Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک سفر: تھوڑا جدید تھوڑا قدیم…….. تحریر:خالد محمود ساحر

Posted on
شیئر کریں:

آج کل کے سفر میں آسائشیں اتنی ذیادہ ہیں کہ یہ سفر کے زمرے میں نہیں آتا.
یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان سہولیات کے بغیر آج کے لوگ سفر کو ہمت بھی نہیں کرسکتے.
اب یہ سہولیات چترال میں بھی مکمل دستیاب ہیں.

اگر قدیم چترالی طرز سفر کا جائزہ لیا جائے تو یہ صحرائی عربوں کے طرز سے ملتا جلتا ہے.
قدیم عرب میں سفر کے لئے صحرائی اونٹ جبکہ قدیم چترال میں گھوڑے کا استعمال ہوتا تھا. سفر کا طرز ایک لیکن سفری اسباب مختلف
دونوں طرزوں میں جانوروں پر سفر کے علاوہ پیدل بھی سفر کرتے تھے لیکن ایک فرق یہ تھا کہ صحرائی اپنے ساتھ پوری سفر کے کھانے کا انتظام رکھتے تھے لیکن قدیم چترالیوں یہ طرز بہت کم تھا.ان کو جہاں ,جس جگہ اور جس گاؤں میں بھوک لگتی اس گاؤں کے کسی گھر کو مہمان نوازی کا موقع دے دیتے.

تنگدستی کا دور ہونے کے باوجود بھی مہمان نوازی میں کوئ کسر نہیں رکھی جاتی اور مہمان نوازی کا یہ دستور آج بھی قائم ہے.
آج بھی اگر آپ چترال کے کسی بھی گاؤں میں کسی کے بھی گھر مہمان جائیں گےتو خوب تواضع کی جائے گی.
اور یہی مہمان نوازی معاشرے میں چترالیوں کے تشخص کی وجہ بنی.
آج کا دود جدید ہے,لوگ جدید ہیں اور مہمان نوازی بھی
ہر گھر میں اگر گاڑی نہیں ہے تو موٹر سائیکل ضرور ہوتا ہے اور جدید نسل کا قدیم طرز سفر (پیدل سفر) کرنا ناممکن ہے اور یہ گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے.
کچھ دنوں پہلے ایک سفر نصیب ہوا جو قریباً تیس کلو میٹر کا تھا.
دل میں خیال تھا کہ وقت بھی ہے اور تجربے کا عمر بھی کیوں نہ یہ سفر قدیم طرز سے کیا جائے یعنی پیدل؟
اسی سوچ میں تھا کہ موٹر سائیکل کے ہارن کی آواز سنائی دی.
دوست موٹر سائیکل پر بیٹھا آوازیں دے رہا تھا,”آؤ گھر چھوڑ آتا ہوں”
چپ چاپ اس کے پاس گیا.
اس نے اسٹیرنگ مجھے تھمائی اور خود پیچھے بیٹھ گیا.
کہا چلا لو مجھے ٹھیک طریقے سے چلانی نہیں آتی واپسی پر کسی طرح لے آؤنگا ڈبل سواری مشکل ہے.
راستے میں سوچ رہا تھا کہ جو ارادہ کیا ہے اسے ضرور کرنا ہے..
دوست کو کسی بہانے سے واپس بھیج دیتا ہوں.
چار کلو میٹر چلنے کے بعد پٹرول پمپ پہنچ گئے پٹرول بھری دوست سے کہا کہ ہیاں سے واپس جاؤ مجھے یہاں سے وصول کرنے میرا چھوٹا بھائی آرہا ہے.
جس چیز کا ارادہ کیا تھا اسکا وقت آن پڑا تھا دوست وہاں سے جاچکا تھا صرف میں تھا اور منزل کو طے کرنے کی خواہش.
ارادہ کیا کہ جو بقایا راستہ ہے یعنی پچیس کلو میٹر سے ذیادہ کا راستہ وہ پیدل ہی طے کروں گا.کچھ تجربہ ہاتھ لگے یا نہ لگے دل کی خواہش تو پوری ہوگی.
گویا میں اس دنیا میں رہ کر ماضی کے لمحات جینا چاہتا تھا.
راستے میں کسی بھی جدید شے کا سہارا نہیں لوں گا اگر کسی نے گاڑی یا موٹر سائیکل روک لی تو کوئی بہانہ بناؤنگا لیکن کسی بھی قیمت میں یہ سفر اسی طرح جاری رکھونگا.
یوں ایک قدیمی سفر شروع ہوا.
ہر راہ گزر کو سلام کرنا اور اسکا مسکراہٹ بھرا جواب سن کر خوش ہونا,اس سے مصافحہ کرنا.راستے کے ساتھ اگے کھیتیوں کا لہرانا,ندیوں کا شور کرتے بہنا,پرندوں کا اڑنا اور چہچہانا,مویشیوں کی آوازیں,یہ سب نظارے قدرت کے شاہکار تھے.
دوپہر کی کڑی دھوپ بھی باد صبا سے کم نہ تھی.
یہ دلکش نظارے قدرت کی اکائی کا چیخ چیخ کر ثبوت دے رہی تھی.
گاڑی اور موٹر سائیکلوں نے لفٹ دی لیکن میں نے بہانا بنایا اور سفر جاری رکھی.
پہاڑوں کے بیچ بڑے ہوئے ہیں لیکن کبھی ان پہاڑوں کو اتنی شدت اور غور سے کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا اس دن دیکھا اور اور اس لطف کا بیاں ناممکن ہے.
آدھا سفر طے کرچکا تھا لیکن ہر قدم پہلا قدم معلوم ہوتا تھا.
راستے میں کئی جاننے والوں کی سلام دعا لی.
قدیم زمانہ بھی ایسا ہوتا ہوگا میرے ذہن میں خیال آیا.
وہ لوگ بھی ایسے ہی سفر کرتے ہونگے,آپس میں ملتے ہونگے,مصافحہ کرتے ہونگے,فطرت کے قریب رہ کر ان کو فخر ہوتا ہوگا,ان کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت ہوتا ہوگا,وہ اپنے عزیزوں رشتہ داروں سے ملکر خوش ہوتے ہونگے.
ان خیالوں میں تھا کی فون آگیا.
ایک رشتے دار کے گھر کے سامنے سے گزر ہوا راستے کے ساتھ ہی اسکا دکان تھا.
مجھے پیدل دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے میرے آگے پیچھے دیکھا اور کہا,
موٹر سائیکل پنکچر ہوگیا ہے؟
میں نے کہا نہیں
پٹرول ختم ہوگیا ہے؟
میں نے کہا کہ نہیں نہیں میں پیدل ہوں.
اس نے عجیب چہرہ بناتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں پیدل چلو میں تمھیں اپنے موٹر سائیکل میں گھر چھوڑ کر آتا ہوں.
میں نے بھی جدیدی عزت بحال رکھتے ہوئے بھائی کے آنے کا بہانہ بنایا اور اس سے احجازت مانگی.
منزل قریب تھی لیکن میری خواب کا صرف آدھا ہی تعبیر ہونا تھا.
گاؤن کے ایک دوست کی بارات وہاں پہنچی گاڑی روک کر بیٹھنے کی دعوت دی گئی.
اور میں دعوت بڑے ہی شوق سے قبول کرتا ہوں اس لئے اناً فناً گاڑی میں بیٹھ گیا.
قدیم سفر ختم شد
تیس منٹ کا سفر باقی تھا.
گاڑی کے سفر میں قدرت اور فطرت کا سامنا البتہ نہیں ہوتا لیکن لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے اور ان لوگوں میں شاید قدیم لوگ بھی ہو.
یعنی میرے پورے سفر کا کچھ حصہ قدیم طرز کا ہو اور باقی جدید.
جس گاڑی میں بیٹھا تھا اس کے پہلے سیٹ میں ڈرائیور کے ساتھ دو آدمی بیٹھے تھے جو منصب کے حساب سے معزز معلم یعنی استاد تھے.دوسرے سیٹ میں میں چار عورتیں اور نو عمر لڑکا بیٹھے تھے ان میں سے ایک عورت عمر رسیدہ تھی,اس سے پچھلی یعنی تیسری سیٹ پر میں اور میرے ہم عمر دو لڑکے بیٹھے تھے,ہمارے پیچھے کی سیٹ پر تین نوجوان بیٹھے ہوئے تھے.ایک پچیس تیس سال کا جوان آدمی گاڑی کی چھت پر بیٹھا تھا اور تیسری سیٹ پر بیٹھی بوڑھی عورت اس کی ماں تھی.
وہ بار بار اپنے بیٹے کو پکار رہی تھی.
“بیٹا ٹھیک سے پکڑنا
یا اللہ.
میرے بیٹے کو گرمی لگے گی.
اس کو دھوپ کی عادت نہیں ہے.”
حقیقت میں اس کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن ماں کا خیال تو ہر وقت اولاد پر ہی ہوتا ہے.
اگر اس ماں کا بس چلتا تو خود بیٹے کی جگہ گاڑی کی چھت پر بیٹھ جاتا اور اپنی سیٹ پر بیٹے کو بٹھا لیتا.
چونکہ گاڑی میں بیٹھتے وقت سفر کی دعا پڑھی تھی اس لئے بخیر عافیت بارات کے ہمراہ گاؤں پہنچ گئے.
جو سفر قدیم طرز میں دو گھنٹے میں طے ہوتا وہ سفر جدید طرز میں تیس منٹ میں طے کرلیا.
یعنی جدید طرز سے وقت کی بچت ہوتی ہے لیکن آج کا ہمارا سب سے بڑا بہانہ یہی ہے کہ “وقت نہیں ہے”
پورا سوچئیے


شیئر کریں: