Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دوراہ پاس اور سرحد پار تجارت کے مواقع………. محمد آمین

    August 31, 2019 at 8:33 pm

    درہ دوراہ کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نیہں کرسکتا ۔کیونکہ اس نے نہ صرف چترال بلکہ پاکستان کے اسٹریٹیجک اور اقتصادی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ھے۔دوراہ پاس ضلع چترال کے علاقے گرم چشمہ کے انتہائی شمال میں واقع ھے۔گرم چشمہ کے تاریخ بھی چترال کے تاریخ کی طرح چار ہزار سال پرانی ھے۔گرم چشمہ کے پرانے نام انجیگان (باغات) اور خذر (گودام) ھیں۔ دوراہ پاس افغانستان،واسطی ایشیاء اور ایران کے حملہ آوروں کے اثرات محسوس کیا ھے جب وہ اس راستے سے ہندوستان میں داخل ھوئے۔مقامی کھدائی اور اور ثقافتی روایات سے یہ عیان ھوتاھے کہ اسلام سے قبل زرتشت،ہندو،بدمت اور کالاش یہاں کے مروجہ مذاہب تھے۔یہاں کے لوگوں کے ثقافتی جڑین افغانستان،سنٹرل ایشاء اور ایران تک جا ملتے ھیں۔گرم چشمہ کے اہم خصوصیات میں دوراہ پاس، شوئی پاس،گرم پانی،ٹراوٹ مچھلی، پٹی،تازہ اور خشک میواجات،ٹریکنگ،جنگلی جانور،میوشی،اعلیٰ پیداوار کے آلو،جڑی بوٹیان اور چترال نیشنل پارک سے براہ راست قرابت شامل ھیں۔
    دوراہ فارسی زبان کا لفظ ھے جس کا مفہوم ھے دو راہ۔ جہاں بائیں طرف سے راستہ منجان اور پنجشیر کی طرف جاتی ہے اور دائین جانب سے راستہ زیباک سےھوکر اشکاشم اور دریا آمو کی طرف جاتی ھے۔دوراہ پاس کی سطح سمندر سے بلندی 14000 فٹ (4300 میٹر ھے)۔یہ راستہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے اور پامیر سطح مرتفح سے ہو کر گزرتاھے۔اور یہ 1892 ء میں تکمیل شدہ باونڈری لائن کا اہم حصہ ھے۔چترال ہیڈ کوارٹر سے درہ کا فاصلہ 74 کلو میٹر ھے اور وہان سے دریا آمو کا فاصلہ 104 کلومیٹر ھے اور اس طرح چترال سے دریا آمو کا ٹوٹل فاصلہ 178 کلو میٹر ھے جو سنٹرل ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے سب سےمختصر تریں راستہ ھوتا ھے۔
    دراہ دوراہ ھندوستان،افغانستان،ترکمانستان،سمرقند،بخارا اور بلخ کے درمیان زمانہ قدیم سے سرحد پار تجارت کے لیے ایک اہم شاہراہ رہا ھے۔اس راستے سے تاجر اپنے مال تجارت لیکر پشاور تک قافلے کی شکل میں جاتے تھے۔جس میں قالین،بڑے سائز کے برتن،سلاجیت،جنگلی بوٹیان اور آفغان چاپان وغیرہ شامل تھے۔بلکل اس طرح ھندوستان سے تاجر چائے،مصالہ جات اور کپڑے وغیرہ لیکر افغانستان اور واسطی ایشیاء کے مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرتے تھے۔
    دور حاضر میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اسے راستے سے ھوتے تھے لیکن 2007 ء میں اس اہم دراہ کے بندش سے دو طرفہ تجارت پر منفی اثرات مرتب ھوئے ہیں۔دراہ دوراہ کی اہمیت کا انداذا اس علاقے میں اس کی جیو اسٹریٹجیک اہمیت کی بنیاد پر لگایا جاسکتا ھے۔بعض روایات کے مطابق افغانی ،واسطی ایشیائی اور ایرانی حملہ آور اس راستے کو استعمال کر کے چترال اور ھندوستان کے دوسرے علاقون تک رسائی حاصل کرسکتے تھے۔اور اس طرح یہاں سے بھی حملہ آور اسی راستے سے آفغان علاقوں تک حملہ کرتے تھے۔
    1979 ء میں آفغانستان میں روسی فوجوں کے حملے اور قبضے سے دوراہ کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔لاکھوں کی تعداد میں افغان پناہ گزین اسی راستے سے اپنے مال میوشیوں کے ہمراہ پاکستان مٰیں داخل ھو گئے اور اس طرح یہ دراہ افغان لاجورد ،زمرد اور دوسرے قیمتی پھتروں کی پاکستانی اور باہر کی منڈیون تک رسائی کے لیے اپم ثابت ھوگے۔
    حال ھی میں اس دراہ کے حوالے سے دو اہم پیش رفت ھو چکے ھیں جس سے چترال کے لوگوں کے اقتصادی حالات میں بہت بہتری ائے گی۔ اول یہ کہ چترال سے شاہ سلیم تک کوالٹی روڈ کی منظوری اور ٹیندرینگ جبکہ دوسرا دوراہ پاس کو تجارتی راہداری کے لیے کھولنا۔ان دونوں اعلانات سے ضلع چترال کی اقتصادی ترقی میں ایک نئے دور کا آغاز ھو گا۔ دوراہ کے تجارتی راھداری کے حوالے سے کھولنے سے ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔
    دوراہ پاس بہ نسبت واخان کے، آفغانستان (جس کی اپنی کوئی بندرگاہ نیہں ھے ) اور سنٹرل ایشیا ئی ممالک تک رسائی کے لیے مختصر تریں راستہ فراہم کرسکتا ھے اس کے نسبت چترال ٹاون سے واخان پٹی کا دریا آمو تک فاصلہ 500 کلومیٹر سے زیادہ بنتا ھے۔
    آپ ہم دارہ دوراہ سے لیکر دریا آمو (جو کہ آفغا نستان اور تا جکستان کو جدا کرتی ھے) تک کے فاصلے کا مختصرا تذکرہ کریں گے تاکہ مذکورہ دراہ کی اہمیت کو سمجھنے میں اسانی ھوجائے۔یہ بات ذہین نشین ھونا چاھئے کہ چترال سے اشکاشم تک راستہ انتہائی خراب اور کچا ھے۔شاہ سلیم سے جھیل لیڈی ڈیفرین (حوض دوراہ) تک فاصلہ تقریبا تین گھنٹے کا ھے۔جیھل سے توپ خانے تک کا فاصلہ ایک گھنٹے کا اور پھر وہان سے گاوں سنگلچ تک فاصلہ ایک گھنٹے کا ھے۔سنگلچ سے اسکوتول تک مزید ایک گھنٹے اور وہان سے گاوں پوروغ کا فاصلہ 1دھا گھنٹے میں طے ھوتا ھے،اسکوتول سے ایک گھنٹۓ میں کیدا اور وہان سے زیباک تک ایک گھنٹۓ کا فاصلہ اور زیباک سے اشکا شم کا فاصلہ دو گھنٹے ھیں۔اور اس طرح حوض دوراہ سے تاجکستا ن کا فاصلہ جیب کے زریعے زیادہ سے زیادہ 8 گھنٹے میں طے ھوجاتی ھے۔اگر چترال سے پشاور اور چترال سے دریا آمو تک فاصلے کا موازنہ کریں گے تو چترال سے پشاور کا فاصلہ 350 کلو میٹر سے زیادہ بنتے ھیں جبکہ چترال سے دریا آمو تک 178 کلو میٹر بنتے ھیں۔اگر اخر الذکر راستہ پکا اور اعلی کوالٹی کا بن جائے تو چترال سے دریا آمو تک کا فاصلہ صرف 8 گھنٹے میں طے ھو سکتی ھے۔
    دوراہ پاس آمریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو کراچی اور گوادر کے بندرگاھون تک رسائی کے لیے اسان اور ارام دہ راستہ فراہم کرسکتاہے کیونکہ وہ ایران میں ہرموز اور روس میں واقع ولوڈوسٹوک کے بندرگاھوں کے استعمال کی کبھی حمایت نیہں کریں گے کیونکہ ان ممالک کے ساتھ امریکہ کےشدید سیاسی اور دوسرے اختلافات ھیں۔ایسے حالات میں دوراہ سی پیک کو افغانستان اور واسطی اشیاء کے ممالک سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ھے۔مذید بران شاہ سلیم گلگت بلتستان کے سوست کی طرح ڈرائی پورٹ بن جائے گا جس سے چترال کے لوگوں کی قسمت میں بڑے پیمانے پر مثبت اقتصادی اثرات مرتب ھوں گے۔واسطی ایشائی ممالک تک رسائی سے پاکستان کے انرجی ایشوز کے ادراک میں بھی مدد ملیں گے۔
    صوبے بدخشان اور چترال کے لوگوں کے مابین موجود سماجی و ثقافتی رشتے دورا ہ کے راستے تجارت کی حفاظت کی ضامن بن سکتی ھے۔مذید علاقے میں ایکو سیاحت کو فروغ دی جائے گی جس میں ٹورزم ڈسٹی نیشینز کا قیام،ثقافتی تبادلے اور جشن گبور وغیرہ شامل ھیں۔سرحد پار کاروبار سے ضلعی حکومت کے امدنی میں بھی بہت اضافہ ھوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 1969 سے لیکر 2007 تک دوراہ کے راستے سے ایک تخمینہ کے مطابق 23 ارب اور 50 کروڑ مالیت کے لاجورد پتھر پاکستان ،ہانک کانگ اور دوسرے ملکوں کے مرکیٹوں میں پہنچ گئے اور اس طرح انہی سالوں 28 لاکھ سے زیادہ مال میوشی بھی چترال اور ملک کے دوسرے منڈیون تک فروخت ہوگئے۔اگر اس کراس بارڈرٹریڈ کو صحیح معنوں میں ہنڈل کیا جائے تو اسے چترال اور صوبے کے ریوینو میں خاطر خواہ اضافہ ھوگا۔
    دوراہ پاس سے سرحد پار تجارت کو دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں تمام چترالی اسٹیک ہولڈرز کام کر رہے ہیں لیکن اس لحاظ سے چترال چمبر آف کامرس اینڈ انڈ انڈسٹری (سی سی سی آئی) کی کوشیشں قابل ذکر ھیں اور یہ ہر سطح پرحکومت کے ساتھ رابطہ کاری اور ایڈوکیسی میں مصروف عمل ھے تاکہ دوراہ پاس جلدی سے کھل جائے جسے چترال کی اقتصادی حالات میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔حال ہی میں چترال چمبر آف کامرس اینڈ انڈ سٹری نے چترال کے اقتصادی رقی حوالے سے چترال یونیورسٹی میں ایک نیشنل کانفرنس منعقد کیا تھا جس میں چترال اور چترال سے باہر شعبہ ذندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگوں نے شرکت کیے ۔اس کانفرنس میں دوراہ پاس کے حوالے سے مقالہ پیش کیا گیا جس سے تمام شراکاہ نے سراہے۔

  • error: Content is protected !!