Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد……….. جنرل اسمبلی سے توقعات………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان 27ستمبر 2019ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرینگے پرنٹ، الیکٹرا نک اور سو شل میڈیا میں وزیر اعظم کے خطاب سے بہت زیادہ تو قعات وا بستہ کی جا رہی ہیں جولو گ اس طرح کی تو قعات، خصو صا ً مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور بھارت کو شکست دینے کی اُمید وں کا اظہار کرتے ہیں ان کو شا ید اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے کام، طریقہ کار او ر اختیارات یا دائرہ کار یعنی مینڈ یٹ کا پورا علم نہیں ہے دنیا کا کوئی بھی مسئلہ، ممبر ملکوں کے در میان کوئی بھی تنا زعہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش نہیں ہو تا، حل بھی نہیں ہو تا جنرل اسمبلی میں ممبر ملکوں کے سر برا ہان حکومت کا خطاب کسی مسئلے کے حل کے لئے نہیں ہو تا یہ رسمی خطاب ہو تا ہے جس میں خطاب کرنے وا لا عا لمی امن اور اقوام متحدہ کے چار ٹر کے لئے اپنی خد مات پر روشنی ڈالتا ہے اور حا ضری لگا تا ہے جنرل اسمبلی کا صدر یا اقوام متحدہ کا سکر ٹری جنرل اس خطاب کے نکا ت یا مندر جات پر کوئی حکم جا ری نہیں کرتا اقوام متحدہ کا کوئی ذیلی ادارہ اس خطاب کے نکا ت پر عمل کرنے کا یا ان کو نوٹ کرنے کا پا بند نہیں ہے جنرل اسمبلی کا مینڈیٹ یہ ہے کہ اس میں عالمی امن، غر بت کے خا تمے، تعلیم کے فروغ، صنفی مسا وات، ما حو لیاتی تحفظ اور دیگر مسا ئل کے حوا لے سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے مثلاً سیکیورٹی کونسل (SC)، یونیسکو (UNESCO)،یو نیسف (UNICEF)، ورلڈ فوڈ پر وگرام (WFP) اور دیگر ادارے اپنا پرا گرس رپورٹ پیش کرتے ہیں مستقبل کے لئے قرار دادوں کے متن کی منظوری لیتی ہیں جنکو کنونش کہا جا تا ہے اقوام متحدہ کے تنظیمی امور سے متعلق نئی تجا ویز پر غور ہو تا ہے مثلاً گذشتہ دو دہا ئیوں سے یہ بات زیر غور ہے کہ سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد میں ایک یا دو یا تین ممبروں کا اضا فہ کیا جا ئے یا نہیں؟ دنیا میں کوئی نیا ملک منظر عام پر آنے کے بعد اس ملک کو اقوام متحدہ کا رکن بنا نے کی منظوری جنرل اسمبلی سے لی جاتی ہے جیسا کہ مشرقی تیمور اور جنو بی سو ڈان کے بارے میں فیصلہ ہوا عالمی تنا زعات کا حل جنرل اسمبلی کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے جنرل اسمبلی کا فورم اپنے دشمن کے خلا ف دل کی بھڑا س نکا لنے کی منا سب جگہ نہیں ہے اس فورم پر چوک یاد گار، راجہ بازار یا مو چی دروازہ والی تقریر کوئی کام نہیں دیتی اقوام متحدہ کی 74سالہ تا ریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ جنرل اسمبلی نے ممبر ملکوں کے در میان کوئی تنا زعہ حل کیا ہو یا کسی ملک پر اقتصا دی پا بندی لگا ئی ہو یا کسی ملک کی سر زنش کی ہو ایسی کوئی مثا ل مو جو د نہیں ہے جنرل اسمبلی کے صدر کو اپنے دائرہ اختیار کا پتہ ہے اور وہ اس سے کبھی تجا وز نہیں کر تا پا کستان 1948ء میں اقوام متحدہ کا ممبر بنا یہ عجیب اتفاق ہے کہ پا کستان کے پہلے وزیر خار جہ سر ظفر اللہ خان نے جب پہلی بار پاکستان کی نما ئندگی کرتے ہوئے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تو وہ بھی 27ستمبر کی تاریخ تھی فیلڈ مار شل ایوب خان اور ذولفقار علی بھٹو نے کئی بار جنرل اسمبلی سے خطا ب کیا جنرل ضیا ء الحق نے اکتو بر 1980ء میں تاریخ میں پہلی بار جنرل اسمبلی کے فلور پر قرآن پاک کی تلاوت سے اپنی تقریر کا آغا ز کیا ان کی تقریر سے پہلے ایوان میں پارہ 17،سورہ حج کی آیت 40کی تلا وت ہوئی اس آیت کا مضمون افغا نستان، کشمیر اور فلسطین سے نکا لے گئے مہا جرین کی حا لت زار اور ان کی مدد و تائید کے حوا لے سے بر محل تھا ہمارے صو بے کے با خبر حلقوں کو یہ بھی یا د ہو گا کہ صو بے کا نام شما ل مغربی سر حدی صو بہ (NWFP) سے بدل کر خیبر پختونخوا رکھنے سے دو سال پہلے اکتو بر 2008ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے دہشت گر دی سے متا ثرہ پا کستان کا حو الہ دیتے وقت شما لی مغر بہ سر حدی صو بہ کہنے کے بجا ئے پہلی بار ”پختونخوا“ کہا 2019کا سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لئے بہت اہم سال ہے ایک طرف دنیا بھر میں جنگوں سے متا ثرہ آبادی کی اباد کاری اور بحا لی کے لئے ذیلی اداروں کی رپورٹوں کا جا ئزہ لینا ہے دوسری طرف سے اگلے سا لوں میں مزید متا ثرین اور مہا جرین کی امداد کے لئے پیش بندی کر نی ہے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہا جرین کو مزید فعال کر نا ہے دنیا میں فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ روز بروز گھمبیر ہو رہا ہے اس کے لئے ورلڈ فوڈ پر وگرام کو مزید تقویت دینا ہے عالمی حد ت اور مو سمیا تی تغیر کی وجہ سے زراعت اور با غبانی کو شدید خطرات درپیش ہیں ریو (RIO)کانفرنس کی سفا رشات کی روشنی میں ما حو لیاتی تحفظ کو یقینی بنا نا اور انٹر نیشنل فنڈ فار ایگر یکلچر ڈیولپمنٹ (IFAD)کے ذریعے زرعی اجنا س کی فصلوں کو تحفظ دینے کی نئی حکمت عملی تیار کر نا ہے چنا نچہ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے خواب دیکھنا نا دا نی ہو گی ایسی نا دانی ہمارے لیڈر کی قد کا ٹھ میں کوئی اضا فہ نہیں کرے گی اس لئے ہمیں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بے جا توقعات وابستہ نہیں کرنی چا ہیئے جو جیسا ہے ویسا ہی رہے گا اور جو جہاں ہے وہ وہاں ہی ہو گا .


شیئر کریں: