Chitral Times

Oct 15, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عالمی برسٹ فیڈنگ ویک منانے اوراگہی کے سلسلے میں‌چترال میں واک اورسمینار

    August 5, 2019 at 8:44 pm

    چترال (محکم الدین) بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے حوالے سے عالمی برسٹ فیڈنگ ویک منانے اور لوگوں میں اس کی اہمیت اُجاگر کرنے کیلئے یونیسف اور حکومت خیبر پختونخوا کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کی زیر نگرانی واک اور سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں علماء ِ ڈاکٹرز، ایل ایچ ویز، ایل ایچ ڈبلیو ز، نیوٹریشنز اور ہیلتھ سے متعلق سوشل ایکٹی وسٹ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈی ایچ او آفس چترال میں تمام شرکاء جمع ہوئے۔ اور قریبی ہوٹل تک واک کیا۔ اس موقع پر مردو خواتین شرکاء نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جس میں چھاتی کے دودھ کی اہمیت اور فوائد کے حوالے سے معلومات درج تھیں۔ بریسٹ فیڈنگ ویک کے سلسلے میں ہوٹل میں سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر فیاض قریشی، ڈی اایچ او چترال شہزادہ حیدر الملک،چلڈرن سپشلسٹ ڈاکٹر گلزار احمد، پروفیسر عبد الجمیل، خطیب فضل مولی اور مولانا اسرار الدین الہلال نے حاضرین سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر گلزار احمد نے سائنسی نقطہ نگاہ میں چھاتی کے دودھ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور کہا۔ کہ ماؤں کو بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اسے دودھ پلانا چاہیے۔ ماں کا دودھ بچے کو نارمل رکھتا ہے۔ قوت مدافعت مضبوط بناتی ہے، بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا کرتی ہے۔ ماں کا دودھ تمام دیگر مصنوعی دودھ کے مقابلے میں بیکٹیریے اور جراثیم سے پاک ہو تا ہے۔ ماں کے دودھ کی اہمیت ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے ماؤں کو ہدایت کی۔ کہ وہ روزانہ آٹھ سے دس گلاس پانی پئیں۔ اور اچھی متوازن خوراک استعمال کریں۔ تاکہ بچے کو بھی متوازن خوراک ملے۔ انہوں نے کہا۔ کہ بچے کیلئے ماں کے دودھ سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہے۔ اکثر بچوں کو گائے کے دودھ اور خشک دودھ سے الرجی ہوتی ہے۔ جن کا بچے کی صحت پر بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ اس لئے برسٹ فیڈنگ اور بچے کی صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ماں کا دودھ پینا بچے کا حق ہے۔ اُسے جبرا نہیں چھینا جا سکتا۔ بچے والے ملازم ماؤں کو کام کے دوران اپنے بچے کو دودھ پلانے کی قانون اجازت دیتا ہے۔ اور ایسی مائیں اپنے بچوں کو دفتر میں کام کے دوران اپنے ساتھ رکھ سکتی ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے۔ کہ اداروں میں اُن کیلئے ڈے کئیر سنٹرز جیسے انتظام موجود ہوں۔ ڈی ایچ او حیدرالملک نے اپنے خطاب میں کہا۔ کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بریسٹ فیڈنگ کی شرح ساٹھ فیصد ہے۔ اس لئے ہماری کوشش ہونی چاہیے۔ کہ ہم اس شرح کو اسی اور سو فیصد تک بڑھائیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ پہلے کے مقابلے میں اب اس شرح میں تقریبا ڈھائی فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ بہت اچھی بات ہے۔ انہوں نے مرودوں پر زور دیا۔ کہ دودھ پلانے والی ماؤں کی صحت بہتر رکھنے کیلئے خوراک کی بہتری پر توجہ دی جائے انہوں نے تمام شرکاء خصوصا ایل ایچ ویز، ایل ایچ ڈبلیوز آغاخان ہیلتھ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، یونیسیف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تما شرکاء سے اپیل کی کہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا یہ پیغام گھر پہنچایا جائے۔ سمینار سے ممتاز علماء خطیب فضل مولی، مولانا اسرار الدین الہلال، پروفیسر عبدالجمیل نے خطاب کرتے ہوئے ماؤں کو دو سال تک اپے بچوں کو دودھ پلانے کے عمل کو قرآن پاک کا حکم قرار دیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ ماں کا دودھ نہ صرف مکمل غذا ہے۔ بلکہ یہ محفوظ اور مفید غذا ہے۔ انہوں نے اسلام کی روشنی میں ہدایت کی۔ کہ بچوں کی جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی پرورش پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے ماؤں کو پاک اور صاف رہنے، خوراک کے ساتھ ساتھ بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے روحانیت کا خیال رکھنے کی بھی تاکید کی۔ سمینار میں اے کے ایچ ایس پی کی طرف سے انور بیگ نے اپنی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات سے آگا ہ کیا۔ اور برسٹ فیڈنگ پراجیکٹ و ایکسس پراجیکٹ کے تحت آگہی دینے کے سلسلے میں آخا خان ہیلتھ کی کوششوں کا ذکر کیا۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر فیاض قریشی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ ہم بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے آج بات کر رہے ہیں۔ جبکہ اللہ پاک نے چودہ سو سال پہلے اس سلسلے میں اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ گو کہ آج کی تحقیق کافی آگے جا چکی ہے۔ لیکن قرآن کے ریسرچ کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ ہمیں قرآن پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اس موقع پر چترال میں ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت کے حوالے سے سوالات اُٹھائے گئے۔ جن کے ڈی ایچ او اور اے اے سی چترال نے جوابات دیے۔

  • error: Content is protected !!