Chitral Times

Dec 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سقوط ڈھاکہ سے سقوط کشمیر تک ؟…. پیامبر…… قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل کا خیال اسرائیل کے قیام سے ایک سال پہلے 1947میں سامنے آیا تھاجب اقوام متحدہ نے برطانیہ کے زیر انتظام فلسطینی علاقے میں یہودی ریاست کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس قرار داد میں کہا گیا تھاکہ فلسطین کے علاقے میں دو ریاستیں قائم ہوں گی ایک یہودی اور ایک عرب۔موجودہ صورتحال سے ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ عالمی طاقتیں جموں و کشمیر کے لئے بھی دو ریاستی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اس وقت اگر مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے تمام حالات کا موازنہ کیا جائے تو زیادہ تر مماثلت نظر آئے گی۔برطانیہ تقسیم ہندوستان کے ادھورے ایجنڈے کا کرتا دھرتا ہے اور موجودہ تمام تر حالات کی ذمے داری برطانیہ پر عاید کی جاتی ہے کیونکہ فلسطین میں یہودی آبادی و صہونی ریاست اسرائیلی ریاست کے منصوبہ کے بھی موجد تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن برطانیہ نے تقسیم ہندوستان کے اصولی موقف سے انحراف کرکے کئی مسلم ریاستوں کو ہندوستان سے الحاق کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سے بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشمیر کی وجہ سے ہی کشیدہ ہیں اور پاکستان، بھارت کی پہلی جنگ کا سبب مسئلہ کشمیر بنااور بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ لے گیا۔ جہاں فیصلہ ہوا کہ کشمیری استصواب رائے کی بنیاد پر پاکستان یا بھارت میں شمولیت کے لئے حق خود اداریت استعمال کریں گے لیکن جس طرح اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں کے خلاف عمل کیا۔ یہودی بستیوں کو بنانے کا سلسلہ جاری رکھ کر فلسطینی مسلمانوں کو اقلیت بنانے کی سازش پر عمل پیرا رہا، اسی طرح بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی قرادادوں کے برخلاف کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔1967میں اسرائیل نے عربوں کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ عرب ممالک اسرائیل کا مقابلہ نہ کرسکے کیونکہ دفاعی اعتبار سے عرب ممالک نے خود کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا تھا۔ آج بھی ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔اسرائیل،عرب جنگ اور خطے کے کشیدہ تعلقات کے بعدفلسطین کو 1990میں اوسلو معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لانا تھا۔ لیکن اس پر بھی عمل درآمد ممکن نہیں ہوسکا۔ یہودی قابض افواج کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کو جبراََ نکالا جا رہا ہے اور امریکا جو کہ اسرائیل کا سب سے بڑا ہمدردہے، سابق صدر بارک اوبامہ کے دور میں یہودی بستیوں کے مزید آبادکاری روکنے کے مطالبے پر اسرائیل و امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوئے لیکن موجودہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی کھلی حمایت کی۔ سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ کے تقریباََ تمام ممالک کے احتجاج و قراداد کو نظر انداز کرکے امریکی قونصل یروشلم کو سفارت خانے میں منتقل کردیا۔
یہودی بستیوں کی غیر قانونی آباد کاری کی وجہ سے اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا، امریکا جو ہمیشہ اسرائیل کے خلاف آنے والے قراردادوں کو ویٹو کردیا کرتا تھا۔ وہ اُس اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جارحانہ کارائیوں کو روکا نہیں جا سکا۔ پہلے پہل تو اسرائیلی ریاست کی مخالفت کی جاتی تھی لیکن حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ دو ریاستی حل بھی عملنہیں ہوپارہا۔کچھ ایسے حالات مقبوضہ کشمیر کے نظر آرہے ہیں کہ کشمیری عوام کی حق خود اردایت کی اقوام متحدہ کے قرار دادوں پر عمل نہ ہونے کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول کی حیثیت کو ختم کرکے آزاد کشمیر پرحملے کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔ آرٹیکل370کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو دو ریاستی منصوبے کے تحت مستقل حیثیت قرار دینے کے لئے عالمی رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے تا کہ پاکستان و بھارت اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں پر اکتفا کرلیں۔ وزیر اعظم عمران خان ماضی میں کشمیر کے حل کا سہ نکاتی تجویز دے چکے تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کی کامیابی کے خواہاں تھے کہ نریندر مودی مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لئے کانگریس سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔ شاید وزیر اعظم اس بات کی توقع نہیں کررہے تھے کہ مودی سرکار اپنے برسوں پرانے خواب کو جلد از جلد پورا کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرے گی۔ عوام کے شدید ردعمل پر عمران خان نے مودی سرکار کے رویئے کو دیکھتے ہوئے فی الحال ایک قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ امریکا سمیت کوئی بھی عالمی طاقت ثالثی کرانا بھی چاہتی ہے تو ان کے نزدیک واحد حل یہی ہے کہ بھارت اور پاکستان کشمیر کی لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرلیں۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ امریکا سمیت کوئی بھی ملک یہ چاہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے دست بردار ہوجائے یا پاکستان۔ ان کے سامنے یہی دو حل ہیں کہ یا تو بھارت اور پاکستان ایل اوسی کو انٹرنیشنل بارڈر مان لیں، یا پھر دونوں ممالک کشمیر کو خود مختار ریاست کا درجہ دے کر اپنی اپنی فوجیں نکال لیں اور مستقبل میں کشمیر پر پاکستان یا بھارت کوئی دعوی نہ کرے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی کوئی ملک ثالثی میں فریقین کو رضا مند نہیں کرسکتا کیونکہ بھارت و پاکستان 70برسوں سے اپنے اپنے زیر انتظام کشمیر کو ضم کرچکے ہیں اور مقبوضہ کشمیر پر پاکستان سے بھارت کئی جنگیں لڑ چکا ہے بلکہ محدود جنگ کئی برسوں سے لائن آف کنٹرول پر اب بھی جاری ہے۔
جس طرح فلسطینی دو ریاستی حل سے بھی مایوس ہوتے جارہے ہیں اور ان کی مسلح مزاحمت بھی دم توڑتی جا رہی ہے اسی طرح کشمیریوں کی بھی جمہوری حل کی تمام امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں تاہم کشمیری اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے بھی قلم کی جگہ ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ پہلے یہودی ریاست کو تسلیم کیا جائے، لیکن بیشتر ممالک کی بڑی تعداد یہودی ریاست کو تسلیم تو نہیں لیکن تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔ اسرائیل پاکستان کو اپنے لئے سب سے زیادہ خطرناک تصور کرتا ہے کیونکہ فلسطین کے لئے سب سے موثر آواز پاکستان اٹھاتا رہا تھا۔واحد ایٹمی مسلم ملک اور اسرائیل مخالف ہونے کے سبب اسرائیل بھارت نے گٹھ جوڑ کرکے پاکستانی مفادات کو ہر جگہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہتے کشمیریوں پر جو بدنام زمانہ پیلٹ گن استعمال ہوتی ہے وہ بھی اسرائیل کی دی ہوئی ہے اور لائن آف کنٹرول پر اسمارٹ بارڈر بھی اسرائیل کے تعاون سے بھارت نے لگائی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی جانب سے بھارت کو مہیا کردہ کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پاکستان کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے علاوہ کسی قسم کے سقوط کشمیر کے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے تیار نہیں ہے لیکن عالمی طاقتوں کی جانب دو ریاستی حل منصوبے کے طرح سقوط کشمیر کے لئے راہ ہموار کرنی کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔ بھارت اپنے مذاکرات کو کشمیر ی مزاحمت سے جوڑتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی حمایت سے باز آجائے۔ اسی طرح اسرائیل فلسطینی عوام سے یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے،۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل کے لیے بات چیت کے عمل کو شروع کرنا عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے تابع ہے۔ برسوں کے مذاکرات کے باوجود عالمی طاقتیں اسرائیلی قبضہ ختم نہیں کراسکی تو مقبوضہ کشمیر سے بھارت کا قبضہ ختم کرانا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس کے لئے پاکستان کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ اُس کے مفاد میں کیا بہتر ہے۔پاکستان کے پاس تین آپشن ہیں۔ پہلا، سقوط ڈھاکہ کی طرح سقوط کشمیر کے لئے تیار ہوجائے۔ دوئم مقبوضہ کشمیر پر بھارت سے قبل خود حملہ کردے۔ یا پھر سہ نکاتی منصوبے کے بجائے دو ریاستی حل کی تجویز کو مان لے۔


شیئر کریں: