات میں 15 ستمبر کے بعد یہ بات چل نکلی کہ عزت ماب جناب محمود خان صاحب وزیر اعلیٰ کے۔ پی۔کے پاوٗر ہاوٗس بحالی کے کام کے افتتاح کے سلسلے میں ریشن تشریف لا رہے ہیں یہ خبر سیلا ب سے تباہ شدہ ریشن کے عوام کے لئے خصوصاً اور اپر چترال کے عوام کے لئے عموماً بہت بڑی خوشخبری تھی ریشن کے عوام کے لئے اس لئے کہ جب وزیر اعلیٰ صاحب یہاں تشریف لائیں گے تو اپنی آنکھوں سے سیلاب کی تباہ کاریوں کا قریب سے جائزہ لیں گے اور علاقے کے لئے کسی بڑے پیکج کا اعلان کریں گے یہاں کی تقدیر بدل جائیگی۔اور اپر چترال کے عوام کے لئے اس لئے خوش خبری تھی کہ جناب والا اپنے دو ر حکومت میں بنے والی نئی نویلی ضلع کے لئے بہت سے اعلاانات کرین گے
.

لیکن بقول شاغر
سنا تھا کہ وہ آئیں گے انجمن میں سنا تھا کہ ان سے ملاقات ہوگی
ہمیں کیا پتہ تھا ہمیں کیا خبر تھی نہ یہ بات ہوگی نہ وہ بات ہوگی
.

وزیر اعلیٰ کے دورے سے دو دن پہلے انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی تحصیل میونسپل ایڈ منسڑیشن کا عملہ پرانی ٹریکڑ ٹرالی سمیت روڈ کے اردگرد کچرا اٹھاتے ہوئے نظر آئی جسے اسے پہلے کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔ریشن کے عوام کو فائر بریگیڈ کی گاڑی کا دیدار نصیب ہوا اس تختی کے وارے ہی نہارے وہ گئے جو پاوٗر ہاوٗس کے افتتاح کے لئے خاص طور پر پشاور سے بنا کر لائی گئی تھی جب تک اصل جگہ کا تعین نہیں ہوا اس تختی کو گاڑی میں رکھ کر خوب گھمایا گیا کبھی اسے ریشن پاوٗو ہاوٗس لایا جاتا تھا کبھی پولوگراوٗنڈ ریشن لے جایا جاتا تھا اور کبھی بونی لے جایا جاتا تھا اس طرح کسی دیوار کی زینت بنے سے پہلے اسے خوب سیر کرائی گئی اس دوران کرسیوں کی آمدورفت کا سلسلہ چل پڑا کبھی کرسیون کو گاڑیوں میں لوڈ کرکے پاوٗر ہاوٗ س میں لایا جاتا تھا اور پھر ہنگامی بنیادوں پر وہاں سے اٹھا کر پولو گراونڈ ریشن منتقل کر دئے جاتے تھے یہ سلسلہ بھی خوب چلا۔
.

جناب وزیر اعلیٰ صاحب کی آمد سے ایک دن پہلے معلوم ہوا کہ 20 ستمبر 2019 کو سی ۔ایم صاحب کا ریشن آنا کنفرم ہے۔لیکن وہ پاوٗر ہاوٗس نہیں جائنگے بلکہ پولو گراونڈ ریشن میں بجلی گھر بحالی کےتختی کی نقاب کشائی کریں گےیہ خبر سن کر وہ عوام جوپاوٗر ہاوٗس ریشن میں اپنے محبوب وزیر اعلیٰ کا فقید المثال استقبال کرنا چاہتے تھے حیران ہو گئے کہ کیا ہو رہا ہے کہ سی ۔ ایم صاحب ریشن آکر پاوٗر ہاوٗس نہیں جا رہے ہیں جو کہ پولو گراوٗنڈ سے صرف 5 منٹ کی مسافت پر ہے سی ،ایم صاھب کو کن وجوہات کی بنا پر پاوٗر ہاوٗس سے دور رکھا جا رہا تھا یہ پی۔ ٹی ۔ آئی کی ضلع اور مقامی قیادت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور رہے گاکہ آخر کس بنیاد پر یہ قدم اٹھایا گیا اور وہ لوگ جو یہ اُمید لگائے بھیٹے تھے کہ وزیر اعلیٰ صاحب پاوٗر ہاوٗس آ ئیں گے ہم اس کا بھر پور استقبال کریں گے ۔لیکن جان بوجھ کر وزیر اعلیٰ کو پاوٗر ہاوٗس اور عوام سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔اس کشمکش میں پی۔ ٹی۔ آئی اور انتظامیہ جیت گئی عوام ہار گئے۔
.

