Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں خودکشی کے بڑھتے رجحانات …… محمد آمین

شیئر کریں:

خود کشی سے رونما ہونے والے واقعات بین الاقوامی اہمیت کے حامل ھیں اورپوری دنیا کے قانون دانوں اور پالیسی بنانے والوں کے لیے لمحہ فکر بن چکے ہیں۔آج کل کے گلوبیلایزیشن کے اس دور میں جہاں تکنیکی ترقی کی بدولت دنیا ایک چھوٹی سی گاؤں میں تبدیل ھو چکی ھے وہاں ذہنی تناؤ اور دینا پرستی کی وجہ سے بہت سے قیمتی جانین ضائیع ہوجاتے ہیں۔اور یہ ایک عالمی تشویش کا پیش خیمہ ھے اور ایسے حالات سے پاکستان بھی مستثنیٰ نییں ھے۔

2016 ء کے ادارہ عالمی صحت کے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خودکشی کا تناسب9۔2 فیصد فی100،000 افراد تھا یعنی اس سال 5500 لوگوں نے اپنے قیمتی جانین خودکشی کی باعث ختم کردئے۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ چترال میں خودکشی کے واقعات پورے ملک میں تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ ھے۔خودکشی کے اس خطرناک شرح کو کنٹرول کرنے کےلیے کے پی کے کے حکومت نے ضلع چترال کے لئے ایک خاص کمیٹی تشکیل دی ھے تاکہ وہ چترال میں خودکشی سے متعلق وجوہات کو سامنے رکھ ان کو کم کرنے کے لئے حکمت عملی تشکیل دے اور سفارشات پیش کریں۔۔پانی میں ڈوبنا ،گولی کا استعمال اور لٹکانا اس وقت چترال میں خودکشی کے سب سے بڑے زرائع ھیں۔
.
.

ضلع چترال میں خودکشی کے بہت سارے اسباب ہیں لیکن چند اہم ذیل ھیں۔

قربت یا رشتے کے بہت سے پہلو ہیں اور یہ عناصر خودکشی یا خودکشی کی کوشش کرنے کے سلسلے میں سب سے بڑا وجہ ھے۔طلاق،شادی شدہ ذندگی میں خلل یا منگنی میں گھڑبڑاور کسی عزیز کی جدائی وغیرہ اس لحاظ سے سر فہرست ہیں۔حالات بعض وقت اتنے سنگین ھوتے ہیں کہ معمولی باتوں پر خودکشی کی کوشش کی جاتی ہے۔

تعلیمی دباؤ بھی خودکشی کے اسباب میں سر فہرست ہیں حالیہ سالوں میں بہت سے طلباء اور طالبات امتحانی دباؤ اور خاص کر امتحانات میں کم نمبر ملنے پر اپنی جانین ضائع کرچکے ہیں اورکئی شدید زخمی حالت میں بچ گئے ہیں۔

مالی مصائب اور دباؤ بھی شدید زہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں مثال کے طور بیروزگاری،احساس کمتری اور معاشرے میں اوسط درجے کا مقام ملنا بعض افراد کو موت کے کنوان کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے نوجواں لڑکیون نے تعلیمی اداروں اور کام کرنے کے جہگوں میں جنسی استحصال کی وجہ سے خودکشی کے بھنٹ چڑھ گئے ھیں کیونکہ ان کے پاس اتنی ہمت نیہں تھی کہ وہ ایسے واقعات کو اپنے والدین یا دوسرے قریبی رشتہ داروں سے شیر کریں۔

معاشرتی دباؤ بھی خودکشی کے واقعات کا موجب ہیں بعض اوقات ایک فرد جب معاشرتی علیحدگی یا شرمندگی کا شکار بنتی ہے اور وہ معاشرے سے الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ھے اور کسی بھی معاشرتی سرگرمیون میں حصہ نیہں لیتا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور معاشرے سے دوری ڈیبریشن کو جنم دیتی ھے اور وہ بہت سے قیمتی جانوں کی خاتمے کا موجب بنتی ہے۔

خاندان اور دوسرے رشتہ داروں کی جانب سے عدم تعاؤن اور حوصلہ افزائی سے بھی خودکشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں کیونکہ اس سلسلے میں جب کسی فرد کے لئے سہارے اورہمت افزائی کے سارے ذرائع بند ھوجاتے ھیں تو یقینی طور پر وہ ذہنی تناؤ کا شکار بن جاتی ہے۔ان کے علاوہ گھریلو تشدد بھی خودکشی سے معتلق واقعات کا اہم جز ہے۔

خودکشی ایک غیر اخلاقی فعل ھے یہ کمزوری کی ایک علامت بھی ہے جہاں انسان مصیبتوں اور تکالیف سے بھاگ جانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک پیمانہ ہے جس سے ایک انسان کی ہمت اور استقلال کو ناپاجاتاہے۔ خودکشی کے تدارک کے سلسلے میں بہت سے مسائل حائل ہیں جن میں تربیت یافتہ عملے، منٹل ہیلتھ کیر سنٹرز اور دوسرے معتلقہ سہولیات کی کمی اورعدم دستیابی سر فہرست ہیں ۔

قابل افسوس بات یہ ہے کہ پورے ڈسٹرکٹ میں کوالیفائڈ اسٹاف پر مبنی ذہنی مریضوں کے لئےکوئی بھی ہسپتال یا سنٹر موجود نیہں ہے جہان زہنی نوعیت کے مریضوں کی علاج ھو سکے ۔نتیجتا ایسے بیماروں کو علاج و معالجے کے لئے چترال سے باہر لے جاتے ہیں جن سے وقت اور پیسے دونوں ضائع ھو جاتے ہیں۔صرف آغاخان ہیلتھ سروسز کے چند مراکز میں آن لائن کلینک اور سائکولوجسٹ کی سہولت موجود ہیں جو مریضون کو بنیادی سہولت اور مشورے فراہم کرتے ہیں۔

چترال میں تیزی سے بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحانات کو کم کر نے کے لئے ہنگامی طور پر اقدامات کی اشد ضرورت ہیں جن کی بنیاد پر خودکشی کے وجوہات کی ڈیٹا پروفائلنگ،کریر کونسلنگ،خودکشی کے ممنوعات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی پھیلاؤ،ڈسٹرکٹ ہسپتال سے منسلک جدید آلات سے لیس ذہنی صحت کے مرکز کا قیام جس میں تربیت یافتہ عملہ شامل ھو اور اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا شامل ہیں تاکہ وہ امدن پیدا کرنے کے سرگرمیوں میں مصروف عمل رھے۔یہ بات ذہین میں رکھنا چاہئے کہ خودکشی کے روکنے کے عوامل معاشرے کی تمیرو ترقی میں نمایاں خصوصیات کے حامل ہیں کیونکہ ان کا تعلق انسانی حقوق سے ہیں اور جہان ایک ادمی باعزت اور پرامن زندگی بسر کرنے کے قابل ھو جاے۔یہ ایک فطری عمل ھے اور صرف حکومتی ادارون پر ہی انحصار نیہں کرناچاھئے بلکہ اس کی روک تھام میں تمام شہریوں کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاھئےتاکہ اسے ایک فلاحی معاشرے کی تکمیل ہوسکے۔


شیئر کریں: