Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ’’چالاک کس قدر ہیں یہ گاؤں کی گوریاں‘‘…….عبدالکریم کریمی

    September 5, 2019 at 8:11 pm

    کبھی کبھی انسان کو دُنیا کے جھمیلوں سے کچھ وقت اپنے لیے نکالنا ضروری ہے۔ اس بار گاؤں میں گزارے چار دن چار پل کی طرح گزر گئے۔ ایک طرف شہر کی بھاگتی دوڑتی زندگی، ملازمت، سفر در سفر کے تھکا دینے والے لمحات ہوں تو ایسے میں گاؤں کی مست الست صبح، خاموش دن اور سرمئی شامیں نعمت محسوس ہوتی ہیں۔ اس دفعہ گاؤں میں جہاں کچھ کتابیں پڑھنے کا موقع ملا وہاں اپنی ذاتی لائبریری میں کتابوں کی چھان پٹھک میں ہمیں محسن نقوی کی ’’ردائے خواب‘‘ ملی۔ جہاں اس کتاب نے گاؤں میں قیام کے لمحات کو ذائقہ دار بنا دیا وہاں ماں کے ہاتھوں کی بنی ادرک والی چائے نے گویا برسوں کی تھکاوٹ کافور کر دی۔ پڑھنے کو تو میں نے یہ کتاب ایک نشست میں پڑھ کر ختم کر دی لیکن کچھ جملے شاید یادوں کی برات میں اٹک جاتے ہیں۔ محسن نقوی کا شعری معیار جتنا اونچا ہے اس کے نثری پارے کو بھی ادبی شہ پارے کہے تو نا انصافی نہیں ہوگی۔ صبح صبح دسترخواں پر دیسی گھی، مکئی کی روٹی اور چائے ہو۔۔۔۔۔۔ اور سامنے بیٹھی ماں کے چہرے سے محبت ہی نہیں نور برس رہا ہو، باہر آنگن میں پرندے اٹھکھیلیاں کر رہے ہوں، صحن میں کھلے پھولوں کی مہک روح کی گہرائی تک محسوس ہو، اور ہاں ہاتھ میں ’’ردائے خواب‘‘ جیسی ادبی شہ پارہ ہو تو انسان بے خود نہیں تو اور کیا ہوگا۔ محسن نقوی لکھتے ہیں:
    ’’مجھے چاندنی میں نہائے ہوئے صحرا کے سینے پر ہوا کی تحریر پڑھنے کا شوق ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے ویران پگڈنڈیوں پر چھتناروں کے سائے میں بانسری کی تان اٹھاتے ہوئے جوانوں کی آنکھوں میں گھلتے خواب گلابوں کے رت سے بھی زیادہ مدھر لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے گاؤں کی سوہنیاں، تھل کی سسیاں اور چناب کی ہیریں آج بھی داستانی عشق کے کرداروں کی طرح دلچسپ اور دلکش دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
    محسن نقوی اگر غذر آتے تو پونیال میں شینا شاعری کی شہزادی یورمس بیگم اور بالائی غذر میں کہوار ادب کی رانی خوش بیگم کا تذکرہ کئے بنا نہیں رہتے۔ گاؤں کی یہ گوریاں گئے زمانوں کی یادیں لیے منوں مٹی تلے سو چکی ہیں لیکن محسن نقوی کو پھر کہنا پڑا؎
    آنکھوں میں بھر کے سادہ محبت کی ڈوریاں
    مٹھی میں بند کرکے دل و جاں کی چوریاں
    دھرتی کو لوٹتی ہیں تبسم کی اوٹ سے
    چالاک کس قدر ہیں یہ گاؤں کی گوریاں
    محسن نقوی کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ میں محبت کے جذبے کی صداقت اور حیات کی توانائیوں پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی بستی بساؤں جس میں آسمان اور سمندر کے درمیان فاختاؤں کی پُرسکون پھڑپھڑاہٹ کے علاوہ کچھ سنائی نہ دے۔۔۔۔۔۔‘‘
    محسن نقوی ہمارے گاؤں بارجنگل آتے تو وہ آسمان، سمندر اور فاختاؤں کی دںیا سے نکل کے یہاں کے موسم، صبح کی روشنی کے سمندر، خوابوں کی سرزمین، پہاڑ، پھول اور پرندوں کی مدھر آواز پر جھوم اٹھتے اور لامحالہ کہتے؎
    آنکھوں میں گھول کر نئے موسم کے ذائقے
    بانہوں میں روشنی کے سمندر کو گھیر کر
    خوابوں کی سرزمیں پہ خیالوں سے بے نیاز
    سو جاؤ اپنی ریشمی زلفیں بکھیر کر
    محسن نقوی اس جملے کے ساتھ کتاب ہمارے حوالے کرتے ہیں:
    ’’ردائے خواب‘‘ ایک مسافر کی ’’خود کلامی‘‘ ہے، جو دن بھر خواب بنتا ہے، خواہشوں کے ریزے چنتا اور پلکوں پر سجاکر اپنی ذات کے صحرا میں خیالوں کا خیمہ نصب کرکے سو جاتا ہے۔‘‘
    گاؤں میں گزارے ہمارے چار دن بھی ایسے گزرے۔ چائے، کتاب بینی، خیالوں کی دنیا، آرام، خواب، خواہش اور ماں باپ کے مقدس چہرے کی بار بار زیارت۔ ایسے میں سورۃ رحمن یاد آتی اور یہ آیت سماعتوں میں رس گھولتی:
    فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ

     

  • error: Content is protected !!