Chitral Times

Apr 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“گلدستہ آہل بیت آطہار”سے کچھ حوالات…….. محمد آمین گرم چشمہ

Posted on
شیئر کریں:

گلدستہ آہل بیت آطہار مشہور و معروف عالم دین مولانا طارق جمیل صاحب کی تصنیف ہے جو حال ھی میں جامعۃ الحسنین پاکستا ن سے شائع ہوچکی ھے۔اس دلچسب کتاب میں مولانا صاحب نے بڑی خوبصورتی سے فضائل آہل بیت کو قرآن کریم،آحادیث مبارکہ اور تاریخ پر مبنی شوا ہد سےبیاں کیا ہے۔اور اسے گلد ستہ آہل بیت آطہار کے نام سے منسوب کیاھے۔

یہ شاہکار کتاب مختلیف بابوں میں تقسیم ھے۔باب نمبر میں آہل بیت کے فضائل پر قرآن و حدیث کی بناد پر روشنی ڈالی گئی ھے۔باب دوم میں آزواج مطہرات کا تذکرہ ھے تیسرے باب میں صاحبزادیوں کا تذکرہ ھے جبکہ چھوتھا باب آھل بیت اطہار کی سیرت و مناقب پر مبنی ھے۔اس باب میں شیعہ اثناعشری اسلام کے بارہ ائیمہ اطہار کے علاوہ حضرت عبدالللہ،حضرت نفیس زکریہ ،حضرتذید شہید اور حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق کا تذکرہ ھے۔ لہذا قرائین اور آہل بیت آطہار سے محبت رکھنے والوں کے لیے گلدستہ اھل بیت سے کچھ اقتباس پیش خدمت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے نسل کو تمام نسلوں سے اعلی اور افضل بنایا آپؐ کے نسب کو سب سے اہم نسب بنایا اس طرح اپ کے اولاد کو بھی سب سے عالی نسب ،سب سے عالی حسب اور سب سے عالی خاندان بنایا۔ اللہ پاک نے آپؐ کی نسل اور آپ کی آولاد پر ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا ھےاور اللہ کے نبیؐ نے وہی دورد ہمیں نماز میں سکھایا۔آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں کا نسب بیٹوں کے زریعہ سے چلتا ھے اور میرا نسب ،میری حسب اور میری اولاد چلے گی جناب فاطمہؑ اور ان کی نسل سے۔اور فرمایا قیامت کے دن ہرتعلق اور نسب ختم ہو جائے گا سوائے میرے نسب اور تعلق کے (یعنی یہ تعلق اور رشتہ آخرت میں قائم رہے گا اور نفع بخش ثابت ھوگا۔

حضرت جناب ام سلمہ سے روایت ھے کہ ایک مرتبہ رسول خدا نے جناب فاطمہ سے کہا اپنے شوہر اور دونوں صاحبزادوں کو بلاؤ وہ ان کو بلائیں حضورؐ نے ان پر اپنی چادر مبارک ڈالدیا اور پھر فرمایا ؛اے اللہ یہ آل محمد ہیں آپ آل محمد پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماے جیسا اپ نے جناب ابراہیم پر نازل فرمائی تھی۔بیشک آپ قابل تعریف اور بزرگی والے ھیں۔کیونکہ اھل بیت آطہار کی پاکیزگی اورپاکی کے حوالے سے ایت ام الومینین حضرت ام سلمہ کے گھر ھی میں نازل ھوئی تھی۔۔

آپﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ جس نے میرے اولاد پر احسان کیا اور وہ اس محسن کے احسان کا بدلہ دینے پر قادر نہ ہوسکی تو اس احسان کرنے والے کا احسان بروز قیامت خود ادا کروں گا۔جناب علی شیر خدا،حسنین کریمین اور جناب فاطمہکے فضائل ان گنت ھیں جیسا کہ نبیؐ کا ارشاد ہے کہ علی جنت میں تیرا گھر میرے گھرکے سامنے ہوگا ،فاطمہ جنت کے خواتین کی سردار جبکہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ھیں۔مذیدآپؐ نے فرمایا اپنے اولاد کو میری اورمیرے اولاد سے محبت سکھاو اور انہیں قران کی تعلیم دو۔

اہل بیت اطہار کے حوالے سے حدیث ثقلین بھی بہت اہمیت کا حامل ھے جیسا کہ حضرت ذید بن ارقم سے روایت ھے کہ رسولؐ نے خم نامی تالاب کے پاس خطبہ دینے کے یے کھڑے ھوئے اور فرمایا ،،میں تمہارے درمیان دو بھاری (قیمتی)چیزین چھوڑ کر جارہا ھوں ان میں پہلی اللہ کی کتاب ھے اس میں ہدایت و روشنی ھیں لہذا تم اللہ کی کتاب کو پکڑ لو پھر دوسری چیز کا زکر کرتے ھوئے فرمایا اور میرے اہل بیت ،میں تمہں اپنے آھل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ھوں میں تمہیں آھل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ھوں۔

حب آہل بیتؑ اتنی اہم ھے کہ امام شافعینے کہا ھے میں نبیؐ کے آہل بیت سے محبت رکھتا ھوں اور اس کو واجبات دین میں سے سمجھتا ھوں ۔اگر حسن اور حسین سے محبت کا نام رافضیت ھے تو جنس و انس گواہ ھیں میں بھی رافضی ھوں۔آل رسول کی محبت میرا زریعہ نجات ھے اور وہی حضرات اللہ کے حضور میرا وسیلہ ھیں ۔میں امید کرتا ھوں کہ کل قیامت کے دن انہی کے وسیلے سے میرا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیاجائے گا۔اس کالم میں ہم آیمہ آھل بیت آطہار میں سے حضرت امام رضا (جو شیعہ آثناعشری اسلام کے ساتویں امام ہیں) کے کچھ عظمت و فضائیل بیاں کرنے کی کوشش کریں گے۔

آپ کا نام علی تھا اور جناب امام موسی کاظم کے صاحبزادے تھے۔آپ کو عمدہ صفات کئ پیش نظر بہت سے القاب سے نوازا گیا تھا تاہم اپ کے چند مشہور القاب صابر،ذکی،ولی اور آپ،،رضا،،لقب سے مشہور ھوئے اس مبارک لقب کا وجہ تسمیہ یہی تھاکہ آپ اللہ سبحانہ اور اس کے رسولؐ کے شریعت پر اپنے ظاہرو باطں سے راضی ھو چکے تھے اللہ معتال بھی آپ سے راضی تھا اور لوگ بھی راضی تھے۔مخالف و موافق (مجموعی طور پر ) سب آپؑ سے راضی تھے۔آپؑ 152ھجری کو مدینہ میں پیدا ھوئے 203ہجری میں مشہد میں وفات پایا اور واقعہ زہر دینے سے ھوا – آپ کا روضہ مبارک مشہد ،ایران، میں ھے۔

جہاں اپ عالی نسب تھے وھاں آپ بلند پایہ عالم اور صاحب فضل و کمال اور وقت کے امام تھے۔ابراہیم بن عباس کہتا ھے میں آپ سے بڑا عالم کوئی نیھں دیکھا۔آپ کا فیض آحادیث عام ھوا کہ بہت سارے حضرات نے آپ سے آحادیث نقل کی تھی اپؑ کو آحادیث نبویﷺ کی تحصیل و اشاعت میں رغبت تھے اور اس طرح تفسیر قرآن پر بھی آپ کو عبور تھا اور آیات کی بہت عمدہ اورعام فہم میں تفسیر بیان فرمایا کرتے تھے۔

جناب امام عا لی مقام کی فضلیت کا انداذہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ھے کہ عباسی خلیفہ مامون الرشید نے امام مقدس کو اپنی جگہ ولی عہد مقرر کیاتھا لیکں امام عالی مقام مامون کے زمانے ہی میں انتقال کرگیاتھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سارے فضلیتوں سے نوازا تھا اور نہایت بلند شان واعلی مقام عطا فرمایا تھا۔آپ آہلبیت آطہار کی جلیل قدر ،فضل کمال ہستی اورمحبوب زمانہ شخصیت تھے لوگوں کے دلوں میں آپ کی بڑی قدرو منزلت تھی مامون الرشید نے آپ کے بارے میں کہاتھا اس وقت روئے زمیں پر ان سے زیادہ فضلیت والا،زیادہ تقوی والا،زیادہ زہد والا اور عوام و خاص میں اپ سے زیادہ محبوب کوئی شخص نیہں ھے۔آپ کو یہ فضل و اعزاز بھی حاصل ھے کہ تصوف کے جلیل و قدر شیخ .کرخی آپ کے ہاتھوں اسلام قبول کیاتھا۔عباسی دور کے مشہور شاعر ابونواس نے آپ کی خدمت میں یہ شعرعرض کیا تھا
،،مجھے دراصل ایسے امام کی تعریف کرنے کا طریقہ ہی نیہں اتا جس کے والد انحضرت ﷺ کے خادم جناب جبرائیل تھے۔
آپ اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب اور اولیاءاللہ کے امام و پیشواتھے اور بہت سے کرامات آپ سے ظہور ھوئے جیسا کہ

ایک دفعہ آپ ایک ایسے جگہ تشریف لے گئے جہاں ہر طرف درندے ھی درندے تھے آپ ان کے درمیان چلتے پھرتے رہے مگر کسی درندے نے آپ کو کچھ نیہں کہا بلکہ آپ کو دیکھ کر وہ سب اپنے دموں کے بال وہی زمین پہ بیٹھ گئے ۔آپ فردا فردا ان میں سے ہر ایک کے پاس گیا حیرت کی بات یہ ھے کہ جب اپ ان میں سے کسی کے پاس جاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر ایسے دم ہلانے لگتا جیسے کہ پالتو جانور اپنے مالک کو دیکھ کر دم ہلانے لگتا ھے۔


شیئر کریں: