Chitral Times

Nov 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چلتے چلتے …….. المیہ………….محبت علی قیصرگلگت

    August 28, 2019 at 9:52 pm

    کچھ عرصہ پہلے گلگت اور گرد و نواح میں اتنا روجحان نہیں تھا کہ گلگت اور مضافات کی کسی لڑکی کی شادی گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر بیاہی جائے۔ قریبی علاقوں میں رشتہ ہوتا تھا۔ اور وہ لڑکی شوہر کے گھر رہتے ہوئے بھی اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر رشتہ داروں کی غم خوشی میں شریک ہوتی۔ زیادہ تر رشتے یہاں اپنوں میں ہی طے کئے جاتے اور جوڑی دیکھ کر رشتہ ہوتا۔ اور کئی دنوں سے شادی کی تیاریاں کی جاتی۔
    کچھ عرصہ پہلے یہاں کی ایک لڑکی کی شادی لوگوں کے سمجھانے کے باوجود کسی پنجابی سے کی گئی کیوں کہ وہ کافی عرصے سے گلگت میں سلائی مشینوں کا کاروبار کرتا تھا۔ اس نے لڑکی سے شادی کیا اور اسے لے کر پنجاب چلا گیا۔ اس کے بعد اس لڑکی کا پتہ نہیں چلا کافی عرصے کے بعد اس لڑکی کو لاہور کے کسی قبحہ خانے سے برامد کیا گیا۔
    کہنے کا مقصد یہ کہ اس جیسے واقعات سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے آج کل گلگت اور مضافات میں ایک وبا پھیلی ہوئی ہے۔ کہ گلگت سے دھڑا دھڑ لڑکیوں کی شادی پاکستان کے دوسرے شہروں میں کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے پنجابیوں نے سرکاری عہدوں پر اور پٹھانوں نے ہر قسم کے کاروبار پر تو قبضہ کیا ہوا تھا۔اور پٹھان لوگ یہاں کباڑ لے جانے کے لئے محلے محلے کاچکر لگاتے تھے۔ اب تقریباً کباڑ رہ گیا ہے اور محلے محلے میں جوان مشٹنڈے پھرتے رہتے ہیں پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ کسی لڑکی کا رشتہ کرنے آئے ہیں۔ یہ پٹھان اور پنجابی لوگ بے دھڑک ہر ایک کے گھروں میں جھانکا تانکی کرتے ہیں اور خواتین کی حرمت کو پائمال کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ جہاں بھی کسی بھی لڑکی پر ہاتھ رکھتے ہیں والدین بے چون و چرا ایک دم سے ہاں ک ر دیتے ہیں۔ اب وہ کہاں کا ہے کیسا ہے اور کیا کرتا ہے کسی سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔اس طرح شام کو نکاح ہوا اور صبح اپنی عمر بھر کی کمائی جس کو پال پوس کر بڑھا کیا اسے تربیت دی اخلاق سکھایا اور اپنی روایات اور اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی تربیت دی اور اب والدین اس کے حق کو اس کے ہاتھ میں دینے کی بجائے اپنی اسی محنت کی کمائی کو ایک دم سے کسی انجان آدمی کے ہاتھ میں دیتے ہیں۔ اس طرح تو گھر کا کچرا بھی اتنی جلدی باہر لے جا کر پھینکا نہیں جاتا ہے وہ بھی تو انسان ہے اس کے بھی تو کچھ حقوق ہیں۔ کیا وہ گھر میں رکھا ہوا کوئی بیکار ٹین یا ڈبہ ہے جو ایسے ان کے ہاتھ پر رکھ دیا جاتا ہے اس سے پہلے تو پھٹی ہوئی جوتی یا سلیپر بھی ان کباڑ والوں کے ہاتھ میں نہیں دیا جاتا تھا۔ بلکہ اس سے دو روپے زیادہ لینے کی کوشش میں کافی وقت لگا دیا جاتا۔
    ان میں کئی تویسے بھی سامنے آئے ہیں کی جن کی پہلے سے بیویاں موجود ہیں اور وہ اس کو لے جاکر پہلی بیوی کا نوکر بنا کر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کئی لڑکیوں نے تو خود کشیاں کی اور کئی بھاگ کر واپس آنے مین ک امیاب ہو گئی ہین۔ ایک عزیز کی بیٹی سنا ہے کہ پنجاب مین بیاہی گئی ہے اور گزشتہ بارہ سالوں سے بیٹی سے اس کے والدین کو ملنے نہیں دیا جاتا ہے اور نہ ہی فون پر بات کرنے دی جاتی ہے کئی دفعہ اس لڑکی نے بھاگ جانے ک کوشش کی اور خود کشی کی بھی کوشش کی ہے مگر ناکام ہوئی ہے۔ کہتے ہین کہ صبح جب میاں ڈیوٹی پر جاتا ہے تو ماں اور بچوں کو اندر بند کرکے کمرے کا باہر سے تاکلا لگا کر جاتا ہے۔ کہ مبادا کہین بھاگ نہ جائے۔
    اے ک سروئے کے مطابق گلگتر اور گردو نواح کی بچیاں جو یہاں سے ملک کے دیگر علاقوں میں بیاہی گئی ہین ان ک ی تعداد کچھ اسطرح بنتی ہے۔
    مانسہرہ 45 لڑکیاں پشاور37 1 راولپنڈہ 52 پارا چنار 167 ہنگو65 کلایہ تیرہ 137 چکوال 17 گجرانوالہ فیصل آباد اور دیگر علاقوں کی درجنوں لڑکیاں، لاہور اور کراچی یا کشمیر والوں کا حساب نہیں۔ اور تو اور گلگت دیامر اور ہنزہ کی درجنوں لڑکیاں افغانستان بھی بیاہی گئی ہیں۔ ان سب مین سے صرف 5 فیصد سکھی ہیں باقی ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی پریشانی لاحق ہے۔ کیا کوئی اپنی اولاد کو خود سے اتنی دور کرکے سکون سے بیٹھ سکتا ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے شرعی ھقوق بھی ادا کئے بغرے رات کو نکاح کیا اور صبح ایک جوڑہ کپڑے میں ان ک و رخصت کیا جاتا ہے۔ آخر ہمارے علاقے کے ان گیرت مند انسانوں کو کیا ہوا ہے کہ اپنی اولاد کو غیروں کے ھوالے کیا جاتا ہے۔ اس بارے مین تبصرہ ہوا تو کسی اس جیاسے دھندے میں ملوث شخص نے ک ہا کہ بھئی ہم تو ثواب کما رہے ہیں اگراسطرح پٹھانون اور پنجابیوں کے ساتھ رشت نہیں کرائیں گے تو یہاں حالت ییہ ہپے کہ لڑکیاں یاتو کسی کے ساتھ بھی بھاگ جاتی ہیں یا خود کشی کرتی ہین اس لئے یہ ایک بہترین عمل ہے جو بھی آجائے بغیر تحقیق کے ان کے حوالے کیا جائے۔
    معلوم ہوا کہ یہاں ایک پرا مافیا اس دھندے مین ملوث ہ ے اگر لڑکی پڑھی لکھی ہو خوبصورت و تو اس کا رشتہ کرانے مین باقاعدہ بولی لگتی ہے اور وہ رشتہ کرانے کے بہانے ان سے لاکھوں بٹور لیتے ہیں۔اور وہ اپنا کمیشن کھرا کرنے کے بعد والدین کو شیشے مین اتارتے ہیں اور ان کی باتوں م یں آکر والدین اپنی اولاد کے کسی انجان کے ہاتھون روانہ کرتے ہین۔ راقم نے کسی پٹھان سے پوچھا جو کہ اپنے بھائی کے ل ئے رشتہ ڈھونڈ رہا تھا۔ کہ تم لوگ درجنوں کے حساب سے ہر ماہ بچیوں کو لے جاتے ہو کیا تمہارے ہاں لڑکیاں نہیں۔ یہ تو ممکن نہیں ک ہ لڑکیاں نہ ہون اور اگر ہیں تو ان کا رشتہ کس کے ساتھ کراتے ہو۔ بہتر یہ نہیں کہ وہاں کی ک سی لڑکی کا رشتہ یہاں کے کسی لڑخے سے بھی کرا دو تاکہ بیلنس برابر ہو ج ائے تو اس نے جواب دیا کہ بھئی یہاں سے
    بچیاں مفت میں ملتی ہیں تو وہاں ج اکر کون دس سے بیس لاکھ کا خرچہ کرتا ہے۔ہاں اگر تم نے وہاں سے شادی کرنا ہ ے تو لڑکیاں مل ہی جائیں گی پانچ دس لاکھ تیار کو تو لڑخی م ل جاتی ہے یہاں تو زیادہ سے زیادہ کرچہ پچاس ہزار یا ایکلاکھ ہوگا۔ اس لحاظ سے یہاں کا ماحول بہتر ہے اور آسانی سے رشتہ بھی ملجاتا ہے۔
    یعنی پہلے جتنی آسانی سے کباڑ ان لوگوں کو نہیں مل پاتا تھا اتنی جلدی مین اب لڑکیاں ملتی ہیں۔ سنا ہے کہ ایک گھر میں تین تین لڑکاں بھی بیاہی گئی ہیں۔ اب اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے گلگت کے باسیو زرا سوچو کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیا کرنے جا رہے ہیں ہم ک س مقام پر کھڑے ہیں۔ اس گھناونے کھیل میں ہمارے بڑے بڑے اور با اثر لوگوں کے علاوہ مذہبی لوگ بھی شامل ہیں۔ اور لوگوں کو لالچ دیکر خود پیسے بٹورتے ہیں دوسروں کی بیٹیوں کو جہنم مین دکھیل کر خود عیاشی کر رہے ہین۔ اس جیسے ایک اور شخص سے سوال کیا کہ بھئی تم روز ان لوگوں کو لے کر در در پھرتے ہو تمہارے گھر مین ہی اللہ کے فضل سے دو بچیاں ماشااللہ جوان موجود ہین ان کا ہی رشتہ کیوں نہیں کرتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ بھئی میں اپنی بیٹیوں کا رشتہ کیوں کروں وہ لائق ہیں لکھی پڑھی ہین اور محنتی ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ لوگوں کی بچیوں کو جہنم میں جھون ک ر کود کے لئے دولت اکھٹٰ کر ہے ہیں۔ یہ کہاں کی انسانیت ہوئی الفاظ اور بھی ہین مگر دل اجازت نہیں دیتا ہے۔ کہ مذید لکھا جائے بس اتنا ہی کہ ارے گلگت والو ہوش میں آؤ کہیں یہاں بھی فلستین والا کھیل تو نہیں کھیلا جا رہا ہے۔ پہلے کباڑ لیا پھر ملازمتوں پر قابض ہوئے پھر زمینوں کے پیچھے لگے اور اب گھروذں سے خواتین تک اٹھانے لگے کسی بھی بہانے۔،تو ہم کہیں فلستین بننے تو نہیں جا رہے ہین۔ اور اب ہم کہاں کھڑے ہین۔ خدا را ہوش کے ناکن لینے کی جرورت ہے۔

  • error: Content is protected !!