سی ۔ایم صاحب ریشن آئے لیکن جس مقصد اور جس جگہ کے لیے آئے تھے وہاں آئے بغیر اس اصل مقام سے چند قدم کی دوری پر واقع ریشن پولو گراوٗنڈ میں تختی کی نقاب کشائی کرکے چلے گئے ۔ انصاف کی حکومت میں انصاف کے ساتھ اس سے زیادہ نا انٖصانی اور کیا ہوگی اگر تختی کی نقاب کشائی ہی مقصود تھی تو تختی بھی پشاور میں بنی تھی سی۔ ایم آفس بھی پشاور میں ہے کروڑوں کا خرچہ کرکے اپر چترال کے ایک گاوٗں میں آنے کی کیا ضرورت تھی چیف منسٹر سکیٹریٹ کے وسیع و عریض لان میں کچھ لوگوں کو جمع کرکے تختی کی نقاب کشائی کر لیتےاور میڈیا والوں کو وڈیو جاری کر دیتے افتتاح بھی ہوتا رقم بھی بچ جاتی آپ کو اتنا لمبا سفر بھی نہ کرنا پڑتا انتظامہ کی دوڑیں بھی نہ لگتی اورعوام بھی خواہ مخواہ کی نا کام امیدیں لگائے نہ بھٹتے۔

.
سی۔ ایم کی ریشن آمد کے موقع پر عوام کی بڑی تعداد پاوٗر ہاوٗس ریشن میں جمع تھی اور پھر بھی آس لگائے بھٹیےتھے کہ چیف منسٹر صاحب ضرور یہاں آئیں گے اور تختی کی نقاب کشائی یہاں پر ہوگی لیکن ان کے امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب یہ معلوم ہوا کہ جناب وزیر اعلیٰ پولوگراوٗنڈ ریشن میں پاوٗر ہاوٗس کے افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کرکے چلے گئے ہیں یہ سن کر یہاں پر موجود عوام بہت مایوس ہو گئے اور عوام نے مل کر فتہ کاٹ کر پاوٗر ہاوٗس کا عوامی افتتاح کر دیا۔

.
یوں آج ایک ہی پاوٗر ہاوٗس کا دو جہگوں پر افتتاح ہوا ایک عین اس مقام پر جہاں پاوٗر ہاوٗس ہے وہاں عوام کی بڑی تعدا د نے مل کر افتتاح کیا دوسرا پولو گراوٗنڈ ریشن مین وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں تختی کی نقاب کشائی کرکےسرکاری افتتاح کیا گیا۔

اور علاقے کے عوام دو مختلف جگہوں پرجمع ہونے کی وجہ آپنے مغزز مہمان کو وہ عوامی پروٹو کول نہ دے سکے جس کے وہ حقدار تھے اور جو آج تک علاقے کے عوام اپنے قائیدیں اور مہمانوں کو دیتے آئے ہیں یہ قصور عوام کا نہیں بلکہ پی۔ٹی ۔ آئی کے ضلعی اور مقامی ذمہ داروں کا ہے۔ عوام پاوٗر ہاوٗس ریشن میں اپنے تمام تر سیاسی وابستگیون سے بالاتر ہو کر اپنے مہمان کا فقید المثال استقبال کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں سو سکا اور نہاں بھی انصاف کے ساتھ نا انصافی ہوئی۔جس کا ہمیشہ آفسوس رہے گالیکن ایسا کیون ہوا اس کی وجہ جانے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: