Chitral Times

Aug 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ذرا سوچئیے………..ماحولیاتی تبدیلی…….تحریر: ہما حیات

    July 29, 2019 at 10:37 pm

    شمالی علاقے کے برف کی سفید چادراوڑھے، دلہن بنے پہاڑوں کا نظارہ کرنے کے لئے شاید میں مگن تھی لیکن بدن کو چیرتی ہوئی سردی کی لہر کو میں نے جون کے مہینے میں بھی وہاں محسوس کیا۔

    موسم سرما کا اس قدر طویل ہونا کہ گلیشئرز کے حوالے سے تو اچھی بات ہے۔ لیکن مختصر گرمی بھی ان پر کافی اثر انداز ثابت ہوا۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ اور سب سے متاثر ہونے والے شمالی علاقے ہی ہیں کیونکہ ان میں گلیشئرز موجود ہیں جو کہ گرمی کی تپش سے جلد ہی پگھل جاتے ہیں۔ ہندو راج سے لیکر ہندو کُش تک یہ تمام گلیشئرز ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ پر جن سے ہمیں سب سے زیادہ خطرہ ہیں وہ ہندو کُش کے چار نالے ہیں جو کہ آبادی سے گزرتے ہوئے دریاء تک پہنچ رہے ہیں۔ سب سے پہلا تریچ نالہ ہے۔ یہ نالہ ہندو کش سے نکلتا ہوا تریچ کی گاوں سے گزرتا ہے۔ دوسرا بِندوگول نالہ ہے جو کہ شوگرام سے گزرتا ہوا دریائے چترال میں داخل ہوتا ہے۔ تیسرا نالہ سوسوم گول ہے جو کریم آباد سے ہوتے ہوئے دریائے چترال تک پہنچتا ہے۔ چوتھا نالہ ہمارے پاس ارکاری گول ہے جو کہ ارکاری سے نکلتے ہوئے دریائے چترال تک پہنچتا ہے۔ یہ تمام نالے ایک ہی مرکز سے نکلتے ہیں لیکن انکے راستے الگ الگ ہیں۔ ان تمام کا راستہ آبادی سے گزرتے ہوئے دریاوں تک پہنچتا ہے۔

    اگر خدا نخواستہ گرمی کی شدت سے ان گلیشئیرز کے پگھلنے کی رفتار میں تھوڑا سا بھی اضافہ ہوا تو تباہی ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان نالوں کے ارد گرد جتنے بھی آبادی ہیں انہیں چاہئیے کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک چاک و چوبند رہیں۔

    چترال کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے کے لئے اس سال سیاحوں کی آمد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اکثر ہم بھی اس خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لئے دور دراز کا سفر کرتے ہیں۔ لہٰذا اب تھوڑی اختیاط کرنی چاہئے۔ سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگوں کو بھی چاہئیے کہ وہ اپنی حفاظت خود کریں۔ کیونکہ ان سیلاب والی نقصان کی ہم برپائی تو کر سکتے ہیں لیکن جانی نقصان کی برپائی نا ممکن ہے۔ اور پھر زرا سوچئیے اب وقت ہے کہ حکومت یا کسی اور ادارے سے مدد طلب کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ ہم اپنی جان کی حفاضت کو خود ہی یقینی بنائیں۔

  • error: Content is protected !!