Chitral Times

Dec 4, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد اہم فیصلے اورایکٹ میں‌ ترامیم کی منظوری دیدی گئی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌ صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سول سیکریٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا ۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے اگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہکابینہ خیبر پختونخوا لیگل ایڈ بل 2019کے مسودے کی منظوری دیدی ۔ اس قانون کے تحت صوبے میں ایک لیگل ایڈ ایجنسی کا قیام عمل میں لایا جائےگا ۔ یہ ایجنسی سینئر وکلاء کا ایک پینل بنائے گی جو صوبے میں مستحق خواتین کو جوخاندانی جھگڑوں کی کیسز میں وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں مفت لیگل ایڈ فراہم کریں گے ۔ مفت لیگل ایڈ حاصل کرنے کیلئے مستحق افراد کا تعین کرنے کیلئے ایک مکےنزم بنایا جائیگا ۔ لیگل ایڈ حاصل کرنے کیلئے لیگل ایڈ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس درخواست جمع کرنا ہوگا جس کے ساتھaffidavitاور دیگر ضروری دستاویزات لگانا ہوں گے ۔ وفاقی حکومت نے مسلم فیملی لاز ترمیمی ایکٹ2019 قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے جس میں مذکورہ ایکٹ کے شق ۔ 4 اور7 میں ترامیم تجویز کی گئیں ہیں ۔ وفاقی حکومت کے اس ترمیمی قانون کا دائرہ اختیار وفاقی دارالخلافہ تک محدود ہوگا تاہم آئین کی دفعہ 144کے تحت صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے احکامات کی روشنی میں محکمہ بلدیات نے ان قوانین میں ترامیم کا مسودہ منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ واضح رہے کہ اس ترمیمی قانون کا اطلاق خصوصی طور پر اہل تشیع پر ہوگا ۔ ۴ ستمبر2015ء کو انسانی حقوق سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران سپرم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے محکمہ بلدیات نے ویسٹ پاکستان رولز1961 کے شق ۔ 8کے تحت بنائی گئی نکاح فارم کو ری نوٹیفائی کرنے اور اس میں شق ۔ 32 کا اضافہ کرنے کی تجویز کابینہ کے سامنے پیش کی ۔ اس اضافی شق میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھنے والا جوڑا زچہ و بچہ کی بہتر صحت کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کا پورا ادراک رکھتا ہو ۔ کابینہ نے اس نکاح فارم کو ری نوٹیفائی کرنے کی منظوری دیدی ۔

ضلع پشاور، ہری پور، صوابی اور بنوں کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورمنٹس نے محکمہ بلدیات کو رپورٹ دی تھی کہ ان اضلاع کے بعض ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں ممبران کی سادہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کونسلوں کا سال2018-19 کا بجٹ منظور نہیں کیا جا سکا ۔ ان ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں مندوزئی ہزار خوانی پشاور، باندی میاں پیرداد ہری پور، جاگل ہری پور، اسماعیلہ نظر صوابی، کھندر خان خیل، پنجال ۔ 11بنوں اور میوہ خیل بنوں شامل ہیں ۔ متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے اپنے اپنے یونین کونسلوں کے اب تک ہونے والے اخراجات کیلئے بجٹ کا مسودہ تیار کرکے (ex-post approvalمنظوری کے صوبائی حکومت کو ارسال کی تھی ۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013 کی رو سے کسی بھی ویلج کونسل کا بجٹ منظور نہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت اس کونسل کا بجٹ بنا کر اس کی منظوری دے گی ۔ معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا جن کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا نےReproductive Healthcare & Rights Bill-2019 کی منظوری دیدی ہے جسے بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جائےگا ۔ اس بل کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کی جائے گی ۔ اس بل کے ذریعے زیادہ زور شعور و آگہی پر دیا گیا ہے ۔ محکمہ اس سلسلے میں عوام کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی ۔ بل کے ذریعے ہر شخص کو آزادی دی گئی ہے اور وہ آزادانہ طور پر بچوں کے بارے میں فیصلے کرے ۔ کسی پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ۔

محکمہ داخلہ کی طرف سے سی آر پی سی1898 کے شق ۔ 14-A میں ترامیم کا مسودہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیاگیا ۔ ان ترامیم کے ذریعے اسپیشل مجسٹریٹس کو جنگلات، معدنیات، اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، سرکاری زمینوں ، سڑکوں اور نالوں پر تجاوزات، میونسپل سروسز، بلڈنگ کنٹرول اور موٹر وہیکلز سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں اور جرائم کے کیسز کی سماعت کا اختیار حاصل ہوگا ۔ اسپیشل مجسٹریٹس کو یہ اختیارات دینے کا مقصد صوبائی حکومت کے گڈ گورننس ،اسٹریٹیجی پر بہتر عمل درآمدکو یقینی بنانا ہے ۔ واضح رہے کہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد سی آر پی سی میں ترامیم کا اختیار صوبائی حکومت کو حاصل ہے ۔

صوبائی حکومت نے معاشرے کے محروم طبقوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف اقدامات شروع کر رکھے ہیں ۔ بے گھر افراد کیلئے پناہ گاہوں کا قیام بھی اس سلسلے کیایکاہم کڑی ہے ۔ فی الوقت پشاور میں پانچ پناہ گاہیں قائم کی گئیں ہیں جبکہ صوبے میں مزید پناہ گاہیں بنائی جارہی ہیں ۔ ان پناہ گاہوں کے معاملات کو ایک آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرزکے تحت صاف اور دفاف انداز چلانے کیلئے قانون کا مسودہ اپریل2019ء کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا ۔ کابینہ نے اس قانون کے مسودے کا دوبارہ جائزہ لے کر اس کو مزید موثر بناکر کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ محکمہ سماجی بہبود نے کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا پناہ گاہ ایکٹ2019ء کا مسودہ منظوری کیلئے دوبارہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ اس مجوزہ ایکٹ میں خیبر پختونخوا پناہ گاہ ویلفیئر بورڈ کے نام سے ایک آزاد بورڈ قائم کرنے کی تجویز ہے ۔ یہ بورڈ غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی شعبوں میں کام کرنے والے دس افارد پر مشتمل ہوگا جو ان پانہ گاہوں کوصاف اور شفاف انداز میں چلائے گا

وفاقی حکومت نے مئی2019 میں قومی اسمبلی میں مذکورہ بالا قاونن کا مسودہ پیش کیا تھا ۔ وزیراعظم آفس سے صوبائی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اس قانون کی اہمیت کے پیش نظر صوبائی حکومت بھی اس قسم کی قانون سازی عمل میں لائے ۔ محکمہ مال نے محکمہ قانون کی مشاورت سےSuccession Act 1925 میں ضروری ترامیم کا مسودہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیا ۔ ان ترامیم کے ذریعے نادر ا کو یہ اختیار دیا جائیگا کہ وہfamily registration certificate کے مطابق وفات ہونے والے شخص کے قانونی وارثوں کو letter of administration and succession certificatesبھی جاری کرے گا

چیف انجینئرتربیلہ ڈیم پراجیکٹ نے صوبائی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ 1968 میں خانپور ڈیم کی تعمیر کیلئے3640 ایکڑ زمین کی ضرورت تھی ۔ ڈیم تعمیر ہونے کے بعد54کنال اضافی زمین بچ گئی تھی جو اب بھی واپڈا کے پاس ہے ۔ اب یہ زمین132کے وی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے پیسکو کو درکار ہے جسے پیسکو کو دینے کیلئے صوبائی حکومت سے این اوسی کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ لینڈ ریکوزیشن ایکٹ1894 کی رو سے کوئی بھی کمپنی اسطرح کی ز میں صوبائی حکومت کی منظوری کے بغیرکسی اور کو ٹرانسفر نہیں کر سکتی ۔ معاملہ منظوری کیلئے کابینہ نے سامنے پیش کیا گیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔

سابقہ قبائلی اضلاع کی صوبے میں انضمام کے بعد ان ضم شدہ اضلاع میں گزرنے والی تمام ہائی ویز کو سی اینڈ ڈبلیو سے لیکر پراونشل ہائی ویز اتھارٹی کو حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کی روشنی میں ضم شدہ اضلاع میں کل 383 کلو میٹر لبی تین ہائی ویز کوPKH کو حوالہ کئے جا رہے ہیں جن کی مرمت اور دیکھ بال کیلئےKPHAکو532.80 ملین روپے اضافی رقم کی ضرورت ہے ۔ ان تین ہائی ویز میں خار، نواگئی، غلنی، پیر قلعہ روڈ، تھال، چیری، پاراچنار روڈ اور تھل، میر علی، اشا، رزمک، خرگی، ٹانک روڈ شامل ہیں ، معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا جس کی کابینہ نے منظور ی دیدی ۔ صوبائی حکومت نے سال1996ء میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور ایریگیشن میں روڈ قلیوں اور انسپکٹرز کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ان پوسٹوں کو dying cadre قرار دیا گیا ۔ ان پوسٹوں کو ختم کرنے کی وجہ سے سڑکوں کے ملحقہ سرکاری زمینوں اور سڑکوں پر ناجائز تجاوزات، بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے سڑکوں کی بندش اور سڑکوں پر معمولی خرابی کی بروقت مرمت نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی خستہ حالی کے مسائل سامنے آنے لگے جس کے پیش نظر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو روڈ انسپکٹرز کے عہدوں کی بحالی کی ضرورت محسوس کرنے لگی ہے ۔ محکمہ خزانہ کی مشاورت سے157روڈ انسپکٹرز کے عہدوں کی بحالی کا معاملہ منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ ہر ایک روڈ انسپکٹر 150کلو میٹر لمبی سڑک کے دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوگا ۔ صوبائی کابینہ ضلع سوات میں منگلور تامالم جبہ35کلومیٹر روڈ کی تعمیر اور black topping کی منظوری دیدی ہے ۔ سوات موٹر وے کی تعمیر کیلئے پہاڑیوں میں ٹنل کی کھدائی کے دوران نزدیکی واقع آبادی کو کسی بھی مالی و جانی خطرات سے تحفظ کرنے کیلئے انہیں عارضی طور پردوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا ۔ پہلے مرحلے میں عارضی طور پر منتقل ہونے والے گھرانوں کو کرایوں کی ادائیگی کیلئے ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ ڈبلیو، ایف ڈبلیو اور دیگر متعلقہ محکموں نے مل کر15000 روپے فی گھرانہ دینے کی فیصلہ کیاتھا ۔ 120 گھرانوں کو جنوری2018ء تا مئی2019ء تک کرایوں کی مد میں معاوضوں کی ادائیگی کیلئے کل22.520 ملین روپے کی رقم متعلقہ تعمیراتی کمپنی نے ادا کی تھی ۔ اس کمپنی کو اس رقم کی ادائیگی کیلئے22;46;520 ملین روپے کی منظوری کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ صوبائی کابینہ نے ہائر سیکنڈری سکولوں کی standardization جن میں missing سہولیات کی فراہمی، بجلی کی ترسیل، واٹر سپلائی، فرنیچر، باءونڈری وال، اضافی کمرے، آئی ٹی ویب وغیرہ شامل کرنے کیلئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا میں ایک پراجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹProject Implemtnation Unit کے قیام کی منظوری دیدی ہے جو پراجیکٹ ڈائریکٹر کی سربراہی میں کام کرے گا ۔ صوبے کے تعلیمی بورڈز کوWest Pak. Essential Services (Maintenance)Act 1958 میں شمولیتتعلیمی بورڈ صوبائی حکومت خود مختار ادارے ہیں جن کے ذمے تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، طلباء کی انرولمنٹ، رول نمبروں کا اجراء، امتحانی ہاوں کا اعلان، امتحانات کا بر وقت انعقاد،پرچہ جات کی حصول ان کی بروقت چیکنگ، نتاءج کا اعلان، ڈی ایم سیز کا اجراء اور دیگر ایسے حساس نوعیت کے کام ہیں جن کا بلواسطہ تعلق مفاد عامہ اور طلباء کے مستقبل سے جڑی ہے جس کے پیش نظر بورڈ ملازمین پر لازم ہے کہ وہ بروقت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس حساس اور اہم نوعیت کے کام کی وجہ سے بورڈانتظامیہ اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ بورڈ ملازمین احتجاج کریں یا بورڈ کے روزمرہ معاملات کی انجام دہی میں خلل ڈالیں ۔ ضروری خدمات کے قانونWest Pak.Services Act 1958 کے مطابق حکومت ایک اعلامیہ کے ذریعے کسی بھی خود مختار ادارے کے ملازمین پر اس قانون کا اطلاق کر سکتی ہے ۔ تعلیمی بورڈز کے کام کی حساس نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے کے تعلیمی بورڈ میں اس قانون کے اطلاق کا معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ ملک میں ادویات کی درآمد، برآمد،ادویات بنانے اور فروخت کرنے سے متعلق معاملات ڈرگس ایکٹ1976 کے تحت چلائے جاتے ہیں ۔ اس قانون کے تحت صوبائی حکومتوں کو اختیار ہے کہ وہ ضروری رولز بنا سکتی ہیں ۔ اسی بنیاد پر صوبے میں ڈرگ رولز 1982بنائے گئے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ قوانین پرانے ہو چکے ہیں اور اسے وقت کی ضرورتوں کے مطابق ان میں ترامیم کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ محکمہ صحت نے ان رولز میں کچھ ضروری ترامیم منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کئے جن کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ ان ترامیم کا مقصد غیر سند یافتہ افراد کی ادویات کی فروخت پر پابندی کو مزید موثر بنانا ہے ۔ ان ترامیم کی رو سے کٹیگری سی لائیسنس ہولڈرز کو جون 2020 کے بعد ڈرگ بزنس نہیں کر سکیں گے ۔ قبائلی علاقوں کی صوبے میں انضمام کے بعد فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی افادیت ختم ہوگئی کیونکہ ایف ڈی اے کے ذمے تمام ذمہ داریاں متعلقہ صوبائی محکموں کے حوالے کی گئیں ۔ اس لئے کابینہ نے فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو تحلیل کرنے کی منظوری دیدی ۔ ادارے کے تمام ملازمین کو دیگر محکموں میں کھپانے کیلئے اسٹبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو دیئے جائیں گے ۔ ادارے کے تحت چلنے والے جاری منصوبوں کے تمام اثاثوں کو صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں کے حوالے کئے جائیں گے ۔ صوبائی کابینہ نے ایمر جنسی ریسکیو سروس خیبر پختونخوا ایکٹ 2012 میں ترامیم کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرBS-18 اور ایمر جنسی آفیسرBS-17 کی بھرتی کیلئے مطلوبہ قابلیت ،اہلیت و شرائط کو ایکٹ کا حصہ بنانے کیلئے ترامیم لائی گئی ہیں ۔ صوبائی حکومت نے اپنے پہلے ایک سال کی نمایاں کامیابیاں عوام کے سامنے لانا چاہتی ہے جس کیلئے ایک روزہ پروگرام کا انعقاد کیا جائےگا ۔ پروگرام کے تحت صوبائی حکومت کی نمایاں کامیابیوں پر ایک کتابچے کی اشاعت اور 10منٹ کی ایک ڈاکومنٹری بنائی جائے گی ۔ وزیراعظم پاکستان اس پروگرام کی صدارت کریں گے ۔ اس پروگرام پر3.5 ملین روپے لاگت آئے گی ۔ یہ پروگرام اگست کے27تاریخ کو منعقد کیا جائیگا ۔ چونکہKPPRAقوانین کے تحت عمل میں کم از کم 32دن درکار ہیں اس لئے کابینہ سے اس سلسلے میں KPPRA کے متعلقہ قوانین میں رعایت دینے کی درخواست کی گئی جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ صوبائی کابینہ نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کیلئے10رکنی (ثالثی بورڈ)Board of Arbitration کی نامزدگی کی منظوری دیدی ہے جن کی مدت تعیناتی عرصہ 5سال کیلئے ہوگی ۔ ان کے نام یہ ہیں ۔ بورڈ کے قیام کا مقصد;778473;s کے ملازمین کے سروس سے متعلق تنازعات کو جلدی اور بروقت نمٹانا ہے ۔ یہ بورڈ سروس ٹریبونل کے طرز پر کام کرے گا ۔

صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پاور کرشر (انسٹالیشن، آپریشن اینڈ رجسٹریشن ایکٹ2019 کی منظوری دیدی ہے ۔ ایکٹ کے تحت پاور کرشرز کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے، لائسنس کے اجراء کا طریقہ کار ،ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانے، انسپکشن، خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے جرمانے و سزا وغیرہ جیسے معاملات نمٹانے میں آسا نی ہوگی ۔ فاٹا کی صوبے میں انضمام کے بعد وہاں کے آئمہ مساجد کو اعزازیہ دینے کا کام محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کے حوالے کیا گیا تھا مگر ضم شدہ اضلاع میں اس محکمے کے ضلعی سیٹ اپ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اعزاز یوں کے تقسیم کا کام محکمہ سماجی بہبود کے حوالے کیا گیا تھا ۔ اب محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کی طرف سے یہ کام رولز آف بزنس کے تحت واپس محکمہ اوقاف کو تفویض کرنے کی درخواست کی گئی جس کی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ صوبائی دارالحکومت دو سب ڈویژنوں پر مشتمل تھا ۔ ۱) سب ڈویژن پشاور اور ۲) سب ڈویژن حسن خیل ۔ کابینہ نے سب ڈویژن پشاور کو مزید چار سب ڈویژنوں اورچار تحصیلوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دیدی ۔ یہ فیصلہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پشاور کے نئے ماڈل کے پیش نظر کیا گیاہے ۔ سب ڈویژن پشاور کی آبادی اس وقت4;46;2ملین ہو گئی ہے ۔ ا چار نئے سب ڈویژنوں ;47;تحصیلوں میں پشاور سٹی، متنی، شاہ عالم اور صدر شامل ہیں ۔ KP Enforcement Women’s properly rights Act 2019 ہیں.

کابینہ نے مذکورہ قانون کے مسودے کی منظوری دیدی ۔ اس قانون سے خواتین کو جائیداد رکھنے کے حق سے کسی طرح بھی محروم نہیں کیا جا سکے گا ۔

Enactment of National Commission for Interfaith Harmony Bill 2019

وفاقی حکومت نے مذکورہ کمیشن کے قیام کیلئے قانون سازی کرنے کے بد صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ بھی اس قانون اختیار کرنے کیلئے آئین کی دفعہ144کے تحت صوبائی اسمبلی میں قرار داد پیش کرے جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دیدی ۔ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا لیویز فورس ایکٹ2019 اور خیبر پختونخوا خاصہ دار فورس ایکٹ2019 کے مسودے کی منظوری دیدی ۔ ان قوانین کے نفاذ کے بعد یہ دونوں فورس انہی قوانین کے تحت کام کریں گی جبکہ اس ے پہلے یہ فورسز وفاقی حکومت کے آرڈیننس کے تحت کام کر رہی تھیں ۔ ان قوانین کے ذریعے لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس کے مکمل اختیارات حاصل ہو جائینگے ۔


شیئر کریں: