Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • انسپکٹرسلطان بیگ المعروف دبنگ کوبچھڑے ایک سال بیت گئے۔۔۔۔۔ سردارعلی بیگ

    September 5, 2019 at 8:27 pm

    تجھے کھو دیا ہم نے پانے کے بعد
    تیری یاد آئی یاد آئی جانے کے بعد

    پولیس انسپکٹر سلطان بیگ المعروف دبنگ 1960ءمیں چترال شہر سے تقریبا50کلومیٹر دورپہاڑوں کے دامن میں واقع خوبصورت ترین گاوں ہنجیل کریم آباد میں پینین بیگ کے ہاں پیدا ہوئے تھے ۔ اُن کے خاندان تین بھائی اور پانچ بہنیں ،تین بیٹے اورتین بیٹاں شامل ہیں اُن کی جدائی کی ایک سال گزرنے کے باوجودبھی اہل خانہ بلکہ وادی کریم آبادکے ہرفرد اس سانحہ کونہیں بھولاہے ۔

    سلطان بیگ نے ابتدائی تعلیم ہنجیل کریم آباد میں حاصل کی ، میٹرک ہائی سکول شغور اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ ڈگری کالج چترال سے پاس کرنے کے بعد 1978ء میں چترال پولیس میں کانسٹبل بھرتی ہوئے.پولیس میں ترقی کے مختلف کورسزپاس کرنے کے بعد سال 1985ءکو بہ عہدہ ہیڈ کانسٹیبل پروموشن ہو کر مختلف تھانوں میں IHC پوسٹنگ ہو کر اچھی کارکردگی کی بنیاد پر پولیس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے شولڈرASIترقی پائی۔

    سال 2002ءکو ریگولر ASI ترقی پا کر ضلع سوات میں 2سال گزارنے کے بعد واپس چترال ٹرانسفر ہوئی اسی اثناء (دبنگ) کو اچھی کارکردگی کی بنیاد پر شولڈرSI کے عہدے پر ترقی دی گئی اور منشیات کی انسداد کے خاطر اسپیشل سکواڈ تشکیل دے کر سلطان بیگ المعروف دبنگ کو ANS کا انچارج مقرر کیا گیا اور ان کے ایمانداری اور دبنگ کارکردگی کی وجہ سے ملاکنڈ رینج میں منشیات کی برآمدگی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

    سال 2003ءمیں ریگولر SI ترقی پا کر مختلف تھانوں میں SHOرہا ،دوران ملازمت اسلحہ، منشیات کی ریکوری کے علاوہ سنگین مقدمات کی سراغ رسانی میں اہم کردار ادا کرنے پر افسران بالا کی طرف سے متعدد انعام اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا ۔

    ملا تھا نہ جب تک جدائی کا غم
    محبت کا مطلب نہ سمجھے تھے ہم

    سال 2009 میں چترال پولیس کو رسک الاو نس مبلغ 5000 روپے مل رہے تھے وہ بند کر دیا گیا تھا کئی بار کوششوں کے باوجود افسران بالا ناکام رہے ، پرانسپکٹر سلطان بیگ نے ایک بار پھر دبنگ انداز سے چترال پولیس کے جوانوں کے لیے اپنی نوکری کوداو پر لگاکر 2014 میں رسک الاونس کے لیے ہائی کورٹ میں کیس دائر کی اور خود اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے کئی بار پشاور اور سوات کے کوٹ میں ہر تاریخ میں حاضری دیتا رہا اور آخر کار 2016 میں ان کو اس کیس میں کامیابی حاصل ہوئی اور چترال پولیس کے جوانوں کو ماہانہ 5000 روپے رسک الاونس دوبارہ ملنا شروع ہو گئے.

    یہی ہی نہیں بلکہ چترال پولیس کو 2009 سے بند رسک الاو نس بھی عدالت کی طرف سے پورا پورا ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور دبنگ کی کوششوں کی وجہ سے چترال پولیس فورس کے کانسٹیبلوں کو ایک لاکھ اسی ہزاراور افسران کو تین تین لاکھ روپے ملے ہیں ٹوٹل چھ کروڑ روپے دبنگ کی کوششوں کی وجہ چترال پولیس کو ملے ہیں اور اب بھی ماہوار 5000مل رہے ہیں جو کسی سے چھپی نہیں ہیں ۔

    سلطان بیگ جہاں بھی ڈیوٹی سرانجام دی ہے وہان کے مکین آج بھی انہیں یاد کررہے ہیں ،ہمیشہ بہادری ،ایمانداری اورخوداعتمادی سے حالات کامقابلہ کیاہے اورزندگی میں کبھی بھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔

    سلطان بیگ المعروف دبنگ کی کمی کوآج بھی چترال پولیس محصوص کررہی ہے ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چترال پولیس کے جوانوں اور افسران کو سلطان بیگ المعروف دبنگ جیسا ایماندار فرض شناس عوام دوست اور باخلاق بنائیں۔اورمرحوم کو اپنی جوار رحمت میں‌جگہ دیں ..آمین ثم آمین

    نگاہوں میں اب تو سمانے لگا
    تیرا نام ہونٹوں پہ آنے لگا

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

  • error: Content is protected !!