Chitral Times

Sep 17, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے چترال میں‌ریلی اوراحتجاجی جلسہ

    August 30, 2019 at 5:59 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) کشمیر کےمظلوم مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے چترال کےعوام اور انتظامیہ کے زیر اہتمام ریلی اور احتجاجی جلسے منعقد ہوئے . جس میں سرکاری آفیسران, سیاسی قائدین , سول سوسائٹی کے نمائندگان , تجار برادری, ڈرائیور یونین , صحافی , اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی . اس سلسلے میں ایک بڑی ریلی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال ذاکر حسین جدون کی زیر قیادت چیو پل سے شروع ہوا . جو چترال مین بازار سے ہوتا ہوا اتالیق چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوا . جس میں چترال کے تمام اداروں کے آفیسران اور ملازمین شامل تھے . ریلی میں مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے . جس میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی , اور انڈیا کے خلاف نعرے درج تھے . اس موقع پر کشمیر کی آزادی اور مظلوم کشمیریوں کی کامیابی کئلیے دعائیں کی گئیں . اور قربانی دینے کا اعادہ کیا گیا. بعد آزان نماز جمعہ کے بعد پی آئی اے چوک چترال میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ زیر صدارت خطیب شاہی جامع مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کی زیر صدارت منعقد ہوا . جس سے خطاب کرتے ہوئے محمد حکیم ایڈوکیٹ , عبدالطیف , مولانا سلامت اللہ , مولانا اسرار الدین الہلال , ساجد اللہ ایڈوکیٹ اور مولانا خلیق الزمان و دیگر نے کہا . کہ اب کشمیر کی آزادی کے حوالےسے انڈیا کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں . کیونکہ مذاکرات کیلئے بھی اخلاقیات کی ضرورت ہے . جس سے انڈیاعاری ہے . حکومت کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں زوردار طریقے پر پیش کیا جائے . اگر فیصلہ ممکن نہ ہوا . تو جہاد کا راستہ اختیار کیا جائے . انہوں نے کہا . کہ تمام جہادی تنظیمات کو کشمیریوں کو انڈیا کے ظلم و بر بریت سےنجات دلانے کیلئے جہاد کیلئے بھلانا چاہیے . اور یہی اس کا واحد حل ہے . انہوں انسانی حقو ق کی عالمی تنظیمات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا . کہ اغیار کبھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار نہیں دیتے . آج پچیس دنوں سے کشمیری مسلمان گھروں میں محصور ہیں . کئی ہلاک ہو گئے ہیں . کھانے پینے کی اشیا اور جان بچانے والی ادویات تک لوگوں کو دستیاب نہیں . لیکن عالمی ضمیر خاموش ہے . الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر کشمیر کے اندر بربریت سے دنیا کو لاعلم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے .جس کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں سے ملنے اور بات کرنے کو ترس رہے ہیں. لیکن انڈیا اور اقوام متحدہ کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی . مقررین نے کہا . کہ چترال کے مسلمان اپنے کشمیری بھائ بہنوں کیلئے تن من دھن کی قربانی کیلئے ہر وقت تیار ہیں . جب حکومت کی طرف سے مطالبہ کیا گیا. ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ جنگ اور کشمیر کی آزادی کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے . اس موقع پر مطالبہ کیا گیا . کہ حکومت پاکستان انڈیا کےساتھ اپنے سفارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرے , ان کا سفارتخانہ بند کردیا جائے . اور پاکستانی سفارتی اہلکاروں کو بھی ہندوستان سے واپس بلایا جائے . انڈیا کے تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے . خصوصا انڈیا کی فلموں پر پابندی لگائی جائے . جلسے کے دوران مظاہرین نے ہندوستان کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور آخر میں مودی کا پتلا جلایا گیا .
    یادرہے کہ اسی طرح‌کے مظاہرے ضلع بھر میں منعقد ہوئے ، جس میں تعلیمی ادارے پیش پیش رہے اورکشمیری مسلمانوں‌کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکئے،جبکہ حکومتی فیصلے کے مطابق 12بجے ساڑھے بارہ بجے تک خاموش اختیارکی گئی.



  • error: Content is protected !!