Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچئیے……..جانوروں‌کی حفاظت……….تحریر:ہما حیات

Posted on
شیئر کریں:

فجر کی آزان کے بعد جو اواز کانوں میں رس گھول دیتی ہے وہ پرندوں کی چہکار ہے۔ ہر پرندے کی اپنی اواز ہوتی ہے جو اسکی پہچان ہوتی ہے۔ جب یہ ساری اوازیں ملتی ہیں تو ایک ایسا ساز بنتا ہے کہ دل کو سکون ملتا ہے۔

رام چکور بھی اپنی اواز کے حوالے سے ایک منفرد اور خوبصورت پرندہ تھا۔ ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر کرتے کرتے ہم تو تھک چکے ہیں لیکن اسکے نقصانات ہیں کہ روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

میں پچھلے ڈیڑھ سال سے رام چکور کی تلاش میں ہوں۔ اور کئی دفعہ مقامی لوگوں سے بھی پوچھ چکی ہوں لیکن افسوس کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ میں پھر بھی ہار نہیں مانی اور چرواہوں سے پوچھنے لگی کہ یہ پہاڑوں پر زیادہ رہتے ہیں لیکن انہوں نے بتایا کہ دو سالوں سے ہم نے بھی اسکی اواز نہیں سنی ہے۔یقین مانئے ایک لمہے کے لئے میرے رونگٹھے کھڑے ہوگئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس سب کا زمہ دار میں ہوں۔
رام چکور کے ساتھ عام پرندے بھی منظر سے غائب ہو گئے ہیں۔یہ حقیقت ا س وقت عیان ہوا جب میں نے مقامی لوگوں میں سے نہایت عمر رسیدہ افراد سے پوچھا انہوں نے جب عام کا لفظ استعمال کیا تو مجھے بہت عجیب لگا کیونکہ ہمارے لئے تو یہ بھی نایاب ہو چکے ہیں۔

ہم انسان ہیں۔ اشرف المخلوقات۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمین کا نائب بنا کر پیدا کیا ہے۔ اپنی جان کی حفاظت کیساتھ ان جانوروں کی حفاظت کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے۔ لیکن شاید ہم اپنی زمہ داری اچھے سے ادا نہ کرسکے۔

چترال کے جانور اسکی پہچان ہیں جیسا کہ میں نے اپنی گزشتہ ارٹیکل میں ذکر کیا تھا کہ آئی بیکس جو کہ اپر چترال میں رہتی ہے۔ پچھلے دو سالوں سے آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ہم انسان جب بیمار ہوتے ہیں تو اپنی علاج کے لئے نت نئے کھوج کرتے ہیں، تحقیقات کرتے ہیں۔ لیکن افسوس جو ہمارے ارد گرد بے زبان جانور رہتے ہیں اور جنکی زمے داری ہم پر عائد ہے انکے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر سکول سے لیکر یونیورسیٹی تک کے طالب العلم ایک مظبوط تنظیم بنائیں اور ان جانوروں کی حفاظت کے لئے آواز اٹھائیں۔ اور ترقیافتہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی تباہ کاریوں کے حوالے سے بتا سکیں اور انہیں یہ بھی بتا سکیں کہ انکے لئے انکی ترقی جتنی اہم ہے ہمارے لئے ہمارے اثاثے اس سے بھی کئی زیادہ اہم ہیں اور پھر ذرا سوچئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ان اثاثوں کو زرا سا بھی نقصان پہنچا تو ہم اپنے آنے والی نسلوں کے سامنے شرمندہ ہو سکتے ہیں۔


شیئر کریں: