Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال کاآمن اولین ترجیح، منشیات کی لعنت سے علاقے کو پاک کیا جائیگا…ڈی پی اووسیم

    August 9, 2019 at 6:20 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے نئے ڈی پی او وسیم ریاض نے کہا ہے ۔ کہ چترال کا امن اُن کی اولین ترجیح ہے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ چترال ایک پر امن ضلع ہے ۔ اور لوگ بھی اسے ایک پُر امن علاقے کے نام سے جانتے ہیں ۔ اور اسے پُر امن ہی رہنا چاہیے ۔ وہ چترال کو اپنا گھر سمجھتے ہیں ۔ اُن سے جتنا بھی ہو سکے ۔ عوام کو سہولیات دینے اور اُن کے مسائل حل کرنے کی اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدر پریس کلب چترال ظہیرالدین کی قیادت میں اُن کے آفس میں صحافیوں سے ایک تعارفی ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں عوام کے ساتھ رابطے اور میل جول کو انتہائی اہمیت دیتا ہوں ۔ اور عوام سے رابطے بحال رکھنے میں صحافیوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ اور میں نے بطور ایس ایس پی پشاور میں تعینات کے دوران بھی صحافیوں کے بہت زیادہ قریب رہا ۔ کیونکہ صحافی انتہائی اہم سٹیک ہولڈر ہیں ۔ انہوں نے کہا اچھا پولیس آفیسر وہ ہے ۔ جو صرف اپنے اسٹاف کی باتوں پر ہی اکتفا نہ کرے ۔ بلکہ غیر جانبدار ذرائع سے بھی معلومات حاصل کرے ۔ تاکہ عوام کے مسائل کے بارے میں حقیقی معنوں میں آگاہی ہو ۔ اور کسی کی مدد کی جا سکے ۔ ڈی پی او نے کہا ۔ کہ اداروں میں کمزوری اور کو تہیاں ہو سکتی ہیں ۔ جن کی اصلاح کیلئے صحافی براہ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔ مجھے اس سے خوشی ہوگی ۔ ملاقات میں چترال میں مختلف کمیونٹی کی باہمی بھائی چارے اور ایک دوسرے کے احترام کو مثالی قرار دیا گیا ۔ تاہم اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ چترال کے لوگوں کو ہر گز غافل نہیں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ شر پسند عناصر کسی بھی مو قع سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ ڈی پی او نے کہا ۔ کہ وہ حالات کو نارمل رکھنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ بے جا سختی عوام میں منفی رویوں کو جنم دیتا ہے ۔ تاہم اس کا مقصد یہ بھی نہیں ۔ کہ ہم اپنے کام اور ذمہ داریوں سے غافل ہیں ۔ کسی کو بھی فرقہ ورانہ رائے کے اظہار کی اجازت نہیں ہے ۔ اور ایسے لوگ ملک اور عوام دونوں کے دشمن ہیں ۔ جن کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا ۔ وسیم فیاض نے کہا ۔ کہ منشیات کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی ۔ اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے گی ۔ تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچایا جاسکے . انہوں نے چترال میں خودکشی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اس سلسلے میں تیکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر تفصیلی تفتیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ چترال کے ایسے تمام سانحات اُنہیں خودکشی کے اقدامات نہیں لگتے ۔ بلکہ اُنہیں ایسا ظاہر کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس حوالے سے 2015سے تاحال ایک تفصیلی ڈیٹا جمع کرکے اس قبیح فعل کو روکنے کے سلسلے میں آگہی پھیلانے سے متعلق بھی رائے کا اظہار کیا ۔ اور کہا کہ اس سے خود کُشی کے تدارک میں مدد ملے گی ۔ ڈی پی او نے نوعمر موٹرساءکل سواروں میں آگہی پھیلانے ، ہیلمٹ کے استعمال اور تیز رفتاری سے بچنے کے لئے بھی اقدامات کا ذکر کیا ۔ جبکہ عید کے دنوں میں سیاحوں کو ہر ممکن سہولت دینے، چیک پوسٹوں پر تربیت یافتہ خوش اخلاق جوان متعین کرکے سیاح دوست ماحول بنانے ، اور ٹریفک پلان کی تیاری کے سلسلے میں بات کی ۔ اور کہا ۔ کہ عید کے بعد ٹریفک آفیسران اور جوانوں کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں انعامات اور سرٹفیکیٹس دیے جائیں گے ۔ چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے کہا ۔ کہ پریس کلب کے صحافی بلا امتیاز صحافت پر یقین رکھتے ہیں ۔ تاہم چترال کے امن و امان اور اس کے ثقافتی اقدار پرکمپرومائز نہیں کیا جاتا ۔ اور نہ تفرقہ بازی کی چترال کی صحافت میں کوئی جگہ ہے ۔ یہاں کے تمام کمیونٹیز سب محترم ہیں اور صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں ۔ جن میں دراڑ پیدا کرنے والا حکومت ، عوام اور صحافیوں سب کا دشمن ہے ۔ اس لئے ایسے لوگوں کو شہہ نہیں دی جاتی ۔ صدر پریس کلب نے ڈی پی او کو پریس کلب آنے کی دعوت دی ۔ جسے انہوں نے قبول کیا ۔

  • error: Content is protected !!