Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال کی سڑکیں اور حکومت کی بے حسی ………عمادالدین

    August 30, 2019 at 7:19 pm

    کسی بھی علاقے کے لیے ذرائع آمدورفت میں سہولیات کی موجودگی وہاں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔جس کے لیے سڑکوں کا مناسب جال بچھایا جاتا ہے، ساتھ ہی ان کی بر وقت مرمت بہت ضروری ہوتی ہے۔ چترال کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔خصوصا” چیو پل سے ائیرپورٹ اور سنگور جانے والی سڑک گاڑی میں بیٹھے ہوئے انسان کو بھی تھکاوٹ سے چُور کر دیتی ہے۔ ایک تو ہماری سڑکیں تنگ ہیں اور دوسری طرف کوئی بھی ڈرائیوراپنی گاڑی سڑک کے کچے حصے میں اتارنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا، ایسے میں اگر تیز رفتاری بھی دکھائی جا رہی ہو تو کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آنے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ جغور سے دنین جاتے ہوئے شاڈوک میں بھی سڑک انتہائی شکستہ ہے وہاں تار کول کے باقیات کی جھلک واضح نظر آتی ہے جا بجا اتنے بڑے بڑے گڑھے بنے ہوئے ہیں کہ بڑی گاڑیوں خصوصا تعلیمی اداروں کی بسوں کو بہت مشکل پیش آرہی ہے۔ کچی سڑک کی وجہ سے خشک موسم میں اتنا گرد و غبار اٹھتا ہے کہ سانس لینا دشوار بن جاتا ہے بارش کے دنوں ان گڑھوں میں پانی جمع ہو کر کسی تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔ شاڈوک میں تو یہ مسلہ کئی سالوں سے جوں کا توں موجود ہے لوگ پہاڑوں سے پتھر گراتےاور سڑک کا ستیا ناس کرتے رہتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ان کا روزگار اسی سے وابستہ ہے ۔پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ ٹی ایم او چوک جغور میں بھی سڑک مرمت کی حدوں سے ذائدالمیعاد ہو چکی ہے۔ صرف جولائی کے مہینے میں جب شندور فیسٹیول قریب اتا ہے تو ان گڑھوں میں مٹی بھر کر پیوند کاری کی جاتی ہے تا کہ چترال آنے والے وی آئی پیز کی آنکھوں میں آسانی سے دھول جھونکا جا سکے۔ گویا انتہائی چالاکی سے سڑکوں کا میک اپ کیا جاتا ہے لیکن بارش کے پہلے قطرون کے ساتھ ہی یہ میک اپ اتر جاتا ہے اور سڑکیں پھر وہی کھنڈر کا منظر پیش کرتی ہیں ۔ بکر آباد اور چمرکن میں خراب سڑکوں کے ساتھ ایک اور بڑا مسلہ سڑک کے کنارے اگے ہوئے بڑے درخت ہیں جن کی شاخیں تعلیمی اداروں کی بسوں کے لیے پریشان کن صورتِحال پیدا کر رہی ہیں وقت پر شاخ تراشی نہ ہونے کی وجہ سے دونوں طرف کی شاخیں بسوں کے شیشوں سے ٹکراتی اور انہیں نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔ اس سلسلہ میں ذمہ دار افراد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ایون سے بمبوریت جانے والی سڑک کا کوئی پرساِنِ حال نہیں، چترال میں سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار کالاش کمیونٹی کا بھی ہے ۔ان کی ثقافت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر کے سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں۔لیکن ان وادیوں کی سڑکیں تنگ ۔دشوار گزار ہونے کے باوجود انتہائی شکستہ ہیں جن پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔۔ چترال سے بونی روڈ بھی کسی کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے۔ سی اے ڈی پی نے جب یہ روڈ مکمل کیا تب سے اب تک کئی سال گزر گیے مگر کسی بھی حکومت کو اس کی مرمت کی توفیق نصیب نہی ھوئی۔ اس سال مئی کے مہینے میں اس کی مرمت کا ٹنڈر ہو گیا تھا مگر کام ابھی تک شروع نہ ہو سکا نہ جانے وہ پیسے موجود ہیں بھی یا ،،،، زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا۔۔۔۔ تور کھو روڈ بھی گزشتہ نو سال سے عدم توجہی کا شکار ہے۔اب تک کروڑوں روپے اس پہ خرچ ہو چکے ہیں لیکن سڑک مسجدِ مہابت خان کی یاد دلاتی ہے اور مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ تنگ اور کچی سڑک پہ کیبل کی تاروں کےلیے کھدائی کر کے مزید خطرناک صرتحال پیدا کی گئی ہے کھدائی کے بعد بھرائی صحیح نہیںکی گئی جس سے گاڑیاں اس میں پھنس جاتی ہیں بارش میں کیچڑ اس سفر کو مزید دشوار بناتی ہے۔ ان مسائل کو حل کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور عوام اور مسافروں کا نقصان کن کے کھاتے میں ڈالا جائے؟ ہمارے نمائندوں کو سانپ سونگھ گیا ہے وہ اپنی لولی لنگڑی مقبولیت کے پیچھے بھاگ کر قوم کو الو بنا رہے ہیں اور بیچاری عوام صبر کا بادبان تان کر ان کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ ۔

  • error: Content is protected !!