Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال کا غالب……….تحریر:نورالھدیٰ یفتالیٰ

    August 4, 2019 at 8:22 pm

    افضل اللہ افضل جیسا نام ویسا ہی افضل
    چترال وہ مردم خیز سر زمین ہے۔جس نے اپنی کوک سے ایسےہیروں کو جنم دیا ہے جو ہر میدان ہر شعبے میں چترال کا نام روشن کئے، ۔کسی نے تعلیم کے میدان میں اس سر زمین کو عزت بخشی تو کسی نے کھیل کے میدان میں سرخورو کیا۔ اور ا یسے ہی ایک ہیرا جس نے اپنی چھپی قابلیت اور دل چھو لینےوالی شاعری سے سرزمین چترال سمیت گلگت بلتستان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔جس کی شاعری نے چترال کی ثقافت کو زندہ رکھا ہے۔جب بھی کوئی اس کی شاعری سنتے ہیں وہ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ شاید یہ غزل میرے ذات سے منصوب ہے ،ہر عمر کے لوگ اس کی شاعری کے دلدادہ ہیں۔

    اپنے نام کی طرح افضل اللہ افضل ٰ شاعری بھی افضل طریقے سےکرتے ہیں ان کی شاعری کا کو ثانی نہیں ہے۔

    ۱۹۵۲ میں پیدا ہونے والے افضل اللہ افضل کےاباو اجداد افغانستان سے ہوتے ہوے داریل اور چترال میں آ کر آباد ہوئے اور یہ ہی پر مستقل قیام اختیار کیےافضل صاحب کہتے ہیں کہ میر ے مرحوم والد نعمت اللہ کوگھوڑ سواری اور چترالی ثقافت سے بہت زیادہ لگاو تھا۔ بچپن میں والد صاحب کےساتھ امیر گل امیر صاحب کی شاعری خود ان کی ا پنی زبانی سنا کرتا تھا۔لیکن عمر کی نا پختگی کیوجہ سے ساری شاعری سر کے اوپر سے باونسر ہوتے تھے۔لیکن پھر بھی اس محفل میں شرکت کر نا لازمی تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ عمر میں سنجیدہ پن پیدا ہوتا گیا،اور امیر گل امیر صاحب کی شاعری کا دلدادہ ہوتا گیا اور امیر گل کی دل چھو لینے والی شاعری نے دل میں ہلچل پیدا کر دی۔
    ہشتم کلاس تک افضل اللہ افضل کا تعلیم کے ساتھ خوب دوستی رہا اورافضل نے بھی علم دوستی کا خوب ساتھ دیا،دل نے ضد شروع کی ہنر سیکھنے کی۱۹۶۶ میں ہشتم کلاس کو اللہ حافظ کہہ کر پھولوں کا شہر پشاور کا رخت سفر باندھ لیا پشاور پہنچ کر۲۷ رجمنٹ کے یونیفارم سلائی کرنے کا کام شروع کیا۔

    بڑے بھائی کو جب چھوٹے افضل کی حالات کا علم ہوا تو وہ شہر قاید آنے کی تار بھیج دی یہ پیغام موصول ہوتے ہی شہر قاید کا رخ کیا اس وقت کراچی خوشحال امن کاگہوارہ تھا ہر طرف امن اور سکوں تھا۔قائد کی شہرمیں طرز حیات ہی بدل گئی بڑے ذہن کے لوگ بڑا شہر خوب ساتھ نبھایا۔
    ۱۹۷۴میں اس وقت کراچی کے معروف مولوی و نعت خوان مولانا محمد شفیع اکڑوی کے نعت خوانی کے محفل میں شرکت کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔اسی دوران قسمت نے مولانا صاحب کے قریب جانے کا موقع فراہم کیا، میری نعت خوانی سے عشق کو دیکھ کر مولانا صاحب نے نعت پیش کرنے کا موقع دیا۔پی این ٹی کالونی کراچی میں اپنی زندگی کا پہلا نعت اس بڑی نعت خوانی کے محفل میں پیش کیا، خوب داد حاصل کی اور مولانا محمد شفیع اکڑوی صاحب سے اس وقت دو روپے بھی بطور انعام حاصل کی۔اس حوصلہ افزائی نے مزید ہمت بخشی۔

    کراچی میں زندگی کے ۵ سال گزارنے کے بعد۱۹۷۶ میں دل نے چھترار وطن واپس جانے کی ضد کی۔یہ ہی زندگی کے وہ سنہری دن تھے۔
    اس زمانے میں چترال میں پائے کے شاعر موجود تھے۔جب چترال آ کر ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس کی فرمایش پر اس کی عشق کی کہانی پر شاعری کرنے کا موقع ملا۔

    ۱۹۸۲ میں شاہ مراد بیگ صاحب کی کلام کی اصلاح کرنے کا موقع میسر ہوا ۔اس کلام کی اصلاح کرتے ہوئے افضل کی شاعری میں خوب نکھار پیدا ہوا اور اسے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ ایک شاعری کا استاد بن چکا ہے۔

    یہ ایک کایناتی حقیقت ہے کہ انسان دنیا میں زندہ رہنے کے لیے محنت جدوجہد کرتا ہے ۔محض شاعری سے پیٹ نہیں بھرتا روز معاش کے واسطے اسن ۱۹۸۸ میں ٓغا خان رورل سپورٹ پروگرام چترال افس میں ٹیلی فون اپریٹر کا ملازمت اختیار کی،اس وقت ملازمت میں کوئی اتنی دباو بھی نہ تھا صرف رات کو بیٹھنا تھا اور فون کال کے پیغامات کو اگے بھیجنا تھا۔ رات کو اکیلے بیٹھ کر ایک ڈایری میں اپنی شاعری بھی لکھا کرتا تھا۔جب ایک دن اپنی شاعری کی ڈایری دیکھا تو وہ ایک مکمل کتاب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

    دل میں ایک امنگ سی جھاگی کہ کیوں نہ اپنی اس کتاب کو اصلاح کے واسطے کسی شاعر کو دے دوں اور اک دم سے شھزادہ عزیز الدین بیغش ٰ صاحب کا نام زہن میں آیا جو اسو قت اعلیٰ درجے کا شاعر تھا۔اور سیدھا جا کے اپنی ڈایری مرحوم شھزادہ (میرے استاد) کے حوالے کیا۔اس ڈایری کو دیکھ کر میرے محسن میرے استاد نےاس شاعری کی اصلاح کرنے لئے کچھ وقت مانگا ۔اور اپنے شاعری کا صرف ایک لائن مجھے سنا دیا۔ جو اس وقت میرے لیے وہ لمحہ باعث فخر تھا۔

    بیغشٰ صاحب:۔
    آوا انواز رے کہو ریم شالاگو مہ شانی گویانِ
    شھزادہ عریز الدین بیغشٰ (مرحوم) میرے استاد نے وہ ڈایری اصلاح کر کے مجھے واپس تو کردی لیکن دنیا کی اس سفر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ حافظ کہہ دیا۔

    افضلَ آوا تروشنیو بچین نس ناسو دریا بیتی گوم
    آوا یزیدو چقہہ قاق چھو چھو مشکان نو کوروم

    ایک شاعر کے لیے سب سے مایوسی اور مشکل لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسکی دل سے نکلی ہوئی آہ کو محسوس کرنے والا ان کی الفاظ کی چناو کا قدر کرنے والا ساتھ چھوڑ دے۔اپنے محسن کی جدائی کی فریاد لے کرمیں چشتی صاحب کے پاس گیا کہ محترم جب سے میرے محسن اس دنیا سے روٹ گئے ہیں تب سے میرے شاعری میں وزن نہیں رہا ہے، میرے الفاظ میرا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں۔کس شے کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔کیا کوئی مداوا ہے؟
    افضل کی اس فریاد پرچشتی صاحب فرمانے لگے۔
    افضل ایک بات ہمیشہ یاد رکھو!
    استاد کبھی شاگرد کے لیے غزل نہیں لکھتا، استاد شاگرد کی شاعری کا اصلاح کرتا ہے۔تو اگر اپنی شاعری میں وزن پیدا کرنا چاہتاہے۔تو میں تجھے استادو ں کے استاد محمد عرفا ن عرفان کے حوالے کرتا ہوں۔
    جب سے افضل اللہ افضل محمد عرفا ن عرفان کی صحبت میں بٹھیناشروع کیا تب سے اس کی شاعری میں نکھار اور وزن پیدا ہوتا گیا،افضل کی شاعری میں ہمیشہ ایک پیغام ملتا ہے۔جو محبت اور خلوص کا درس ملتا ہے۔
    افضل صاحب کہتے ہیں کہ میرے ایک غزل ِ آچی گوسہ نوَِ کی پذرائی کے بجائے زبردست مخالفت بھی ہوئی اور اس غزل کو کافی گھما پھرا کر بھی پیش کیا گیا جو اس وقت میرے لیے کافی دکھ کا لمحہ تھا۔لیکن وقت سب کچھ بھولا دیتا ہے۔

