Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان …….استاذ اور سیاست………محمد جاوید حیات

Posted on
شیئر کریں:

یا تو یہ سب لوگ ”استاذ“ کا معنی نہیں سمجھتے ہیں یا ”سیاست“ کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہیں۔یا تو استاذ کا مقام گر گیا ہے یا تو سب سیات میں آن پڑھ ہیں۔میرے ابو میرے استاذ تھے اس نے سکول اور گھر میں مجھے عجیب سیاست پڑھائی تھی۔۔ابو کہتے۔۔بیٹا یہ سیات عبادت ہے۔خدمت ہے۔۔سچائی ہے۔ایک عہد ہے۔ایک امانت ہے۔۔حقو ق کی حفاظت ہے۔بیداری ہے۔محروموں کا ہاتھ پکڑنا ہے۔ظالموں کے سامنے سینہ سپر ہونا ہے۔خد مت خلق ہے۔۔گلی کوچوں میں بنجارہ بن کر پھرنا ہے۔سب کی ذمہ داریاں پیٹھ پہ اُٹھائے پھرنا ہے۔اپنی بات سے پھرنا نہیں ہے۔۔معاشرے کا ہر سیانا فرد ایک سیاست دان ہی تو ہے۔۔جو اپنا حق پہچانتا ہے وہ ستاستدان ہی تو ہے۔ جو دوسروں کا حق پہچانتا ہے وہ اس سے بھی بڑا سیاست دان ہے۔سیاست دان ہی سیاست پڑھا سکتا ہے۔سیاست دان تیار کر سکتا ہے۔۔ابو یہ کہتے ہوئے ایک لمحے کو خاموش ہو جاتے۔۔پھر ذرا تامل کے ساتھ کہتے کہ استاد بہت بڑا سیاست دان ہو تا ہے۔۔یہ کہتے ہوئے ابو کے لہجے میں افسردگی چھا جاتی۔۔یہ افسردگی میں محسوس نہ کرسکتا۔۔اب سوچتا ہوں کہ کتنے درد سے یہ جملہ ادا کرتا تھا۔۔اب جب میں اپنے سیاست دانوں اور اپنے اساتذہ کو دیکھتا ہوں تو ابو کے لہجے کی افسردگی اور شدت سے میرے لہجے میں آجاتی ہے۔۔وزیر اعلی کے بیان پہ یقین تو نہیں آتا کہ اتنے ذمہ دار بندہ ایک ”استاذ“ کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ استاذ کو سیاست سے کیا کام۔اگر سیاست کا شوق ہے تو گھر جائے۔۔ اس کا کام بچوں کوپڑھانا ہے۔۔’’وہ بچوں کو پڑھائے“۔یار لوگوں نے اس جملے کو سوشل میڈیا کی زینت بنایا۔۔وزیر اعلی سچ کہتے ہیں اور مجبورا کہتے ہیں۔کیونکہ جو استاذ اپنی کلاس چھوڑ کر گلی گلی لفظ ”سیاست“ الاپ کرپھرتا ہے۔۔وہ سیاست سمجھتا بھی کیا ہے۔۔کیونکہ ”سیاست “ سیادت،شرافت، خدمت،عبادت اور قیادت کانام ہے۔۔یہ کبھی بھی ”عداوت،نقاہت،نفرت اور منافقت کا نام نہیں“۔۔وزیر اعلی صاحب شایدتھک گئے ہیں ان کونہ وہ اساتذہ ملتے ہیں جو اپنی کلاسوں میں ”حقیقی سیاست“ پڑھائیں اور نہ وہ سیاست ملتی ہے جو ”عبادت اور قیادت“ کا نام ہے۔لیکن وزیر اعلی صاحب ایک جمہوری اور فلاحی ملک خداداد کا وزیر اعلی ہے۔ اللہ نے آپ کو خدمت کا موقع دیا ہے۔۔آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ جس استاذ کے بارے آپ کا فرمان آیا ہے کہ وہ سیاست نہ کرے بچوں کوپڑھائے۔۔