Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مودی تیرا حشر،جنگ ِستمبر سے زیادہ عبرتناک ہوگا…….گل بخشالوی

Posted on
شیئر کریں:

وطن عزیز پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں سرحدوں پر دشمن اور اندرونِ وطن سیلاب اور دہشت گردی سے زندگی پریشان ہے لیکن تمام تر مشکلات وخطرات کے باوجود قوم حکمران اور افواجِ پاکستان سراُٹھائے ایمان کی قوت سے مالا مال بڑی بے جگری سے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے سینہ سپر ہیں ۔یہ ہے زندہ قوموں کی نشانی اور ہم دعویدار ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اور اُس عظیم قوم کیساتھ کھڑے ہیں جن کی آنکھ ہی اپنے دیس سے محبت میں کھلتی ہے ۔وہ دنیا کی پہلی سانس بھی اُس فضا میں لیتے ہیں جس میں انسانی وجود کے خون اور عزم واستقلال کی خوشبو رچی بسی ہے ۔ہمیں دعویٰ ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے لیکن یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ قوم عملی طور پر اس دعوے کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔
بھارت کی ہندوسرکار نے ہندوستان پر ہندوازم کی حکمرانی کیلئے ہندوستان میں نہ صرف دین مصطفےٰ کے علمبرداروں بلکہ دیگر مذاہب او رنظریات کی عوام پر بھی بھارت کی سرزمین تنگ کر دی ہے وہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے کشمیر میں ہندوازم کے راج کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اُن کا یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا اس لےے کہ کشمیر کی عوام سروں پر کفن باندھے دین مصطفےٰ میں زندگی جی رہے ہیں اُن کے اس عزم واستقلال کی دنیا گواہ ہے ۔

چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اُس کے پرنکل آتے ہیں اور وہ شمع کی لو کے گرد منڈلانے لگتی ہے خود کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ایسا ہی کچھ مودی سرکار کیساتھ ہورہا ہے کشمیری مسلمان پہلے کی نسبت زیادہ قوت سے حصولِ آزادی کیلئے میدان میں اُتر چکے ہیں ۔مردوں کے شانہ بشانہ خواتین اور بچوں کا جذبہ ¿ آزادی کی ایک عظیم تاریخ رقم ہورہی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے پہلوان حکمران تحریک ِآزای کی بے چین صدائیں سن رہے ہیں اس لےے کہ 72سال سے اُن کی درد بھری آہوں اور سسکیوں سے عرشِ الہٰی کا نپ اُٹھا ہے خداکی بے آواز لاٹھی گھوم چکی ہے ہر فرعون کی سرکوبی کیلئے اللہ رب العزت کوئی نہ کوئی صاحب ِکردار پیدا کرتا رہا ہے او روہ صاحب ِکردار پاکستان سرزمین پر سر اُٹھا کر میدانِ عمل میں اُتر چکا ہے دنیا کی قیادت نے تسلیم کر لیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے اسلام کا ہیرو ہے اور ان کیساتھ افواجِ پاکستان دنیا میں انسانیت کے تحفظ کیلئے تاریخ مرتب کر رہی ہے ۔پاکستان کا فخر سے سربلند ہے اس لےے کہ یہ رضائے رب ہے اللہ کے گھر دیر ضرور ہے اندھیر نہیں ۔
وہ گھڑی بفضل تعالیٰ آچکی ہے کشمیر آزاد ہوگا بھارت کو اپنی غلطی کا احساس اُس وقت ہوگا جب کشمیریوں کیساتھ سکھ برادری اپنی آزادی کا پرچم بلند کریں گے ۔بنگلا دیش بنتے دنیا نے دیکھا تھا مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند قوتوں نے شیخ مجیب الرحمان کے روپ میں مکتی باہنی کا سہارا لیا افواجِ پاکستان کمزور نہیں تھی لیکن قتل عام مسلمانوں کا ہونا تھا مکتی باہنی مجیب الرحمان کی قیادت میں بھارتی سورماﺅں کیساتھ کھڑی نہ ہوتی تو بھارت کا وہ حشر ہوتا جو مغربی پاکستان میں اُن کیساتھ 1965ءکی جنگ میں ہواتھا ۔
جموں وکشمیر کی عوام پاکستان کیساتھ کھڑی ہے آزادکشمیر اور خالصتان رقبہ کے درمیان کشمیری عوام سروں پر کفن باندھے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہی ہے ۔اگر سکھ تحریک نے اپنی آزادی کا نعرہ بلند کیا تو آزاد کشمیر سے بھارتی فوج کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا ۔افواجِ پاکستان اپنی بھرپور قوت سے خالصتان کی آزادی کیلئے کشمیری برادری کیساتھ اُترے گی ایسی صورت میں دنیا وہ حشر بھارتی فوج کا دیکھے گی جو مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی دیکھی گئی تھی ۔جب بھارتی فوج کو رسد نہیں ملے گی تو ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارانظر نہیں آئے گا لیکن اگر بھارت کو اپنی ایٹمی قوت پر نظر ہے تو اُسے یہ بھی غلط فہمی ہے فن سپہ گری میں افواجِ پاکستان دنیا بھر کی شان اور پہچان ہے ۔
افواجِ پاکستان کو ایٹمی قوت کیساتھ ایمان کی قوت حاصل ہے لیکن بھارت اس سے محروم ہے اس لےے کہ ہندوسامراج بے ایمان ہے ۔پاکستان کی فضائیہ کی قوت تو چند ماہ قبل وہ بخوبی دیکھ چکے ہیں اگر بھارت کے مودی سرکار کو اس کے باوجود بھی کوئی غلط فہمی ہے تو وہ جان لے کہ پاکستان کی عوام اُن پر ابابیلوں کی طرح اُترے گی ۔بہتر ہوگا زمین کے ٹکڑوں کیلئے انسانیت کا خون نہ بہائیں اپنی جھوٹی انا کے آسمان سے اُتر آئیں ۔دوست ممالک پر اعتماد اپنی جگہ لیکن اس اعتماد میں اپنی قوم کا خون بہانا انسانیت کی توہین ہے ۔

مودی جان لے یزید سے فرعون تک بڑے بڑے شیطان دین مصطفےٰ کی علمبردار قوم کا مقابلہ نہیں کرسکے اگر مودی کو اپنی طاقت پر گھمنڈ ہے تو تاریخ کا مطالعہ کرے اور یاد کرے جنگ بدر کا میدان جہاں 313مجاہد جب میدان میں اُترے تو جنگی سازوسامان سے لیس ہزار کی تعداد سے بڑی فوج پر بھاری تھے اس لےے کہ مسلمان دنیاوی قوت سے نہیں جذبہ ¿ ایمان کی قوت سے میدان میں اُترتے ہیں اور اُن کی منزل شہادت ہوتی ہے ۔


شیئر کریں: