Chitral Times

Nov 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • علاقہ لٹکوہ کی اہمیت اورارباب اختیار کی علاقے کے ساتھ نا انصافی….امیراللہ

    September 12, 2019 at 11:11 pm

    علاقہ لٹکوہ پانچ وادیوں پر مشتمل 40 ہزار نفوس سے زیادہ انسانوں کی بستی، سیاحوں کے خوابوں کا جنت، بلپھوک سے پرسان، شغور سے کیار، روجی سے ارکاری اویر لشٹ موغ سے شاہ سلیم، گرم چشمہ سے بگوشٹ تک ایک وسع خوبصورت اور دل کش علاقہ ہونے کے ساتھ افغانستان سے ملے ہوئے سات گزر گاہوں‌کا بھی گیٹ وے ہے .

    جو بھی سیاح اندرون ملک سے ہو یا باہرممالک سے چترال آنے کے بعد گرم چشمہ دیکھےبغیراپنے سیرکو ادھوری سمجھتے ہیں۔ اور جب گرم چشمہ روانہ ہوتے ہیں توسڑک کی خستہ حالی اور ٹوٹی پھوٹی روڈ پر سفر کے بعد چترال کے نام کو اپنے سفر نامے سے نکال دیتے ہیں۔ یہ ہمارے چترال کے انتظامیہ اورسابقہ وموجودہ سیاسی سربراہوں کے لیے افسوس اورلمحہ فکریہ ہے۔

    لٹکوہ کی اہمیت
    1.. 2 لاکھ بوری آلو سالانہ گرم چشمہ کے مختلف علاقوں سے پشاور گوجرانوالہ کے بڑے منڈیوں تک کاروبار ہوتا ہے۔
    2.. لٹکوہ سے قیمتی پتھراورمعدنیات چین ہانکانگ کے منڈیوں تک پہنچایا جاتاہے۔
    3.. 20 ہزار بوری مٹر، لوبیا، دال وغیرہ چترال اور پشاور کے منڈیوں کے رونق بنتے ہیں۔
    4.. تین مہینے تک لٹکوہ سے تازہ ٹماٹر چترال کے ٖضررویات کو پورہ کرتا ہے۔
    5.. دیسی سیب چترال کے علاوہ پشارو اسلام آباد پنڈی اور شغوری ناشپاتی باہر کے ملکوں تک بیھجا جاتا ہے۔
    7.. آخروٹ کی بڑی مقدار پشاور پنڈی کے منڈی تک کا پہنچ جاتے ہیں،
    8.. سردیوں کے موسم میں چترال ٹاون کے لیے چار ماہ تک گوشت لٹکوہ سے مہیا ہوتا رہتا ہے۔
    9.. چترال ٹاون کے لیے پینے کا صاف پانی بھی لٹکوہ سے میسر ہے۔
    10.. گرم چشمہ کا گرم پانی اتنا گرم ہے کہ 10منٹ کے اندر انڈے کو پکا دیتا ہے۔ اور skin کے مریضوں کے لیے شفا بھی ہے۔ جوکہ خیبرپختونخوا کے دور دور اضلاع سے لوگ علاج کرنے یہاں آتے ہیں۔
    11 موغ پٹی دنیا کی واحد اور اعلی کوالٹی پٹی ہے۔ جو کہ پاکستان کے کونے کونے میں قابل استعمال اور باہر کے ملکوں میں بھی درآمد شدہ ہے۔

    ناانصافی
    1 . ستم ظریفی کی بات یہ ہے۔ کہ اتنے productive علاقے کے تحصیل کی حشیت کو ختم کر کے تحصیل چترال کے ساتھ ضم کیا گیا ہے۔
    ڈی سی چترال، ایم پی ایز، ایم این اے چترال، وزیراعلی خیبرپختونخوا اور وزیر اعظم پاکستان سے عوام لٹکوہ درخواست گزار ہیں کہ جلد از جلد لٹکوہ کو تحصیل کا درجہ دیا جائے۔

    2 . گولین گول کی بجلی سے صرف علاقے لٹکوہ کو بلاوجہ محروم رکھا گیا ہے۔ فوری لائن بچھانے کی منظوری دی جائے.

    1. 2015 کے سیلاب اور زلزلے کے بعد ضلع چترال کو آفت ذدہ قرار دیکر تین سڑکوں کے لیے فنڈ کی منظوری ہوئی تھی۔ بعد میں بلا وجہ لٹکوہ روڈ کے فنڈ کو روکا گیا ہے۔ گزارش ہے کہ مذکورہ فنڈز کو بحال کیا جائے.
    2. لٹکوہ کے عوام کو آمن پسند کا طعنہ دیکر ہمیشہ ان کے حقوق پامال کیے گیے ہیں۔ اگر غریب لوگ احتجاج پر اتریں گے۔ تو جان کی بازی بھی ہارنے کو تیار ہونگے۔

    لہذا ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ لوٹکوہ کے عوام کے ساتھ سوتیلی کا ماں‌کا سلوک بند کرکے بنیادی حقوق دلوائے جائیں‌.
    .
    .
    .

    فقط سماجی کارکن
    ریٹائرڈ صوبیدار
    امیراللہ گرم چشمہ لوٹکوہ

  • error: Content is protected !!