یہ استاذجب کلاس روم میں۔۔سی پیک پہ لکچر دے رہا ہوتا ہے۔تو بچے سچ پوچھتے ہیں تو استاذ کو ان کو بتانا پڑتا ہے۔۔کہ گوادر کی تاریخ کیا ہے اس کے پیچھے سچ کیا ہے۔۔سیاست کیا ہے۔۔یہی استاذ جب کلاس روم میں اداروں کے فرائض اور کارکردگی پہ بات کر رہا ہوتا ہے تو منچلے بچے سچ پوچھتے ہیں۔۔استاذ کو سچی سیاست بتانا پڑتا ہے۔۔استاذکو جموری طرز حکومت یعنی پارلیمانی نظام پہ لکچردینا پڑتا ہے اور بچوں کو سچ سچ بتانا پڑتا ہے۔اسی استاذ کو اپنی کلاس سے فرصت نہیں ہوتی جو اس سے باہر کی سستی سیاست کرتا ہے وہ تو ”پٹیچر“ ہے اپنے مقام سے گرا ہوا۔۔ وہ استاذ کہنے کا مستحق ہی نہیں۔۔لیکن جو استاذ حق کے لئے،دین کے لئے،تہذیب و تمدن کی بقا کے لئے،سچائی کے لئے،سر زمین پاک کی حرمت کے لئے،ملک میں امن،خوشحالی اور ترقی کے لئے،قوم کے نونہالوں کی درست نہج پہ تربیت کے لئے اور اپنے حقوق کے لئے لڑتا ہے آپ اس کوکونسے گھر بھیجیں گے وہ تو تیرا سرمایا ہے۔۔اس کے حقوق ہیں۔۔پچھلی حکومتوں نے اس کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔۔مسٹر نواز شریف کے دور میں محکمانہ ترقی روک دی گئی ایک استاذ بیس سال تک ایک کیڈر میں سڑتا رہا ۔۔اسلام کے داغیوں کی حکومت آئی تو انھوں نے بغیر کسی امتحان انٹرویو کے اساتذہ بھرتی کی۔۔ استاذ دھائی دیتا رہا۔۔کوئی اس کا پوچھنے والانہ تھا۔اس کی تنخواہ اور مراعات کامسلۂ تھا وہ سب سے کم تخواہ والامظلوم طبقہ تھا۔۔اس کے ضلعی آفسر اعلی کے پاس گاڑی نہ تھی۔اگر اس کے پاس پلیٹ فارم نہ ہوتا تو آج بھی وہ ایک مظلوم طبقہ ہی تھا۔پچھلی حکومتیں کم از کم اس کے لئے نقار خانہ تھیں۔صرف کے پی کے میں نشنل پارٹی نے اس کی تنخواہ پہ ہمدردانہ غور کیا۔موجودہ حکومت کا بھلا ہو کہ استاذ کی ہر لحاظ سے خیال رکھا جا رہا ہے۔لیکن اس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنا جو کم از کم استاذ کے مقام کے مطابق نہ ہو مناسب نہیں۔اساتذہ میں ایسے لوگ ہیں جو دن رات اس قوم کی تعلیم و تربیت میں جتے ہوئے ہیں۔۔انکوپلیٹ فارم چاہیے۔۔یہ تمہارے دست و بازوہیں۔۔ان کی حوصلہ افزائی ایک مہذب قدم ہے۔واقعی میں مخلص اساتذہ قوم کی پہچان ہوتے ہیں۔۔ہماری قوم ایسے اساتذہ سے خالی نہیں۔۔یہ کسی بھی طریقے سے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔موجودہ حکومت نے ان کومراعات سے مالامال کر رہی ہے۔۔اس کا احساس اساتذکوبھی ہاناچاہیے۔۔


شیئر کریں: