Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں سڑکوں کی حالت زار…..پروفیسررحمت کریم بیگ

شیئر کریں:

جس کھیت سے دھقان کو میسر نہ ہو ……..چترال میں سڑکوں کی حالت زار…..پروفیسررحمت کریم بیگ

چترال کے اب دو ضلعے بنا دئے گئے ہیں اور دونوں میں دیر سے انے والی اور اندورنی سڑکوں کی حالت افسوسناک حد تک خراب ہے ۔ مثلا آپ ائیر پورٹ روڈ کو لے لیں جو سب کے سامنے ہیں کسی پسمانددہ وادی کی سڑک نہیں بلکہ شہر کے قلب میں ہے اس پر وی آئی پیز اور وی وی آئی پیز بھی سفر کرتے ہیں مگر انکھیں بند کرکے، مرکزی حکومت کا کوئی نمائیندہ تو یہاں آتا نہیں ہے صوبائی والے بادشاہ ہیں کسی وزیرنے آج تک چترال کا دورہ بھی نہیں کیا ۔ ہیلی میں سفر کرکے آپ سڑکوں کی حالت کو نہیں دیکھ سکتے جب تک آپ بائی روڈ سفر نہ کریں سڑکوں کا یہ کام کس محکمے کا ہے;

نیشنل ہائی وے اتحارٹی لواری ٹنل کے بعد خاموش ہے ۔ صوبائی ہائی وے اتھا رٹی کا کوئی وجود ، دفتر وغیرہ نام کی چیز کسی جگہ موجو د نہیں ۔ سی ۔ اینڈ ۔ ڈبلیو کا ادارہ سویا ہوا ہے ۔ سڑکیں کھنڈڑ بن چکے ہیں چترال بونی روڈ اپنی طبعی عمر گذار چکی اس کی مرمت کس کے ذمے ہے;238; جگہ جگہ اس کا ستیا ناس ہوگیا ہے، متعلقہ محکمے کی کان پر جونک تک نہیں رینگتی، چترال کے تمام کم و بیش چھتیس وادیوں مین تمام سڑکیں سکڑ کر چھ فٹ رہ گئی ہیں ان کے لئے روڈ قلی مقرر تھے جو ریٹائیر ہوگئے ان کی پوسٹوں کو ختم کر دیا گیا ۔ یہ پہاڑی اضلاع کے ساتھ زیادتی ہے مالاکنڈ، ہزارہ اور قبائیلی اضلاع میں روڈ قلی کے پرانے نظام کو بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ کسی حد تک سڑکوں کو بحال رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے ۔

۔ ہماری صوبائی حکومت چترال کو سرے سے فراموش کرچکی ہے، ۔ ٹورزم میں بڑے بڑے دعوی کے باوجود چترال کا نام اب موجود ہی نہیں ورنہ کچھ کام تو شروع ہو چکا ہوتا ۔

۔ سیلاب کے بعد سڑکوں کی بحالی کے دعوی میں چترال کا کہیں نام نہیں آیا ۔ سیلاب کے بعد بحالیات کا کام غائب ہے جو سڑکیں اور پل وغیرہ دو ہزار پندرہ کے سیلاب اور زلزلے میں ڈوب گئیں تھیں وہ اب بھی اسی حال میں ہیں ۔ عوام گونا گون مشکلا ت کا شکار ہیں ۔ ان حالات میں سب چترالی عوام کی سب سے پہلی ضرورت سڑکوں کے نظام کی بحالی ہے اس سلسلے میں :

۱ ۔ تمام وادیوں کی سڑکوں کی موجودہ چھ فٹ چوڑائی کو توسیع دیکر کم از کم بیس فٹ بنائی جائے اور اس بیس فٹ کو ہر صورت بحال رکھا جائے

۲ ۔ تمام پلوں کی فوری مرمت کی جائے کہ یہ دریاوءں اور ندی نالوں کا ملک ہے اور یہ پل ہر سال مرمت طلب ہوتے ہیں اور یہ سسپنشن پل ہیں اور اہم پلوں پر چوکیدار بٹھایا جائے جس طرح ;7166; میں ایسا نظام قائم رکھا گیا ہے

۳ ۔ تمام غیر معیاری سڑکوں کو معیاری بنایا جائے یعنی غیر ضروری چڑھائی اور اترائی کو کم سے کم کیا جائے تاکہ حادثات میں کمی لائی جاسکےاور ہلکی گاڑیوں کت لئے بھی وہاں جانا آسان ہو

۴ ۔ موجودہ تمام ناظمین کو فارع کرکے اختیارات متعلقہ محکموں کو تفویص کئے جائیں کہ ان غیر ضروری ناظمین کی موجود گی میں سارے فنڈ مفت میں غائب ہوگئے

۵ ۔ دور دراز اور پہاڑی سڑکوں کے لئے درمیانی سائز کے ڈوزر خرید کر سی ۔ اینڈ ۔ ڈبلیو کے حوالہ کئے جائیں کہ وہ تمام سڑکوں کی مرمت بروقت کریں اور کمزوری پر سزا دیجائے اور ان پر ایک با اختیار انسپکٹر مقرر کیا جائے

۶ ۔ ان مرمتی اور توسیعی کاموں کے لئے کافی مقدار میں فنڈ مختص کئے جائیں جب سوات کے لئے ایکسپریس وے بنانے کے لئے وافر فنڈ موجود ہے مردان، بنوں ، نوشہرہ کے لئے فنڈ کی کوئی کمی نہ تھی تو چترال کے سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے کچھ فنڈ دستیاب کیوں نہیں ہے;238; سوال جواب طلب ہے چترال کے سڑکوں کی حالت کو تسلی بخش حد تک بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے اور یہ سیاحت کی ترقی کے لئے بنیادی چیز ہے

۷ ۔ تورکہو روڈ کی تعمیر کا کام تیز تر کیا جائے کہ یہ پچھلی صدی میں شروع ہوا تھا اور ا بھی تک اس کا نصف سے زیادہ کام باقی ہے بیشک بونی شاگرام، بونی مستوج، چترال گرم چشمہ، سڑک بلیک ٹاپنگ کے محتاج ہیں اور ان کا بنانا لازمی ہے مگر دور وادیوں کی سڑکوں کو کھلا یعنی کم از کم بیس فٹ چوڑا سڑک بناکر ان کو maintainرکھا جائے ان کو پختہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ان وادیوں کی قدرتی حالت کو برقرار رکھا جائے کہ یہ سیاحت کے سلسلے میں کچا رکھنا ہی سب کے مفاد میں ہے سڑکوں کی اس خراب حالت پر اس وقت شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اگر چترال کی سڑکو ں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو تنگ آمد بجنگ آمد والی بات ہو سکتی ہے


شیئر کریں: