Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کشمیری عوام گھبرانا نہیں………میر سیما آمان

Posted on
شیئر کریں:

یقین کریں “”کشمیر ”’ ایسا موضوع ہے جس پر میں کبھی بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اتنے سالوں سے جو قوم اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہو اُس پر محض ” بات ” کرنا انسانیت کی توہین ہے،اللہ گواہ ہے کہ جب ہر سال ۵ فروری کو یوم کشمیر منایا جاتا ہے۔اور پورا پاکستان ” کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعرے سے گونج اُ ٹتھا ہے تو مجھے اس نعرے سے سخت بغاوت محسوس ہوتی ہے۔مجھے اس دن پورا پاکستان بالکل ہندوستان ہی کی طرح خود غرضی کے خون میں نہائی ہوئی قوم لگتی ہے۔۔۔

مجھے کشمیری قوم کی اس معصومیت پر حیرت ہوتی رہی ہے جوآج تک اس جملے سے اپنا دل بہلاتے رہے ہیں،اکثر تو جی چاہتا ہے کہ باہر نکلوں اور ایک ایک سے پوچھوں کہ کشمیر پاکستان کیوں بنے گا؟؟؟ کیا کشمیر محض کشمیر کے نام پر جینے کا حق نہیں رکھتا؟؟کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہی اسی لیے نہیں کیونکہ بھارت کی یہ ضد ہے کہ کشمیر بنے گا ہندوستان اور پاکستان یہ کہتا رہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔۔ بجائے اسے ایک ازاد ریاست کے طور پر قبول کیا جاتا۔۔ہم اپنے ہی راگ الاپتے رہے۔۔ہندوستان نے اپنی ضد لالچ اور حرص کے تحت اتنے سالوں سے کشمیر کو ذندان بنائے رکھا۔اور کشمیر کی معصوم عوام محض مسلمان ہونے کی بنا ء پر پاکستان پر اعتبار کرتے رہے۔۔ اور ”’ پاکستان ” ایک ایسی عوام کا ملک جو ۷۳ سالوں سے اپنے لیے ایک اچھا لیڈر منتخب نہیں کر سکی،،جو ۷۳ سالوں سے انتخابات کے نام پر تجربات کرتے رہے،، ایک ایسے حکمرانوں کا ملک جو ۷۳ سالوں سے اپنے ہی ملک کی جڑیں کاٹتے رہے۔۔ایسے حکمران جو ” اپنی عوام ” کے ساتھ کبھی ” مخلص ” نہ رہ سکے۔۔ایسا ملک جو ۷۳ سالوں سے روٹی کپڑا اور مکان کے مسائل سے ہی آذاد نہ ہوسکا۔۔۔ وہ کسی دوسری ریاست کو کیا اذادی دلائے گا؟؟؟؟؟؟ سوچنے کی بات ہے۔۔

بحر حال پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی تو حیرت ہوئی کہ کم و بیش ہر طرف کشمیر کا رونا دھونا ہے۔۔ہر ایک نے کشمیر سے یکجہتی کے اظہار کی ہے ”کشمیر جل رہا ہے ”کے الفاذ ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔مجھے حیرت ہوئی کہ نیا ایسا کیا ہوگیا،،،کیونکہ ظلم تو ازل سے جاری ہے۔نیوز دیکھی تو پتہ چلا کہ ”’ کشمیر جل نہیں رہا بلکہ کشمیر تو جل چُکا ہے ”’

ارٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے پر پوری عالم اسلام سمیت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے غیور حکمرانوں کی طویل خاموشی اور پھر مزاحمت کے نام پر محض دوسرے ممالک سے ٹیلی فونک رابطوں کے ذریعے عورتوں کی طرح دکھ سکھ بانٹنا کسی عقل سے پیدل شخص کو بھی سمجھ آجانا چاہیے کہ ہم کیسی قوم ہیں۔20 دن گزر گئے ہمارے حکمران ایک کے بعد دوسرے ملک کو فون ملاتے ہیں اور مودی سرکار کو محض سمجھانے کی درخواست پیش کرتے ہیں۔۔اگر محض بات کرنے سے کشمیر جیسا مسئلہ حل ہونا ہوتا تو کب کا ہوچکا ہوتا۔۔اگر محض ” ڈائلاگ ” ایسے مسئلے کا حل ہوتی تو بوسنیا شام عراق لبنان اور فلیسطین جیسے ممالک تباہ نہ ہوتے ،،

افسوس کہ آج کشمیر تو پورے کا پورا جل چکا ہے لیکن اس آگ کی زرا سی بھی آنچ ابھی تک ہماری ضمیروں تک نہیں پہنچ سکی۔۔کشمیری عوام پر ظلم کی اس انتہا پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری دنیا کے مسلما ن یکجا ہوکر کوئی ایسا ٹھوس قدم اُٹھاتے کہ مودی سرکار کو مُنہ کی کھانی پڑتی مگر شائد ہم وہی مسلمان ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔۔۔ اسکے متضاد یہ کہ انسانی تاریخ کی اس بد ترین نسل کشی پر ہماری ہی مسلمان بھا ئیوں نے مودی سرکار کو سول ایوارڈ سے نواز کر تاریخ رقم کردی،،،

میں کشمیر میں قتل ہونے والے معصوم بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں،،اور دشمن کے ہاتھوں بے آبرو ہونے والی خواتین اور مسلسل خون کی ہولی دیکھنے والی اس قوم سے جنکا اس وقت خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ،،میں انھیں صرف یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ”” دیکھو کشمیری عوام گھبرانا نہیں،کیو نکہ ہم تمھارے ساتھ ہیں،ہم ۷۳ سالوں سے تمھاری اواز بنے ہوئے ہیں، ہم نے تمھارے لیے گیت لکھے، ہم نے تم پر لاگ اور انگاروادی جیسے ہٹ ڈرامے بنائے۔۔پچھلے ۷۳ سالوں سے ہماری سرکاری چینل تم پر رپورٹ پیش کرتی ہے ،خبر نامے سے پہلے تمھارے نام نغمے نشر کرتی رہی ہے، ہمارے حکمران جب بھی بیرونی دوروں پر جاتے ہیں کانفرنسزز میں تمھارا ذکر کرتے ہیں۔۔

دیکھو کشمیری عوام گھبرانا نہیں ہم آہندہ بھی تم پر ڈرامے بنائیں گے ۔۔گیت لکھیں گے،مزید تمھارا ذکر مقبول کریں گے،ہماری سرکاری چینل تمھارے رپورٹ نغمے اور ڈرامے ٹیلی کاسٹ کرتا رہے گا،،ہمارے حکمران اور ہم خود ہر محفل میں تم سے یکجہتی کا راگ الاپتے رہیں گے ،کیا یہ کافی نہیں کہ ہم نے ماضی میں تمھارے لیے جنگیں لڑی ہیں،بس اب تم نے گھبرانا نہیں ہے،تمھیں اب چپ چاپ قتل ہوتے رہنا ہے، بے ابرو ہوتے رہنا ہے یتیم ہوتے رہنا ہے ہاں پھر جب تم ( انشا ء اللہ ) اپنی بقاء کی جنگ جیت جاو تو میری تم سے درخواست ہے کہ اپنے تما م مسلما ن بھا ئیوں کو چوڑیوں کا تحفہ ضرور بھیج دینا جو کسی تاریخی میوزیم میں ان ۵۲ اسلامی ریاستوں کی بہادری کی علامت کے طور پر رکھا جاسکے۔۔۔

اور ہاں جب تم اپنی بقا ء کی یہ طویل جنگ جیت جا وَ تواس جشن ازادی کی تقریب میں ”اُس عرب شہزادے ”’ کو ضرور مدعو کرنا اور”اُسے “” اسلامی تاریخی کی اس ” بد ترین بے غیرتی کی بنا ء پر”’ اعلی ایوارڈ سے نوازنا۔۔۔ آزاد ریاست کشمیر کے پہلے سول ایوارڈ سے ۔۔۔۔تا کہ پھر جب عربوں پر تباہی آئے (جسکی پیشن گوئی اسلامی تاریخ سے ملتی ہے ) تو عرب قوم تباہی کے لاکھوں وجوہات کی طرف پیش قدمی کرنے والے ”’ اس پہلی وجہ ” کو ہمیشہ یاد رکھ سکیں ۔۔۔۔۔


شیئر کریں: