Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • محکمہ جنگلات کی کارکردگی حوالے صوبائی وزیرجنگلی حیات کی پریس بریفنگ

    August 1, 2019 at 9:43 pm

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)خیبر پختونخواحکومت جنگلات کی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کرنے اور جنگلی حیات کو تحفظ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے حکومت کی جانب سے شروع کردہ بلین ٹری سونامی پروجیکٹ ایک منفرد اور مثالی پروجیکٹ جو دنیا کا چوتھا بڑا پروجیکٹ شمار ہو رہا ہے اس پروجیکٹ کا آغاز نومبر 2014 میں ہوا جو جون 2020 تک جاری رہے گا۔پر وجیکٹ کے تحت 230,000 ہزار ایکڑ اراضی پر پودے او اْگائے جائیں گے اور تقریبا 14509 (Enclosures)انکلوژر قائم کیے گئے گئے جبکہ پروجیکٹ میں گرین جابز (سبز روزگار) کے تحت پانچ لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر جنگلات اور ماحولیات اور جنگلی حیات سید محمد اشتیاق ارمر اپنے محکمے کی اب تک کی کارکردگی کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات وتعلقات عامہ شوکت یوسفزائی پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا اس موقع پران کے ہمراہ سیکرٹری جنگلات شاہد اللہ اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
    صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت جنگلات کی ترقی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے جس کی بدولت صوبے میں 1208 ملین پودوں کا اضافہ کیا ہے جس سے جنگلات کے رقبے میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا اور شہری میدانی اور پہاڑی علاقوں میں اچھی پیش رفت اور بہتر کارکردگی سامنے آئی ہے اسی طرح بلین ٹری ایفارسٹیشن پروجیکٹ (10BTTP) منصوبہ شروع کیا ہے اس کی لاگت 27 بلین روپے ہے جو 20-2019 تا 2030 تک مکمل ہوگاجس میں ایک بلین بیچ بونے کا ہدف مقرر ہے۔
    انہوں نے کہا کہ محکمہ نے 543 ہیکڑ اراضی پر 117 قائم نرسریوں کے علاوہ 117 پرائیویٹ نرسریاں بھی قائم کی گئی ہیں جن میں 138.22 ملین پودے اگائے گئے۔
    انہوں نے کہا کہ 10BTTP پروجیکٹ کے تحت مختلف شہروں اور ضم شدہ اضلاع میں 16.994ہیکڑ اراضی پر پودوں کی بوائی کی گئی اس طرح کل 26 ملین پودے مفت تقسیم کئے گئے جبکہ آباد شدہ اور ضم شدہ اضلاع میں 1632 انکلوژر قائم کیے گئے ہیں جس میں 37 ملین پودوں کی پنیری تیار کی گی۔ اشتیاق ارمڑ نے مزید کہا 2ستمبر 2018 کو پلانٹ فار پاکستان ڈے منایا گیا اور اس موقع پر 1.2 ملین پودے تقسیم کئے گئے۔اسی طرح 29 فروری 2019 کو پلانٹ اے ٹری فار پاکستان ڈے منایا گیا جس کے تحت0.305ملین پودے مفت تقسیم کیے گئے جبکہ 24 مارچ 2019 کو پلانٹ فار خیبرپختونخوا منایا گیا جس میں 0.091 پودے تقسیم کئے گئے۔
    اشتیاق ارمڑ نے موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی کے بھیانک اثرات پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں اربن فارسٹری مہم کا انعقاد کیا گیا اور صوبے میں سکولوں, یونیورسٹیز شاہراہوں ہوٹلوں، نہروں کنارے, ہوسٹلز پٹرول پمپس ریلوے لائنز ز،پلازوں اس پر شجرکاری مہم کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا۔صوبائی وزیر نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ جنگلات میں باقاعدہ رینج پالیسی نافذ کی گئی۔
    اس کے علاوہ فارسٹری کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لئے 2060 دیہی ترقیاتی کمیٹیاں اور 200 ویمن آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا
    اشتیاق ارمڑنے ریونیو کے حوالے سے کہا کہ سال۔ 19-2018 میں 53.907 ملین روپے حکومتی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں اور سال 19-2018 میں فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں 717.164 ملین روپے جمع کئے گئے جبکہ اس عصہ میں موثر حکمت عملی کے ذریعے 19.968کیوبک فٹ غیرقانونی لکڑی قبضے میں لے کر ضبط کی گئی اور سال 19-2018 م میں جنگلات میں غیرقانونی طور پر نقل و حرکت میں ملوث 162 گاڑیوں کے خلاف قانونی کاروائی کرکے3.377ملین روپے بطور جرمانہ وصول کیا اور فورسٹ لاء کے تحت غیر قانونی کٹائی اور نقصانات میں ملوث 60 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا انہوں نے جنگلات کی حفاظت کے حوالے سے کہا کہ گلیات،ڈی آئی خان اور ملاکنڈ ریجن میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران غیر قانونی تجاوزات سے 141.468کنال سرکاری اراضی واگزار کی ہے سیروتفریح کے حوالے سے صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پشاور میں 29 ایکٹر رقبے پر چڑیا گھر کا قیام عمل میں لایا ہے جسے پاکستان کا سب سے بڑا چڑیا گھر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اسی طرح صوبہ بھر میں چھ نیشنل پارکس بھی تعمیر کیے گئے ہیں اور صوبے میں مارخور اور آئی بیکس پہاڑی بکرے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے
    انہوں نے کہا کہ مارخوروں کے شکار کیلئے چار پرمٹ جاری کیے گئے جس سے 342000 ڈالرز کی آمدنی ہوئی جبکہ آئی بیکس کے شکار کیلئے پانچ پرمٹ جاری کیے گئے جن میں غیر ملکیوں کے لئے 3 پرمٹ جاری ہوئے جس سے 9300 ڈالرز کی آمدن ہوئی اور مقامی شکاریوں کو دو پرمٹ جاری کرنے سے 0.25 ملین روپے کی آمدنی ہوئی اسی طرح جنگلی حیات کے جرم میں ملوث 3571 افراد کے خلاف کیس تیار کیے گئے اور جرمانوں کی مد میں 13.645 ملین روپے جمع کئے گئے صوبائی وزیر نے ماحولیات سے متعلق 556 صنعتی یونٹ کی مانیٹرنگ کی گئی جبکہ 89 پینے کے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے اور ان کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا اور مانیٹرنگ کی عرض سے بارہ سو دس یونٹوں کے دورے کیے گئے جبکہ 697 یونٹوں کو نوٹس جاری کیے گئے۔
    انہوں نے کہا کہ انوائرمنٹل ٹریبیونل بنایا گیا ہے اور انوائرنمٹل پروٹیکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں اور عوامی شعور کے لئے انوارمنٹل کلبز سکول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ نے پلاسٹک شاپنگ بیگ ختم کرنے کے لیے قابل تحلیل پلاسٹک بیگ متعارف کروائے اور مانیٹرنگ سسٹم کا اجراء کیا گیا صوبائی وزیر نے نے پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ کے حوالے سے کہا کہ فارسٹ سائنسز میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کا آغاز کیا گیا ہے 40 سالہ پرانا کورس عصرحاضرکے تقاضوں کے مطابق بنایا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ غیر قانونی طور پر پکڑئے گئے 37 شاہینوں کو بھی برآمد کر کے آزاد کیا گیا انہوں نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو ریسٹ ہاؤسزز، پرمٹس ٹمبر مافیا، آلودگی کے متعلق سوالوں کے جوابات بھی دیے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!