Chitral Times

Nov 21, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گولین سیلاب کے دومہینے مکمل، تاحال بحالی کا کام تعطل کا شکار،متاثرین کسمپرسی کاشکار

    September 10, 2019 at 6:59 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) 7جولائی کو چترال شہر کے قریب واقع گولین گول میں گلیشیر کے پھٹ جانے کے نتیجے میں سیلاب نے جہاں واپڈا کے 108میگاواٹ بجلی گھر سمیت سڑکوں، پلوں،ابنوشی اور ابپاشی کے منصوبوں کو روند ڈالا، وہاں صوبائی حکومت کی بے بسی یا غفلت کو عوام کے سامنے طشت ازبام کرکے رکھ دیا جس کے ساتھ پہاڑ جتنا اونچا امیدیں وابستہ کئے گئے تھے کیونکہ “تبدیلی “کا لازمی تقاضا تھا کہ یہ تمام انفراسٹرکچر ایک ماہ کے اندر اندر بحال ہوجاتے جن میں چترال شہر کو پانی کی سپلائی لائن بھی شامل ہے اور موری پائین، برغوزی اور کوجو بالا کے دیہات کی ابپاشی کے لئے سائفن اسکیم بھی۔ ان دیہات میں پانی کی عدم دستیابی سے فصل ربیع سمیت سبزیاں، پھلدار اور غیر پھلدار درخت اور پودے ضائع ہوگئے اور زراعت متاثر ہونے پر ان علاقوں کے باشندوں کی آمدنی کا 80فیصد سے ذیادہ حصہ بھی ضائع ہوا اور نوبت قحط اور بھوک کی آگئی ہے۔ چترال ٹاؤن اورمضافات میں پانی کی عدم دستیابی سے جومشکلات درپیش ہیں، اس کا اندازہ ہر کوئی کرسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان انفراسڑکچروں کی بحالی کے لئے 32کروڑ روپے کی سمری تیار ہے اور صوبائی کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے۔ ‘بہت دیر کی مہربان آتے آتے’کے مصداق جب یہ 32کروڑ روپے کابینہ سے منظور ہوں گے اور ان کے فائل فنانس ڈیپارٹمنٹ اور چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے درمیان جھولا جھولتے ہوئے نہیں معلوم اگلے سال کے اوائل تک چترال پہنچ چکے ہوں گے لیکن تب تک متاثرہ عوام اور بھی متاثر ہوچکے ہوں گے اور برغوزی گاؤں میں گندم کی کاشت نہیں ہوگی اور درختوں کے سوکھ جانے کی وجہ سے یہ گاؤں ایک بے آب وگیاہ چٹیل میدان میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔ ادھر حکومتی خزانے کو لاحق ہونے والی نقصان اپنی جگہ ہے جہاں 108میگاواٹ بجلی گھر کی بندش سے ریونیو کی گردش بھی بند ہوگئی ہے۔ جبکہ چترال میں بجلی کے صارفین کے مسائل اپنی جگہ۔
    بجلی گھر کے ہیڈ سے کچھ ملبہ ہٹاکر پانی کیلئے راستہ بنایا گیا ہے اورپانی پاورہاوس تک پہنچ گیاہے مگر پاورہاوس میں ایک الگ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تاحال اسٹیشن دوبارہ اسٹارٹ نہ ہوسکا ہے۔ جس کیلئے چین کی ایک کمپنی سے رجوع کیا گیا ہے جہاں سے تکنیکی ماہرین اکر مذکورہ نقص کو درست کریں گے۔

    گولین وادی کے متاثرہ گاؤں بکہ میں ابپاشی کی چار مختلف نہرین بحال نہ ہونے پر بھی مقامی عوام اسی مشکل سے گزررہے ہیں جبکہ برغوزی، موری پائین اور کوجو بالاکے عوام سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
    یہاں پر تعجب کی بات یہ ہے کہ حکومت ایک طرف بلین ٹری سونامی پراجیکٹ پرآربوں روپے خرچ کررہی ہے مگر ان تین دیہات میں ہزاروں پھلداراورغیرپھلدار پودے بلکہ درخت سوکھ رہے ہیں اور ساتھ کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں مگر متعلقہ حکام ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔

    یادرہے کہ گولین سیلاب کے دومہینے مکمل ہونے پر چترال ٹائمز ڈاٹ کام کی ٹیم گولین وملحقہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کا جائزہ لینے کیلئے علاقے کا دورہ کیا۔دومہینے کے بعد تبدیلی صرف یہ ہوئی ہے کہ گولین بجلی گھر سے لیکر بجلی گھر کی ہیڈ تک صرف ٹریک بنایا گیا ہے جہاں سے بمشکل فورویل گاڑی گزر سکتی ہے۔ علاقے کے مکینوں کے مطابق گولین میں ضلعی انتظامیہ ودیگرغیرسرکاری اداروں اورمخیر حضرات کی طرف سے صرف امدادی سامان تقسیم کئے گئے جبکہ نہروں یاابپاشی وابنوشی کی کسی اسکیم کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔

    برغوزی، موری پائین اورکجوکے عوامی حلقوں نے بتایا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب زدہ پائپ کے ٹکڑوں کو جوڑ کر پانی کی پائپ لائن کی بحالی میں مصروف تھے کہ گولین کے مقام پر اچانک حادثہ رونما ہوا اور تین قیمتی جانوں کی ضیاع کے بعد علاقے کے عوام بھی ہمت ہار گئے اور ساتھ حکومتی نمائندوں کی یقین دہانی کے بعد وہ دوبارہ بحالی کے کام شروع نہ کرسکے۔ مگر دو مہینے گزرنے کے باوجود بھی علاقے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان تینوں متاثرہ علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے دوفصلیں مکمل تباہ ہوگئے، اناراورانگور کی پیداوار بھی بری طرح خراب ہوگئے جس کی وجہ سے فی گھرانے لاکھوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ یہ تمام نقصانات ایک طرف مگر ابپاشی کا نظام جلد بحال نہ ہونے کی صورت میں ان تینوں علاقوں میں اگلے سال کیلئے بھی گندم کی فصل کاشت نہ ہوسکے گی۔ جس سے ان علاقوں کے مکینوں کے مسائل میں مذید اضافہ ہوگا۔



  • error: Content is protected !!