Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مادر علمی……………… از: جی-کے صریر

    August 31, 2019 at 8:13 pm

    قسط-2

    گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کی لائبریری کے علاؤہ ہم نے سائنس کی مختلف لیبارٹریز کا بھی طائرانہ جائزہ لیا جن کے بارے تنزیل الرحمن صاحب اور سمیع اللہ صاحب نے معلومات فراہم کی۔ ہم نے محسوس کیا کہ تمام سائنس لیبارٹریز اور خصوصاََ کیمسٹری کی لیبارٹری پہلے سے کہیں بہتر ہوگئی ہیں۔ سونے پہ سہاگا کہ اب وسائل کے درست انتظام و انصرام کی خاطر Combined Resources Laboratory کے نام سے ایک الگ مگر مشترک اور کثیر الاستعمال لیبارٹری بھی بنائی گئی ہے۔ لیبارٹری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کالج اساتذہ نے انکشاف کیا کہ کس طرح نئی تعمیرات اور لاکھوں مالیت کے قیمتی آلات خریدنے پر کالج کا محدود بجٹ اور ذرائع استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم یہ بات نہایت اطمینان بخش ہے کہ لیبارٹری میں ایسے آلات بھی موجود ہیں جن پر کالج کے اپنے طالب علموں کے علاؤہ ایم فل حتیٰ کہ بعض پہلوؤں پر پی ایچ ڈی سکالرز بھی تحقیقی تجربات احسن طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔

    لائبریری اور لیبارٹری بنیادی طور پر کالج میں زیر تعلیم طالب علموں کی علمی پیاس بجھانے اور فیکلٹی کی تحقیق و جستجو کو بڑھاوا دینے کے لیے مخصوص ہیں۔ کتابوں کے آن لائن ذخیرے یا فہرست تک رسائی کہیں سے بھی ہوسکتی ہے۔ یہ کتابیں اور دیگر علمی مواد نہ صرف مفت ڈاؤن لوڈ کیے جاسکتے ہیں بلکہ محدود پیمانے پر ان کی ہارڈ کاپیاں بھی لائبریری میں موجود فوٹو اسٹیٹ مشین سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کالج سے باہر کا کوئی ریسرچ سکالر اگر چاہے تو خصوصی اجازت لےکر کالج لائبریری اور لیبارٹری میں بلا معاوضہ تحقیقی کام سرانجام دے سکتا ہے۔

    لائبریری اور لیبارٹری کسی بھی درسگاہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں سے زرخیز اذہان نہ صرف علم و تحقیق کے زیور سے آراستہ ہوکر نکلتے ہیں بلکہ عملی تجربات سے معاشی و معاشرتی ترقی میں بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔ لہٰذا سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن اور صنعتوں کے اس دور میں درسگاہوں کا جدید تقاضوں سے لیس اور سہولیات سے آراستہ ہونا یقیناً نہایت ضروری ہے۔

    یاد رہے کہ کمزور سرکاری تعلیمی بجٹ کو سامنے رکھ کر بہت ساری چیزوں میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ ادارے کے انفراسٹرکچر میں بہتری اور لاکھوں مالیت کے انتہائی مہنگے سازو سامان کی خریداری مستقبل کے منصوبوں کا حصہ ہیں جو قیمتی سرمایے کی دستیابی کے بغیر ممکن نہیں۔ پھر بھی مذکورہ کالج کی 1980 کے عشرے میں تعمیر شدہ نسبتاً محدود سائنسی عمارت میں موجود آلات و ذرائع، جدید لائبریری اور دیگر کارکردگی کالج انتظامیہ، حاضر سروس پرنسپل ممتاز حسین جیسی وسعت نظر رکھنے والی شخصیت، باصلاحیت و مستعد اساتذہ اور متعلقہ عملے کی محنت، وژن اور لگن کا بین ثبوت اور قابلِ صد آفرین ہیں۔

    البتہ یہ جان کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ کالج کے اپنے فنڈ یا سرکاری امداد کے علاؤہ کسی بھی جانب سے ڈگری کالج چترال جیسے قدیم اور علاقے میں اعلیٰ تعلیمی ادارے کے ساتھ مالی یا دیگر صورتوں میں تعاون نہیں رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کے محفوظ، خوشحال اور باشعور مستقبل کی خاطر این-جی-اوز، ضلعی حکومت اور انتظامیہ کو آگے آکر اپنے ترقیاتی اور دیگر مد میں مخصوص وسائل کا کچھ نہ کچھ حصہ ان اداروں میں سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرنا چاہئیے۔ یقیناً علم و حکمت کی انہی پناہ گاہوں سے فارغ التحصیل افراد ہی دیگر سارے شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں جنہیں بھولے سے بھی اپنی مادر علمی کی طرف واپس مڑ کر اس قرض کا کچھ حصہ چکانا چاہئیے جو ہم سب پر فرض ہے۔

  • error: Content is protected !!