Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بزکشی در افغانستان بازی رسمی شد ………… قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

بزکشی در افغانستان بازی رسمی شد
پیامبر ٭٭٭ قادر خان یوسف زئی

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے افغان مفاہمتی عمل کو ”ڈیڈ“ کئے جانے والے فیصلے سے افغانستان میں کی جانے والی امن کی کوششوں کو یقینی طور پر نقصان پہنچا ہے۔سب سے بڑا نقصان باہمی اعتماد کی فضا کو ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں کا یہ مسئلہ ہمیشہ رہا ہے کہ معاہدات کی پابندی کو خود سے مبرا سمجھتی ہیں۔ اس وقت سب سے بڑی مثال ایران۔امریکا کی ہے۔ سابق صدر بارک اوبامہ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔اس معاہدے پر دیگر اہم ممالک نے بھی دستخط کئے تھے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے ہی ملک کے صدر کے دستخط شدہ معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا اور یکطرفہ طور پر معاہدے کو منسوخ کردیا۔ اس حوالے سے امریکی صدر نے معاہدے میں شریک اُن اہم ممالک سے بھی مشاورت ضرورت نہیں سمجھی، جنہوں نے امریکا۔ ایران ڈیل کو کامیاب بنایا تھا۔امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے پابندیاں عائد کیں اورپھر یکطرفہ معاہدہ ختم کرنے کے بعد ایران پر دباؤ بڑھایا کہ وہ امریکا کی منشا کے مطابق دوبارہ نیا معاہدہ کریں۔ کچھ ایسی صورتحال دوحہ مذاکرات میں بھی دیکھنے میں آئی کہ تک ذ18برس کے جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک برس کی مسلسل محنت اور گفت و شنید کے بعد طے پانے والے ایک معاہدے کو ختم کردیا جو کہ دستخط کے مراحل میں داخل ہوچکا تھا واضح نظر آرہا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کو برداشت نہیں کرسکے۔ یہی کچھ ایران۔ امریکا معاہدے میں ہوسکتا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو ایران کے تیزی سے تبدیل ہوتے حالات و طاقت دیکھ کر خوف محسوس ہوا اور صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈال کر معاہدہ ہی ختم کرادیا۔
افغانستان میں صدر ٹرمپ کے ’ذاتی‘ فیصلے کے مضمرات زیادہ ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی اور جو فیصلہ کیا انہوں نے اپنی مرضی سے کیا۔ امریکی صدر بزنس مائنڈ شخصیت کے حامل ہیں۔ انہیں کاروباری اتار چڑھاؤ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ٹریک پر چلتے ہوئے یک دم مڑ جانا اور دنیا بھر کو حیران کردینا ان کا وتیرہ ہے۔ یہ الگ بات کہ ان کی اس عادت نے انہیں فائدہ کم نقصان زیادہ پہنچا یا ہے۔ یہ ڈیلنگ کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ دباؤ ڈالنے کے لیے مخالف کو زچ کرنے کی حد تک جانا ان کا ”خاص وتیرہ”ہے۔ اس طرح سمجھتے ہیں کہ مخالف بدحواس ہوکر جلد بازی میں وہ کچھ کرسکتا ہے جو وہ عام حالات میں نہیں کرنا چاہتا۔ افغان امن مذاکرات کے 9طویل مراحل کے دوران اس کے طرح طرح کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ وہ چونکاتے، حیران کرتے اور خدشات میں ڈال کر پھر واپس پرانے رخ پر چلنے لگتے ہیں ہے۔ ان کا وتیرہ ناکام یا کامیاب،مگر اس الٹ پھیر نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔شمالی کوریا، ایران، چین اور بعض عرب ممالک کے ساتھ یہی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔
افغانستان میں 28ستمبرکو صدارتی انتخابات متوقع سمجھے جارہے ہیں۔ لیکن 17صدارتی امیدواروں میں بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔ 17 میں سے تقریباََ 14امیدوار شش وپنج کا شکار ہیں کہ عین وقت پر انتخابات ہوتے بھی ہیں کہ نہیں، جبکہ بعض امیدواروں نے واضح طور پر کہہ بھی دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مفاہمتی عمل کو ختم کرنے کے بعد افغانستان میں امن کی صورتحال مزید مخدوش ہوگی اور انتخابات پُر امن ماحول میں ہونا تقریباََ ناممکن لگتا ہے۔افغان صدارتی امیدواروں کا امن و امان کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار جائز ہے، کیونکہ امریکی صدر نے معاہدے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اب آگے وہ کیا کریں گے؟۔ امریکی صدر تو اپنے امریکی فوجیوں کو ہر صورت نکالنا چاہتے ہیں۔ کیا افغان طالبان کے ساتھ مزید کئی برسوں کی جنگ کے لئے اب مزید فوجی بھیجیں گے یا پھر ایرک پرنس کے ساتھ 6ہزار ٹارگٹ کلرز کو افغانستان میں آپریشن کرنے کا غیر اعلانیہ معاہدہ کرلیں گے۔ جس کے حوالے سے کئی مہینوں سے تواتر سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ امریکا افغانستان میں بلیک واٹر کا آپشن بھی استعمال کرسکتاہے۔ اس معاہدے میں بلیک واٹر اپنے جنگی سازو سامان کے ساتھ افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف جنگ کرے گی۔ جس کا براہ راست تعلق افغان سیکورٹی فورسز یا غیر ملکی افواج سے نہیں ہوگا۔ اس طرح امریکا کو موجودہ حالات کے مقابلے میں کم مالی نقصان ہوگا اور امریکی فوجیوں کی جانیں بھی بچائی جاسکیں گی۔بلیک واٹر کومتبادل فوج کے طور پر استعمال کرنے کی خبریں ذرائع ابلاغ میں تواتر سے آچکی ہیں۔ اس لئے اس بات کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ صدر ٹرمپ کیا سوچ رہے ہیں؟۔
اس وقت پاکستان کے حوالے سے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امریکا اب پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہراسکتا۔ کیونکہ پاکستان نے اپنے مینڈیٹ کے مطابق جو کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان معاہدہ طے پاچکا تھا۔ نیز اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بین لافغان مذاکرات و جنگ بندی کے لئے افغانستان کے اسٹیک ہولڈر ایک صفحے پر آسکتے تھے۔ لیکن اس کے لئے امریکی صدر و اسٹیبلشمنٹ نے موقع ہی نہیں دیا۔یہ بھی قیاس آرائی ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ بین الافغان مذاکرات کی کامیابی سے خوفزدہ ہیکہ اگر افغانستان کے اسٹیک ہولڈر کے درمیان معاملات طے پا گئے تو اس خطے میں رہنا کا مزید جواز مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔ اس لئے دوسرے مرحلے سے قبل ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے دباؤ بڑھا کر صدر ٹرمپ سے ٹوئٹر پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرادیا۔ گو کہ اس وقت امریکی انتظامیہ نے ایک رٹ لگا رکھی ہے کہ افغان طالبان، کابل انتظامیہ سے براہ راست مذاکرات کریں۔ لیکن اہم امر یہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے پاس تو خود کوئی اختیار اور عوامی مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔ صدارتی انتخابات کے لئے بھی امریکا، فنڈ فراہم کررہا ہے، کابل انتظامیہ کو تنخواہیں بھی امریکا دے رہا ہے۔ جنگی اخراجات سمیت تمام وسائل امریکا فراہم کررہا ہے تو کابل انتظامیہ کس بنیاد پر افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔ کابل انتظامیہ کی آئینی حیثیت چند دنوں کی مہمان ہے۔ ان کے پاس عوامی مینڈیٹ ختم ہوچکا ہے، اشرف غنی دو بارملتوی کئے جانے والے انتخابات کے بعد افغان سپریم کورٹ کے حکم پر صدرہیں، غیر متوقع انتخابات میں کامیاب ہوتے بھی ہیں یا نہیں، اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے کابل انتظامیہ کا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ ناقابل فہم نظر آتا ہے۔ جس طرح امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر مذاکرات ختم کئے گئے ہیں، ان حالات کو دیکھتے ہوئے افغانستان کے صدارتی انتخابات کس طرح پر تشدد ماحول کے بغیر ہوسکتے ہیں۔ اس پر امریکا اور کابل انتظامیہ افغان عوام کو کس طرح یقین دہانی کراسکتے ہیں۔ تاہم معاہدے پر دستخط کے بعد 23 ستمبرکو بین الافغان مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی سمیت افغانستان کے اکثریتی اسٹیک ہولڈر مستقل امن حل نکال سکتے تھے۔ جس میں زیادہ گنجائش نکل سکتی تھی کہ بین الافغان مذاکرات میں افغانستان کے اکثریتی اسٹیک ہولڈر جنگ بندی اور عبوری حکومت کے ابتدائی ڈھانچے پر رضامند ہوجاتے، جس کے نتیجے میں صدر اور چیف ایگزیکٹوکے ساتھ کابینہ بھی فارغ ہوجاتی اورعلما، محققین اور افغان ذمہ دار اہلکار مل کر معاملات طے کرسکتے تھے۔ امریکا کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کرتے اور افغانستان کا نظام اور انصرام کیا ہوگا یہ بھی خود افغان عوام ہی کرتے۔ افغان طالبان کو بھی اسی روڈ میپ پر آنا ہوتا۔ اس لئے صدر ٹرمپ کا فیصلہ عجلت اور غیر منطقی و زمینی حقائق کے برخلاف سمجھا جارہاہے۔ مناسب یہی ہے کہ ٹرمپ مسودے پر دستخط کریں۔ بین الافغان مذاکرات میں افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام پر چھوڑدیں۔


شیئر کریں: