Chitral Times

Nov 15, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مقصد فلسفہ شہادت امام حسینؑ …………تحریر: محمد آمین

    September 2, 2019 at 9:46 pm

    جناب امام حسین ابن علی ابن آبی طالب 3 ہجری ، 625ء میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوا ۔نبی آقدس ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا اور آپ کا کنیت ابو عبداللہ تھا ۔نبی (ص) کو اپنے دونوں نواسوں جناب امام حسن مجتبیٰ اور امام حسین سے بے حد پیار تھا۔حضرت سعید بن رشید نے یعلی بن مرہ سے روایت کی ھے جس نے رسولؐ کو یہ کہتے ھوئے سنا کہ حسین مجھ سے ھے اور میں حسین سے ہوں خدا اسے محبت کرتا ھے جو حسین سے محبت کرے-
    یہ روایت بھی بہت مقبول ھے کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں کا نسب بیٹوں سے چلے گا اور میری نسب و حسب میری بیٹی جناب فاطمہ سے چلے گی اور قیامت کے دن بھی سالم ھوگاجبکہ دوسرے تمام رشتے اور نسب اس دن ختم ہونگے۔(گلدستہ آہل بیت آطہار)

    سانحہ کربلہ اور شہادت امام حسین ایک نظریہ حیات ھے جو رہتی تک دینا کے انسانوں کے لیے شمع جاودانی ھے ۔امام اعلی مقام کی قربانی صرف مسلمانوں تک محدود نیہں بلکہ آپکے سامنے پوری بنی نوع انسان کا فلاح تھا جس سے اپ نے اپنی جان ،خاندان اور آصحاب کی قربانی دے کر حاصل کی۔اور یہ عظیم قربانی کسی بھی مذہب،مسلک ،ذات اور جعرافیائی حدود سے بالاتر تھا اور اس سلسلے میں ملیح جوش آبادی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کو بیدار تو ھونے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین۔

    معروف اسلامی اسکالر پروفیسر خالد ظہیر کا کہنا ھے دینا میں بعض آشخاص ایسے ھیں جو اپنی کردار کی وجہ سے سارے مذاہب اور اقوام کے قیوم و حدود سے بالاتر ھو کر قابل عزت ھوتے ھیں جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام جو مسلمانوں میں بھی مقبول و محبوب ھے اور نواسہ رسولؐ اور علی و فاطمہ کے بیٹے امام حسینؑ اپنے اعلی کردار اور حق کے لیے ڈٹے رہنے کی وجہ سے مقبول اور قابل عزت ہے۔واقعہ کربلہ کی عظیم قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ھے کہ ہر ظلم کے سامنے ڈٹے رہنا چاھئے اور تشدد کا راستہ کبھی بھیاختیار نیہں کرنا چائیے پھر انے والا وقت یہ بتائے گا کہ کوں حق پر تھا اور کوں ظلم کے راستے پر۔
    امام حسین کے عظیم قربانی کو غیر مسلم بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہندوستان کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کا کہنا ھے
    میرا یہ ایمان ہے کہ اسلام کا پھلنا اور پھولنا تلوار سے نیہں بلکہ ولی خدا حسین ابن علی کی قربانی کا نتیجہ ھے۔

    معروف بنگالی نوبل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگر کہتا ہے سچ اور انصاف کو تازہ رکھنے کے لیے حسین جیسی قربانی دینا چاھیے جس کی کوئی مثال نیہں ملتی۔
    معروف مغربی مفکر سر ویلم مور لکھتا ھے سانحہ کربلہ تاریخ محمد میں خلافت کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک انسانی ذہنون کو ذندہ رکھا۔
    مشہور مغربی محقیق اور تاریخ دان پیٹر جے جیل کوسکی کا بیان ھے حسین پر کربلا میں چھب کر کئی بار حملہ کیا گیا اور آل اور آصحاب بھوک و پیاس کے ظلم اور شہادت کے بعد جسموں کو پامال کیا گیا ۔حسین نے صبر سے جام شہادت نوش کی لیکن ہر گز یذید کی بیعت نیہں کی۔
    معروف تاریخ دان اور مصنف تھامسن کرلائل کا اقرا ھے کہ کربلا نے اعدادی برتری کی اہمیت کو ختم کردیا معرکہ کربلہ کا اہم درس یہ ہے کہ حسین اور اسکے رفقاء خدا کے سچے پیروکار تھے
    اس بات میں کوئی شبہ نیہں کہ حسین میرا،حسین تیرا ،حسین سب کا حسین رب کا۔
    دور حاضر کے عظیم تحریک ازادی کے رہنما نیلسن منڈیلا اپنے سوانح عمری میں لکھتا ھے جب بیس سال جیل میں رہنے کے بعد میں نے فیصلہ کردیا کہ میں ظالم اور نسل پرست حکومت کے سامنے ان کے شرائط مان کر رہائی پاوں کیوں کہ مجھے ازادی کی کوئی امید نظر نیہں اراہا تھا تو اس دوران میرے ذہین میں واقعہ کربلہ اور شہادت امام حسین ایا اور میں نے سریںڈر نیہں کیا اور اس طرح مذید سات سال جیل کاٹنے کا بعد رہائی مل گیا۔اور اپنا عظیم مقصد حاصل کیا۔
    واقعہ کربلا کا درس بہت اہمیت کا حامل ھیں اس میں رونما ھونے والے واقعات ایسے دردناک مظالم سے بھرے ھوئے ھیں کہ ایک ننھے سے بچے کو بھی نیہں چھوڑا جاتا۔دریا فرات کے پانی کو خاندان رسالت کے لئے بند کی جاتی ھے۔سر کاٹے جاتے ھیں لاشوں کی بے حرماتی کی جاتی ھے خواتین سے دوپٹے تک چھینے جاتے ھیں دربار یزید اوردربار عبید اللہ ابن زیاد میںجشن کے سماں منایا جاتاھے اور وہ ہونٹ جس سے نبی اکرمؐ چوماکرتا تھا چھڑی سے حقارت کے طور ہلائے جاتے ھیں۔
    واقعہ کربلا حضرت زینب کی بہادری کے داستان کے علاوہ آدھوار ھے بہادر باپ اور فاضل اور زاہد مان کی اس عظیم بیٹی نے جس بہادری اور شجاعت سے دربار یزید کے دیوارون کو ہلایا اس کی نظیر تواریخ کی کتابوں میں بہت کم ملتی ھے۔سانحہ کربلہ میں جب خاندان آہل بیت کے سب کچھ لوٹ چکے تھے آپ نے ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ھوئے خواتین اور ننے امام سجاد کو سنبھالا۔پھر ابن زیاد کے دربار میں جب وہ ملعوں امام زین العابدین کو قتل کرنے کا ارادا کیا بی بی زینب نے معصوم امام کو ان کے ناپاک ارادے سے بچایا۔لیکن ان سب سے بڑھ کر جس دلیری سے دربار یزید میں اپ نے خطبہ دیا اور خاندان آہل بیت کے فضائل بیان کردی اس سے بعد میں انے والےخواتیں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے حوصلہ ملا۔
    المختصر ساںحہ کربلا حق اور باطل کا معرکہ تھا ایک طرف تیس ہزار سے زائد یزیدی افواج اور دوسری طرف 72 جانثاران حسین ،جن میں بتیس سوار اور چالیس پیدل تھے ۔ایک طرف انصاف اور حق کے متوالی تھے اور دوسری طرف ظلم اور بربریت کے علمبردار ۔اگر چہ وقتی فتح ظلم و ناانصافی کا ھوا۔لیکن خدا کی قسم تاریخ گواہ ھے کہ اصل فتح حق اور حسین اور ان کے رفقاء کا ھوا۔اس فتح کو معین الدین چشتی ؒ ان الفاظ میں بیان کرتا ھے۔

    شاہ است حسین بادشاہ است حسین
    دین است حسین دین پناہ است حسین
    سرداد نہ داد دست یزید را
    حقاٰ کہ بنا لا الاہ است حسین

  • error: Content is protected !!