    افضل کے نزدیک جس سے عشق ہے اس سے محبت بھی ہوتی ہے،لیکن اپنے کام سے محبت کا نام عشق ہے۔افضل اللہ افضل کہتے ہیں کہ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اپنی نصیب سے خوش ہیں۔اور کاتب سے کیا گلہ جو تقسیم کرنے والاور دینے والا ہے بس انسان کو شکر کرنے کا توفیق ہو۔
    غریبی بادشاہی ہے نیند تو سکوں کی میسر ہوتی ہے۔
    ۱۹۹۶ کا سال شرمیلے افضل کے لیے ایک نا قابل فراموش لمحہ تھا،جب ٹاون ہال چترال میں اسکی ایک غزل کو اتنی پذرائی ملی کہ پورا ہال کھڑے ہوکر داد دی،ایک شاعر کے لیے یہ ہی وہ باعث ٖفخر لمحہ ہوتا ہے جب اس کی الفاظ کو سن کر سب لوگ اپنے اپنے نشت سے کھڑے ہوتے ہیں۔

    غزل:
    ؐچیھرو مجنون کیہ رے آسمان کیشیمان
    ٔژندہ پرودئی ای صحرائی نو لیتام
    ٔغمٰ دورانو جامہ مست ہونی سف
    ٔ عشق جنون نشانی نو لیتام
    پھیک سمندر کا بانی افضل اللہ افضل تبدیلی سرکار سے خوش ہیں، کہتے ہیں کئی صدیوں تک اس ملک کو لوٹنے کے اب جا کے اس ملک کا لگام ایک خودار و دیانت دار انسان کے ہاتھ میں آئی ہے،آنے والے نسلوں کو مدینے کی طرز کا حکومت دیکھنے کو ملے گا۔
    اگر جمہوریت کا مطلب فرد واحد کا ترقی کرنا اور غریب کا غریب ہونا ہے۔تواس سے امریت ہزار درجہ بہتر ہے کیونکہ کم از کم ایک متوازن نظام تو ہوگی۔جنر ل مشرف صاحب نے چترالی پھکول کو پوری دنیا میں عزت دی اور بین الا اقوامی سطح پر چترالی ثقافت کو عزت بخشی اور ہماری سر کا تاج ہماری پہچان چھتراری پھکول کو امن کا نشان تصور کیا۔

    موجودہ شعرا میں غلام رسول بیقرار ایک معقول شاعر ہے اسکی شاعری میں ایک احساس اور پیغام ملتاہے۔جبکہ نوجوان شعرا کا رہبر فیضان علی فیضان ہے۔جو مستقبل کا ایک روشن ستارہ ہے۔
    نوجوان نسل کے نام اپنے پیغام میں پھیک سمندر نے کہا کہ،ہم سب کو ملکر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اگے جانا ہے،محبت اور خلوص بانٹیے اس سے محبت زیادہ ہوگی،زمین تقسیم کرنے سے ثقافت تقسیم نہ ہو گی۔زمین بیشک تقسیم کریں ،ہماری ثقافت تقسیم نہ کریں۔
    محبت میرا پیغام ہے،کھوارلباس ہماری پہچان ہے۔

    افضل ٰ کا سب سے پسندیدہ شعر۔

    ٌدنیا شاہانن تاج محل مہ حقہ شہ کھوٹو جازیر
    آوا پیدا کورا بیسام یہہ شہ جازیر کی نو بیسیر

  • error: Content is protected !!